ہر طرف دشت دیکھتا ہوں مَیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رہ گیا خود میں اک ذرا ہوں مَیں
تجھ سے کتنا بھرا ہوا ہوں مَیں
کس جہاں سے گزر رہا ہوں مَیں
ہر طرف دشت دیکھتا ہوں مَیں
غیر معروف ہوں طبیبوں میں
ایک بیمار کی دوا ہوں مَیں
وہ نئی منزلوں کا راہی ہے
اور پامال راستا ہوں مَیں
میری دیوانگی فضول نہیں
تیرے جلووں سے آشنا ہوں مَیں
آج بھی تم نے ٹھیک پہچانا
آج بھی شاد بے نوا ہوں مَیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





