جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہر ایک گتھی سلجھ جو جائے تو نیند آئے

کلام: عبدالکریم شاد6 مارچ، 20251,256قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مقام بدلیں غموں کے سائے تو نیند آئے
کوئی ردائے سکوں اڑھائے تو نیند آئے
یہ بارِ ہستی، یہ ناتوانی، یہ فکرِ فردا
کوئی مرا سر جو تھپ تھپائے تو نیند آئے
بھری ہے تاروں سے رات لیکن کمی ہے کوئی
وہ چاند اپنی جھلک دکھائے تو نیند آئے
گزرتے رہتے ہیں میری آنکھوں سے خواب کتنے
کسی سے رشتہ قرار پائے تو نیند آئے
خلل کی زد میں ہوں اس کے گریے سے رات بھر مَیں
کوئی جو بستر کو چپ کرائے تو نیند آئے
کبھی تو چھت مجھ سے اپنی غم گیں نظر ہٹائے
کبھی یہ دیوار مسکرائے تو نیند آئے
کئی سوالوں نے میری نیندیں اڑا رکھیں ہیں
تمھارا کوئی جواب آئے تو نیند آئے
دماغ و دل میں چھڑی ہوئی ہیں ہزار بحثیں
ہر ایک گتھی سلجھ جو جائے تو نیند آئے
جگائے رکھتی ہے تیرے آنے کی آس مجھ کو
اب آس ٹوٹے کہ موت آئے تو نیند آئے
بدلتے رہتے ہیں کروٹیں ہم ہزار لیکن
دِوانہ دل کچھ قرار پائے تو نیند آئے
وہ جس کے پہلو کی یاد آتی ہے شام ڈھلتے
خیال اس کی طرف نہ جائے تو نیند آئے
وہ روشنی ہے کہ آنکھ میں تیر چبھ رہے ہیں
چراغِ ماضی کوئی بجھائے تو نیند آئے
یہ کیا خموشی نے شور برپا کیا ہوا ہے
جو شاد اپنی غزل سنائے تو نیند آئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہر ایک گتھی سلجھ جو جائے تو نیند آئے - دی فری لانسر | دی فری لانسر