بکھر بکھر کے سنواری ہے زندگی ہم نے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عجب طرح سے گزاری ہے زندگی ہم نے
پہن پہن کے اتاری ہے زندگی ہم نے
سزائے موت بھی کیا انتقام ہے کوئی
عدو کو پھینک کے ماری ہے زندگی ہم نے
کسی کے دل میں، کسی کی نظر میں آ نہ سکی
کہاں کہاں نہ پساری ہے زندگی ہم نے
تمام عمر پروتے رہے حسیں موتی
بکھر بکھر کے سنواری ہے زندگی ہم نے
بھٹک رہی تھی زمانے سے موت بے چاری
یوں ہی نہیں کوئی ہاری ہے زندگی ہم نے
گزر رہے ہیں حوادث مزے سے چکھتے ہوئے
بہ اہتمام بگھاری ہے زندگی ہم نے
پتا چلا کہ اجل آ رہی ہے سج دھج کر
پھر اس کے بعد ابھاری ہے زندگی ہم نے
وہی جو دشت میں اب تک نظر نہیں آیا
اسی غزال پہ واری ہے زندگی ہم نے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





