جو بات لب پہ نہیں آئی وہ جگر میں ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نمی دیوار میں خانہ خرابی در میں ہے
عجیب درد کا موسم ہمارے گھر میں ہے
خبر نہیں ہے اسے یہ کہ وہ خبر میں ہے
وہ شخص دل میں نہیں ہے مگر نظر میں ہے
اگر چہ جسم ہے منزل کی خواب گاہوں میں
مگر یہ روح ترے عشق کے سفر میں ہے
میں خوش نہیں ہوں مگر مسکرا کے دیکھتا ہوں
فریب خوردگی کتنی مرے ہنر میں ہے
اسی کے بس میں ہے حرف و حکایت غم دل
جو جوئے خوں تہہ اظہار چشم تر میں ہے
متاع دل بھی لٹی اور متاع جاں بھی گئی
اب اس کے بعد بھلا اور کیا بشر میں ہے
میں قافلے سے جدا ہوگیا تو کیا غم ہے
کہ میرے ساتھ مرا سایہ رہ گزر میں ہے
کسی پہر بھی نہیں دل کی حالتوں کو قرار
شب فراق جو غم تھا وہی سحر میں ہے
خموشیوں سے فقط غم غلط نہیں ہوتے
جو بات لب پہ نہیں آئی وہ جگر میں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





