جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ماضی تمنائی کی بات

کلام: حاتم اسفرازی1 مارچ، 20252,131قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عشق پر چھائی ہوئی وہ ایک پرچھائی کی بات
یعنی آ مل کر کریں ہم قیس لیلائی کی بات
خون کے رشتے کی سچائی کا اندازہ ہوا
ایک بھائی سے سنی جب دوسرے بھائی کی بات
آبلہ پائی کے شکوے پر کہا نادان ہو؟
اور پھر کرنے لگے وہ قیس صحرائی کی بات
حال و مستقبل تھے لیکن بے بسی کے جرم میں
ہم ہوئے اُن کے لیے ماضی تمنائی کی بات
آج کل بس اِس طرح تم یاد آتے ہو ہمیں
موسمِ سرما میں جیسے جون، جولائی کی بات
ہجر کی صورت ملی حاتؔم کتابِ عشق میں
مزرعِ غم، اشکِ باراں، تخمِ تنہائی کی بات
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ماضی تمنائی کی بات - دی فری لانسر | دی فری لانسر