کسی نظریے پر جب ایک عرصہ بیت جاتا ہے تو اس کے طرز تعامل میں پہلی سی بات نہیں رہتی۔یہی وجہ ہے کہ اس کی دیکھ ریکھ ضروری ہوتی ہے۔تاکہ قابل اصلاح پہلو کی مرمت ہوسکے۔مگر عمومی طور پر اکثریت یہ ضرورت محسوس نہیں کرتی۔جس کی وجہ سے نمائندہ قسم کے افراد دو خیموں میں بٹ جاتے ہیں۔ایک موجود کی مدح سرائی میں لگا رہتا ہے اور دوسرا موجود کے اعتراف کے ساتھ اس میں درآنے والی کوتاہیوں کو دور کرنے کی تگ ودو میں لگ جاتا ہے۔اگر وہ معاشرہ روبہ زوال ہے تو اس معاملے پر کھینچاتانی شروع ہوجاتی ہے ورنہ سب مل جل کر اصلاح کا کام کرلیتے ہیں۔
رفیق صاحب کے مضمون "سلفیت اپنے مداحوں اور ناقدین کے نرغے میں" پر ملاحظات کا سلسلہ جاری ہے۔زیر نظر تحریر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ایڈیٹر
محترم شیخ رفیق احمد رئیس صاحب سلفی کی ایک تحریر تقریبا دو مہینے پہلے سامنے آئی تھی۔اس کا عنوان تھا "سلفیت اپنے مداحوں اور ناقدین کے نرغے میں"۔
یاد آتا ہے کہ جب یہ تحریر فری لانسر میں چھپی اور دبستان میں اس پر بات ہوئی،
مجھے مولانا سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں۔اس لیے اس وقت اپنے تحفظات کے اظہار سے گریز کیا۔میں مولانا سے اگرچہ ذاتی طور سے واقف نہیں،
شیخ کی یہ تحریر نظر سے گزری تو تعجب اور صدمہ سے دوچار ہوا اس لیے کہ مجھے یہ تحریر مولانا کے معیار سے فروتر لگی۔ایسا احساس ہوا کہ یہ تحریر قلم برداشتہ لکھی گئی ہے،
جی چاہتاہے کہ مولانا کی باتوں کے مختلف حصوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کردوں،
سلفیت کی تعریف اور اس کا دور،
مولانا بخوبی واقف ہیں کہ آج کل سلفیت کے کئی دعویدار ہیں۔ایک تو شیخ عزام سے ہوتے ہوئے شیخ بن لادن اوران کے اتباع ہیں۔اسی مناسبت سے بہت سارے لوگ تمام جہادیوں کو سلفی قرار دیتے ہیں۔سعودیہ وغیرہ کے کچھ اخوانیت زدہ سلفی حضرات بھی ان میں شامل ہیں۔مین نے تو بعض اخوانیوں کو بھی اس کا حقیقی دعویدار پایا ہے۔
وہ سلفی حضرات بھی دعویدار ہیں جن کی نمائندگی شیخ البانی،
آیئے اب سلفیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔سلفیت کی لمبی چوڑی تعریف اور تعارف میں عقائد کا ذکر بالکل سرسری اور مجمل انداز میں کیا گیاہے،
دوسری بات یہ کہ نصوص کتاب وسنت پر عمل سلفیت کا خاصہ ہے البتہ اس پر ہمارا عمل سلف صالح کے فہم کا تابع ہوتا ہے۔ورنہ معتزلہ سے لے کر زمانہ حال کے اہل قران،
سلفیت کے ضمن میں جبر و اکراہ کا ذکر بھی جس پس منظر میں ہے وہ محل نظر ہے۔یہ تو صحیح ہے کہ انسان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا،
اب آئیے مولانا کے لمحہ فکریہ کی طرف کہ اہل حدیث علماء کی فکری موضوعات سے بے اعتنائی،
مجھے نہیں معلوم مولانا نے کس سروے اور مطالعہ پر اعتماد کرکے اتنا بڑا دعوی کیا ہے۔میں خود ہندوستان سے باہر رہتا ہوں اس لیے مولانا کے مشاہدہ کو بالکلیہ رد یا قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔تاہم جن جلسوں،
