جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

عید کا تحفہ

کلام: منصور ذکی26 مارچ، 20252,085قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
چاند رات آئی، خوشی کا لائی یہ پیغام ہے
جگمگائے بام و در، خوشیوں کا جلوہ عام ہے
میری خاطر غم کی تاریکی میں ڈوبی شام ہے
کم ہی ہوتے، پے بہ پے گر آتے مجھ پر حادثات
ہے قیامت، ناگہانی میرے ابو کی وفات
پھر مزید اس پر ستم، یہ رات بھی ہے چاند رات
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، دل نہیں کرتا یقیں
میرے ابو سو رہے ہیں، ان کا یہ لاشا نہیں
آنکھ کھولیں گے ابھی، چومیں گے وہ میری جبیں
میں تو ابو کے لیے تحفہ سجا کے لایا تھا
میرا دل قدموں سے پہلے گھر کو بڑھتا جاتا تھا
کیا خبر تھی، منظر ایسا آنکھوں میں بھر جانا تھا
ہاتھ میں لرزا ہوا، تحفہ زمیں پر گر پڑا
اشک جاری ہوگئے، ماضی کا منظر تھا کھڑا
اپنے بچپن سے تھا مجھ کو ناز ابو پر بڑا
ابو کا وہ عیدی دینا خوش وہ ہوجانا مرا
دوستوں کو عیدی دکھلا کر وہ اترانا مرا
بچپنے سے پھر لڑکپن تک پہنچ جانا مرا
تھوڑی سی عیدی سے اب مجھ کو تسلی تھی کہاں
بڑھ گئیں فرمائشیں، بڑھ بڑھ گئیں بے باکیاں
کب یہ سوچا، کس طرح ابو کھپاکر جسم و جاں
دھوپ میں جھلساکے خود کو، خواب اپنے بیچ کر
کچھ کماکر لوٹتے ہیں تب کہیں واپس وہ گھر
تب گزرتے ہیں خوشی سے اپنے یہ شام و سحر
وقت گزرا، رفتہ رفتہ عقل کے تالے کھلے
جب پسینے میں نہا دھوکر کمائے دو ٹکے
تب سمجھ آیا کماتے کیسے تھے ابو مرے
یہ کمانا تو نہیں ہے، خون دل کی ہے کشید
سو تہیہ کرلیا اس بار جو آئے گی عید
پیش ابو کو کروں گا میں کوئی تحفہ فرید
لیکن اب آئی جو عید ابو کی جاں ہی لے گئی
بھر نہیں سکتا کبھی، وہ زخم دل کو دے گئی
گھر ہے ویراں، گھر کی رونق، ہائے رے! گھر سے گئی
میرے ابو، کیا ہلال عید، کیا اس کی ہے دید
آپ ہی کی دید سے ہے عید، فرحت کی نوید
آپ ہی ہیں میری عیدی آپ ہی ہیں میری عید
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

عید کا تحفہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر