کب تک انھیں سراب دکھاتے رہیں گے ہم
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یوں ہی بجھے چراغ جلاتے رہیں گے ہم
ہر شب ترا فراق مناتے رہیں گے ہم
بیٹھے رہیں گے روز ترے انتظار میں
تنہائیوں کی بزم سجاتے رہیں گے ہم
زخموں کو ناخنوں سے کریدیں گے بار بار
خود کو تمھاری یاد دلاتے رہیں گے ہم
جب تک نظر ہے تکتے رہیں گے تمھاری راہ
جب تک زباں ہے تم کو بلاتے رہیں گے ہم
کرتے رہیں گے محفل یاراں میں تیرا ذکر
خلوت میں دل کو روتے، رلاتے رہیں گے ہم
آنکھوں کی پیاس خاک بجھے گی ترے بغیر
کب تک انھیں سراب دکھاتے رہیں گے ہم
ہم کوہ کن نہیں جو زمانے سے ہار جائیں
مجنوں ہیں یوں ہی خاک اڑاتے رہیں گے ہم
تم کو ہمارے شوق کا کوئی خیال ہے
کب تک تمھارے ناز اٹھاتے رہیں گے ہم
تو لاکھ سج سنور کے ہماری گلی میں آئے
دنیا ترا مذاق اڑاتے رہیں گے ہم
ہنستے رہیں گے ہم پہ ستم پرورِ جہاں
خاموشیوں کے شور مچاتے رہیں گے ہم
نوحہ سمجھ کے دیتے رہیں گے وہ ہم کو داد
افسردہ غزلیں شاد سناتے رہیں گے ہم
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





