لب پہ ذکر حلقۂ احباب رہنے دیجیے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی کی آنکھ میں کچھ خواب رہنے دیجیے
ہاں! دل بے تاب کو بے تاب رہنے دیجیے
زندگی میں کارہائے شوق ہونے چاہئیں
گلشن دل کو بھی کچھ شاداب رہنے دیجیے
ان کو طوفانوں سے لڑنے کا شعور آجائے گا
ناخداوں کو سر گرداب رہنے دیجیے
تشنگئ عظمت ہستی بڑھاتے جائیے
جو ابھی سیراب ہیں سیراب رہنے دیجیے
چھین لیجے مجھ سے ہر مال ومتاع زندگی
لب پہ ذکر حلقۂ احباب رہنے دیجیے
اپنی پلکوں پر، متاع گم شدہ کی یاد میں
چند آنسو صورت سیماب رہنے دیجیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





