جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جانے دے

کلام: حمود حسن مبارکپوری27 اگست، 20241,936قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وحشت جاں کو رگ و پے میں اتر جانے دے
زندہ رہنے نہیں دیتا ہے تو مر جانے دے
کیا خبر وقت کہاں روکے کدھر جانے دے
جاں سلامت ہے تو پھر حد سے گزر جانے دے
اس سے پہلے کہ چھٹے ابر تپے صحرا سے
باندھ کے بیٹھے ہیں ہم رخت سفر جانے دے
زندگی تو نے کبھی ہم سے کوئی رائے نہ لی
تجھ سے شکوے ہیں بہت خیر مگر جانے دے
عین ممکن ہے مری راہ اسی سمت میں ہو
جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جانے دے
سانحہ اس کی جدائی کا ہے مت روک
مجھے
ہاتھ سے ریت کی مانند بکھر جانے دے
شام کے رنگ سے مقتل کا گماں ہوتا ہے
ہجر زادوں کے مقدر میں سحر؟ جانے دے
وہ بھی سمجھے کبھی مفہوم خموشی کیا ہے
دھڑکنوں کو سر گفتار ٹھہر جانے دے
مجھ سے پہلے ہو مری جان تعارف تیرا
نقش اپنے تو مرے رخ پہ ابھر جانے دے
دشمنوں سے تو کوئی خوف نہیں دھوکے کا
تیر یاروں کے پس پشت اتر جانے دے
جنبش دہر نہیں جب کوئی آشوب نہیں
رائیگاں پھر یہ مرا سوز جگر جانے دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جانے دے - دی فری لانسر | دی فری لانسر