عبادت کی روح کے متعلق مولانا کا مشاہدہ ہو سکتا ہے بالکل صحیح ہو۔پر سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کا کوئی طبقہ اس مرض سے محفوظ بھی ہے۔جہالت اور بد دینی اہل حدیثوں کا خاصہ نہیں ہے۔تاہم جو لوگ کتاب وسنت کے پیرو کار ہیں ان کی حالت نسبتا بہتر ہوتی ہے اور ان کی اصلاح بھی آسان ہوگی۔
مولانا کو بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کی شکایت ہے اور بالکل بجا ہے۔(میں نے سنا ہے کہ بنگال میں اس پر ابھی بھی عمل ہوتا ہے)۔لیکن پورا معاشرہ اسی ڈگر پر چل رہا ہے تو دعا کے علاوہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پورے ہندوستان میں وراثت کا نظام ہی سرے سے مفقود ہے۔خاندانی نظام اور مشترکہ گھرانوں کا رہن سہن جن خطوط پر قائم ہے وہ خود غیر اسلامی ہے۔اس میں اہل حدیث اور غیر اہل حدیث دونوں مبتلا ہیں۔
مجھے مولانا سے اس کی بھی شکایت ہے کہ ان کے نزدیک یہ بات بھی قابل اعتراض ہے کہ اہل حدیث عوام اختلافی مسائل کے دلائل جانتے ہیں۔
یہ کون سا انصاف ہے کہ جن مسائل پر اہل حدیث ہر طرف سے ہدف ملامت بنائے جاتے ہیں،
اب آئیے سلفیت اور سعودیہ کا تعلق بھی دیکھ لیں۔مولانا کا دعوی ہے کہ سو سال سے "عالمی سلفیت نے سعودی عرب اور اس کے نظام کو آئیڈیل بنا رکھا ہے"۔
جی ہاں مولانا نے یہی کہا ہے،
میرے لیے تو یہ بات ہی باعث حیرت ہے کہ اہل حدیث سعودی عرب کو سلفیت کا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ اہل حدیث علماء اور عوام نے 1924 سے سعودی حکومت کی ہر ممکن مدد کی۔سلطان عبد العزیز نے اکثر علماء سے تعلق پیدا کیا،
مگر سب جانتے تھے کہ دونوں میں عقیدہ کا اشتراک تو ہے اور فقہ حنبلی جو فقہ اہل الحدیث ہی کا حصہ ہے،
آل سعود سےخاندان غزنویہ کا تعلق مثالی رہا ہے۔لیکن اخبار توحید اور اخبار اہل حدیث امرتسر کی فائلیں گواہ ہیں کہ جب امریکن کمپنی کو ٹھیکہ دینے کی بات آئی،
اہل حدیث سعودیہ کی حمایت اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ان سے پہلے حرم مکہ ومدینہ میں اہل حدیثوں کا کیا حال تھا۔یہ تکلیف دہ داستان پھر کبھی۔
دوسری بات یہ ہے کہ بہت سارے طلباء سعودی یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں،
مولانا اخبارات میں قرار داد مذمت چھاپ کر،
لگے ہاتھوں مولانا کی نظر میں سعودیہ کی بعض ناقابل تلافی غلطیوں اور خامیوں پر بھی نظر ڈال لیں کہ مسلمانوں کے معاملہ میں اس نے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی ہے۔سعودیہ میں باہر کے عمال کے ساتھ انصاف کا معاملہ نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ
مولانا مہربانی ہوتی اگر ان ممالک کی تفصیل بھی بتا دیتے جو یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔دوسری بات یہ بھی کہ سعودی حکومت کی حرم کی پاسبانی کی مدت تو 100 سال سے بھی کم ہے۔اس سے پہلے عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ہی سے مکہ مدینہ کی حالت کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں تھی۔فاطمی دور سے لے کر تقریبا سن 850 ھجری تک تو شیعہ گھرانے ذمہ دار رہے ہیں۔مکہ مدینہ اور اس کے مکین تو صرف صدقہ اور خیرات کے مصرف تھے۔کس دور میں اشراف مکہ یا مدینہ کی یہ پوزیشن تھی کہ وہ عالم اسلام کے محافظ ہیں۔بینوا توجروا۔جب پوری تاریخ میں ایسا نہیں ہوا تو اب یہ مطالبہ کیوں۔
