جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مکیں رہے نہ تو دل بھی کہاں مکاں سا رہا

کلام: حمود حسن مبارکپوری20 ستمبر، 20241,650قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سفر سفر نہ رہا دشت ناگہاں سا رہا
ہماری آنکھوں کے آگے دھواں دھواں سا رہا
میں اس کو دیکھ کے کچھ دیر تک رہا خاموش
پھر اس کے بعد خیالوں کا امتحاں سا رہا
کسی کے ہونے سے کھلتا ہے راز بود و نبود
مکیں رہے نہ تو دل بھی کہاں مکاں سا رہا
بس ایک لمحے کی غفلت کا یہ نتیجہ تھا
میں انتظار کی آنکھوں میں رائیگاں سا رہا
تری جدائی کے مقتل میں بچ گئی جاں جب
بدن میں روح نہ ہونے کا پھر گماں سا رہا
ہزار قسم کے غم قطرہ قطرہ جمع ہوئے
مآل غم شب فرقت میں خوں فشاں سا رہا
جگر میں درد برائے سیاہی بھرتے رہے
قلم کا حال سر صفحہ خونچکاں سا رہا
کبھی چراغ بجھا اور کبھی خزاں آئی
مزار دل میرے سینے میں بے اماں سا رہا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مکیں رہے نہ تو دل بھی کہاں مکاں سا رہا - دی فری لانسر | دی فری لانسر