جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بھیڑ کے بیچ نظر آتا ہے ویرانہ مجھے

کلام: عبدالکریم شاد2 مئی، 20251,576قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
در و دیوار سمجھنے لگے دیوانہ مجھے
مرے آئینے نے بھی آج نہ پہچانا مجھے
ایک لمحے کے لیے حسن کا دیدار ہوا
عمر بھر بھرنا پڑا عشق کا جرمانہ مجھے
شہر سے لوٹ کے آؤں کہ کسی صحرا سے
تیرا پہلو ہی نظر آتا ہے کاشانہ مجھے
میں سمجھتا رہا ہر حال میں اپنا تم کو
تم سمجھتے رہے ہر رنگ میں بے گانہ مجھے
ہنسنا چاہوں تو کوئی اور ہنسے میرے ساتھ
رونا چاہوں تو میسر ہو کوئی شانہ مجھے
شہر کے شور میں مدفون کوئی خاموشی
بھیڑ کے بیچ نظر آتا ہے ویرانہ مجھے
اس طرح ختم ہوئی باہمی بحث و تکرار
میں نے لوگوں کو کہا لوگوں نے دیوانہ مجھے
میں نے کیا کیا نہ کیا شاد نبھانے کے لیے
یہ جہاں راس کسی طور بھی آیا نہ مجھے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بھیڑ کے بیچ نظر آتا ہے ویرانہ مجھے - دی فری لانسر | دی فری لانسر