تقريبا 1960 یا اس سے کچھ پہلے سعودیہ مالی طور سے خود کفیل ہونے لگا اور پھر تیل کی آمدنی سے دنیا کے مالدار ملکوں میں شامل ہوگیا۔اس وقت سے مسلم ممالک اور مسلم کاز میں جتنا کچھ سعودیہ نے کیا،
مزدوروں کے ساتھ معاملہ بھی عجیب ہے۔دولت کی ریل پیل کے ساتھ وہاں مختلف مشاریع پر کام کرنے کے لیے مزدوروں کی ایک فوج آگئی۔بلامبالغہ ہند وپاک،
پانچ چھ ملین مزدوروں میں کچھ کو مشکلات کا سامنا ہے۔تو کیا بڑی بات ہے۔اور اس میں سلفیت کا کیا قصور ہے۔اقامہ کا نظام یہ ہے کہ کفیل عامل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔تقصیر کی صورت میں اس سے ڈیلنگ کا بھی انتظام ہے۔مزدوروں کے سفارت خانے ان کے حقوق پر نظر رکھتے ہیں۔پھر غلط کار کس ملک میں نہیںہوتے۔سوال یہ ہے کہ اس میں سلفیت کا کیا قصور۔
اب آئیے سلفیوں کی سب سے بڑی خامی کی طرف جن کو "الہیات کے تراشیدہ لات ومنات" سے تعبیر کیا گیا ہے۔مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس عنوان اور لات ومنات کی پھبتی سے ہوئی ہے۔یہی نہیں پھر یہ لکچر بھی کہ اس سعی لاحاصل سے کیا فائدہ۔اب کوئی اس کا ماننے والا ہی نہیں۔واقعی! کتنا بڑا انکشاف مگر افسوس ہم جیسے کم علم بے خبر ہی رہے۔
امام احمد کا فتنہ خلق قرآن کا مقابلہ کرنا اور پھر اس کے متعلقات،
مگر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالی کی صفت کلام کا انکار کیا ہے یا اشاعرہ ماتریدیہ کی طرح اس کا اقرار کیا ہے مگر اس کو قدیم اور کلام نفسی سے تعبیر کرتے ہیں جس میں نہ صوت ہے نہ حرف نہ اس کی کوئی لغت ہے۔موسی عیسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کو ایک متصل اکائی قرار دیتےہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالی کا ڈائرکٹ کلام نہیں،
اسماء وصفات کے مسئلہ کو بعض الفاظ کے مستند لغوی استعمال سے الجھانا بھی عجیب رویہ ہے۔صفات کے مسئلہ میں امام مالک سے لے کر تمام ائمہ کا مسلک متفقہ ہے۔اس سے تجاوز آدمی کو سلف کے راستہ سے الگ کردیتی ہے۔
دوسری بات جو میں کہنے جارہا ہوں۔ڈر لگتا ہے کہ چھوٹا منہ بڑی بات ہوگی مگر اس کے بغیر چارہ بھی نہیں۔
ہمارے علماء کرام کے یہاں عقیدہ سلف کی طلب تھی اور تلاش بھی مگر ابتدائی عقیدہ کی کتابیں دستیاب نہیں تھیں۔یہاں تک کہ ابن القیم اور ابن تیمیہ کی کتابیں بھی بہت بعد میں محدود حلقہ تک پہنچیں۔ہمارے نظام تعلیم میں عقیدہ نسفیہ وغیرہ بطور مقرر پڑھائی جاتی تھی۔اشاعرہ اور ماتریدیہ کی تمام ہی کتابوں میں سلف کا مسلک تفویض بتایا جاتا تھا۔پھر بیہقی اور خطابی جیسے محدثین اشعریت کے مناد تھے تو ابن حزم جہمیت کے داعی۔ابن حجر اور نووی بھی بسا اوقات اشعری تاویل کو نقل کرتے تھے۔ان کتابوں میں جس کو سلف کا مسلک بتایا جاتا تھا اس کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔
