شمار جاں سے نکل روح کی قطار میں آ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دروں میں پھیل خود آگاہئ حصار میں آ
شمار جاں سے نکل روح کی قطار میں آ
یہ کائنات کی تنگی کہاں تک اے غم دل
کبھی تو زیر زمیں وسعت قرار میں آ
کوئی بھی شے ہو مری دسترس میں کچھ بھی نہیں
سو کم سے کم مرے دل تو تو اختیار میں آ
یوں آ کہ آنے پہ محسوس ہو کہ آیا ہے
شب فراق میں آ کرب انتظار میں آ
بجھے دنوں کا مداوا تو یہ نہیں پھر بھی
بیاد رنگ شکستہ بھری بہار میں آ
رہ سیہ میں ہے سنگ جنوں کو سر درکار
متاع گل! جسد شعلۂ و شرار میں آ
کھلیں گے شہرت داغ جنوں کے راز سبھی
شب فراق قفس ہائے دل فگار میں آ
نہ مل سکے کوئی تعبیر تو رہوں مدہوش
حقیقتوں سے پرے خواب کے خمار میں آ
میں خود کو خاک بنا لوں بنام شوق سفر
وہ یہ بھی کہہ دے اگر پیکر غبار میں آ
اگر چہ نیک نہیں پر وہیں ملوں گا تجھے
تلاش کرتے ہوئے حلقۂ خیار میں آ
مثال گور غریباں ظہور ہے اپنا
چراغ کشتہ جہاں ہو اسی دیار میں آ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





