اور ہے ترک وفا اور وفا اور ہی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حسن کچھ اور ہے عاشق کی ادا اور ہی ہے
اور ہے ترک وفا اور وفا اور ہی ہے
پہلے آیا نہ رفو کاری وحشت کا خیال
اب تو تن پر دل وحشی کے قبا اور ہی ہے
ظلم کرتے ہوئے دنیا میں نہ شرماتے تھے
آج محشر میں تغافل کی ادا اور ہی ہے
پا بہ زنجیر ہیں عشاق بہ صد شوق و جنوں
کنج زندان میں چھن چھن کی صدا اور ہی ہے
ان کو شکوہ تھا سو لب سی لیے طوعا ہم نے
بول اٹھے ہیں تو پھر حشر بپا اور ہی ہے
اب نہ رکھنا کوئی امید ہمارے دل سے
پھول ہوتا تھا وہ یہ سنگ نما اور ہی ہے
شمع کو چھوڑ کے پروانے کہاں جاتے ہیں
ہست اسباب بقا پر بھی فنا اور ہی ہے
کچھ غنیمت تھے وہ جب تک نہ ملے تھے ہم سے
سادگی دیکھ لی، اب طرز جفا اور ہی ہے
غم کہ پاداش محبت میں نکھرتا ہی رہا
جرم تنہائئ ہجراں کی سزا اور ہی ہے
داغ فرقت کے جلو خانے میں تنہا تنہا
دھن پہ آہوں کی قضا نغمہ سرا اور ہی ہے
شعلۂ دل سے پرے سوز دروں سے آگے
تیرا سایہ ترے ہونے کا پتا اور ہی ہے
یوں تو ہر آہ پہ ہے ناخن ہو کا پہرہ
ماتم ہجر میں دل نالہ رسا اور ہی ہے
میرے ہاتھوں میں حسن رہتی ہے خوں کی سرخی
اچھی قسمت سے لکیروں کو حیا اور ہی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
م
محمد عمر سلفی حیدرآباد
10 اپریل، 2025ماشاءاللہ بہت خوب