مولانا امرتسری نے تاویل کا مسلک انہی لوگوں سے اخذ کیا تھا۔یہی وجہ تھی حافظ غازیپوری،
لیکن جن علماء کو سلف کی کتابیں مل چکی تھیں جیسے علماء غزنویہ وہ مولانا کے موقف کے شدید مخالف تھے۔یہ تو مقطع کی سخن گسترانہ بات تھی۔
مولانا نے جن کتابون کا تذکرہ کیا ہے اس کے علاوہ ایک کتاب میں تحفة الأحوذي دوسری کتاب میں عون المعبود اور مجھے بتایا گیاہے کہ ایک مستقل کتاب میں مرعاة المفاتیح میں عقیدہ کے مسائل میں غلطیوں کی نشاندہی کی گئیہے۔
جن لوگوں نے نشاندہی کی ہے انھوںنے صرف کلام اور اس کے متعلقات پر بات نہیں کی ہے۔بلکہ اسماء اور صفات کے مسئلہ پر اہل سنت اور سلف کے عقیدہ پر بات کی ہے۔اس طرح اسماء اور صفات کے سلسلہ میں ان کتابوں میں جو کچھ لکھا گیاہے،
اسماء اور صفات پر ایمان ہمارے عقیدہ کا حصہ ہے۔ان اسماء یا صفات کی دور ازکار تاویل اشاعرہ اور ماتریدیہ کا موقف ہے۔مثلا اللہ تعالی کی صفت "ید" یا تو بغیر معنی کے خالی خولی لفظ ہے یا یہ بمعنی "قدرة" ہے،
آیئے اللہ رب العزت کے اسماء وصفات کے مسئلہ پر ایک نظر اور ڈال لیں۔
میں انتہائی عاجزی سے مولانا سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی تحریر میں "الہیات کے تراشیدہ لات ومنات" کی عبارت:"سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ آج بھی ان مباحث اورمسائل پر گفتگو کی جاتی ہے الخ-سے لے کر اپنی عبارت کے: "۔۔۔دور حاضر کے مصنفین کی تحریروں میں تاک جھانک کرنا اور اسے منہج سلف کے خلاف کہہ کر عوام کو گمراہ کرنا کہاں تک درست ہے"،
مولانا اس کو علمی خدمت یا عقیدہ کی گمراہی پر تنبیہ کے بجائے "دینی اداروں میں منافرت اور مخاصمت کا ادنی نمونہ" قرار دے رہے ہیں۔
مولانا سے بہتر اس بات کوکون جانتا ہوگا کہ سلف کے نزدیک اسماء اور صفات میں فرد کارویہ ہی ولاء و براء اور اہل سنت میں انتساب وعدم انتساب کی بنیاد تھا۔
امام احمد سے بہت پہلے یہ بات مسلم تھی۔بقول صاحب الفرق بین الفرق: جعد بن درہم پہلا شخص ہے جس نے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کیا تھا۔اسی جرم کی پاداش میں اس کو اموی گورنر خالد القسری نے سن 106-110ھ کے بیچ میں کسی وقت قتل کیا تھا۔پھر یہی قول جس کو تعطیل کا نام دیا گیا جہم بن صفوان نے اپنا لیا۔جس کو سن 128سے 132 ہجری تک کسی وقت قتل کردیا گیا۔اعتزال کی بنیاد واصل بن عطاء (م 131 ھ) نے حسن بصری (م 110 ھ) کی زندگی میں رکھی تھی۔اس گروپ نے بھی تعطیل صفات باری کو اپنا بنیادی عقیدہ بنا لیا۔انکار اسماء وصفات کو جہم سے مختلف واسطے سے بشر بن غیاث المریسی (م 218 ھ) نے قبول کرکے بعض عباسی خلفاء کی مدد سے پوری امت پرمسلط کرنا چاہا۔صفت کلام کو لے کر خلق قرآن کا مسئلہ پیدا ہوا تو امام احمد نے اس کا اعلانیہ مقابلہ کیا۔
لیکن اسماء وصفات کے اثبات کا عقیدہ تو اس سے بہت پہلے سے موجود تھا۔اس کی ابتدا کے وقت سے ہی ائمہ نے اس موقف کو رد کردیا تھا۔امام مالک کا مشہورقول:" الاستواء معروف،
اشاعرہ اور ماتریدیہ نے سلف اور معتزلہ کے درمیان کا راستہ نکالنا چاہا۔حيات،
جو علماء مسلک سلف پر تھے خاص کر حنابلہ ان سب نے "اثبات دون تشبیہ ولا تمثیل" کا قدیم موقف ہی اختیار کیا۔(حنابلہ تو عقائد میں سلفی ہیںہی،
اس عقیدہ کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہی اہل سنت اور فرق باطلہ کے درمیان حد فاصل ہے کیونکہ یہی قاعدہ شیعہ،
اہل سنت کا موقف ابتدا سے گمراہ فرقوں کے خلاف سخت رہا ہے،
اب تو نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔شیعہ نہ صرف ایران بلکہ شام اور کسی حدتک لبنان اور یمن میں قابض ہیں،
کسی کو خبر ہو یا نہ ہو آج ازہر اور دیوبند کی معاونت اور صوفیاء کی شرکت سے اشعریت اور ماتریدیت کے پرانے مسائل کی ترویج ہورہی ہے۔سلف کے مسلک کو عمدا تفویض قرار دے کر اثبات کو تجسیم کا ہم پلہ قرار دیا جاتاہے۔اس طرح اشعریت اور ماتریدیت کو اصل اسلام کے نام پر پیش کیا جارہا ہے۔ایسے وقت میں کسی اہل حدیث کا ان اصولوں سے انحراف یقینا خوش آئند نہیں۔
محترم رفیق صاحب کی تحریر پرگفتگو طویل ہوگئی،
دہلی کا مولانا نے نقشہ کھینچا ہے کہ جس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی قبضہ کر رہی تھی دہلی میں امتناع النظیر پر بحث ہورہی تھی۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں سلفیوں کا کیا اور کتنا قصور ہے،
علامہ شہید کی پیدائش 1781،
دوسری بات یہ کہ مسئلہ امتناع النظیر تقویة الایمان لکھے جانے کےبعد یا اس کےنتیجہ میں سامنے آیا،
مناظرے،
مولانا نے غالبا مباہلہ سے مراد مرزا غلام احمد کا 1907 والا اشتہاراور 1908 میں اس کی وفات مراد لی ہے۔خیر یہ مباہلہ نہیں مرزا کی یک طرفہ دعا تھی۔مباہلہ تو اس نے صرف ایک بار مولانا عبد الحق غزنوی سے کیا تھا۔یہ دعا آج بھی قادیانیوں کے خلاف سب سے مہلک ہتھیار ہے۔قادیانیت آج بھی ہے،
حال کا ماتم کیجیے مستقبل کی ترتیب نہ ہونے پر سینہ کوبی کیجیے لیکن للہ ان بزرگوں کو بخش دیجیے جنھوں نے اپنا سب کچھ لگا دیا۔
مولانا کچھ لوگ مناظرہ کررہے تھے،
میں شہیدین کی تحریک پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا اپنوں اور غیروں کی شہادتیں موجود ہیں کہ اس تحریک نے کیا کیا۔پر یہ تو کہہ ہی سکتا ہوں کہ سید احمد شہید کی تحریک پر یہ پھبتی بہت پرانی ہے کہ "فیل" ہوگئی۔ہوسکتا ہے کہ ولایت اور عنایت علی کے بعد عسکری طور سے یہ تنظیم کارگر نہ رہی ہو،
انکار حدیث پر مولانا کا طعنہ اپنی جگہ پر مگر کیا جو کچھ ہوا ہماری تقصیر کے نتیجہ میں ہوا ہے یا اس کے اور بھی اسباب ہوسکتے ہیں۔یقینا اس پر کام کرنا چاہیے مگر یہ کام علی گڑھ سے ہو تو چار چاند لگ جائیں۔
یہ میری چند گزارشات تھیں جو قلم برداشتہ لکھ دی گئیں۔مقصود نہ کسی پر نقد ہے نہ تنقیص صرف یہ چاہتا ہوں کہ مسائل منقح ہوجائیں۔اللہ رب العزت اخلاص عطا فرمائے۔





