دھیرے دھیرے نکل رہا ہے دل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لگ رہا ہے سنبھل رہا ہے دل
کیا کوئی چال چل رہا ہے دل
پھر پریشان ہے دماغ مرا
پھر محبت میں ڈھل رہا ہے دل
رفتہ رفتہ اکھڑ رہی ہے سانس
دھیرے دھیرے نکل رہا ہے دل
ہر نظارے سے لڑ رہی ہے نظر
ہر قدم پر پھسل رہا ہے دل
وصل کی شام اور مت تڑپا
صبح سے ہی اچھل رہا ہے دل
اور کچھ دیر دیکھتے رہیے
لگ رہا ہے پگھل رہا ہے دل
ذہن میں چل رہا ہے جانے کیا
دیکھ کیوں کر مچل رہا ہے دل
آ رہی ہے مری طرف دنیا
اور پہلو بدل رہا ہے دل
جانتا ہوں کہ سب کھلونے ہیں
شاد پھر بھی بہل رہا ہے دل
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





