جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تھا یقیں جس پر بہت وہ چارہ گر بیمار ہے

کلام: حمود حسن مبارکپوری3 اگست، 20251,638قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کم سے کم تھوڑی بہت تو فرصت گفتار ہے
وہ پری پیکر اگرچہ پیکر پندار ہے
گو کہ چارہ جو مرا ہر طرح سے تیار ہے
دل کو آرام جنوں سے اب مگر انکار ہے
مشکلیں جانے میں ہیں اور آنا بھی دشوار ہے
کوچۂ جاناں سے پہلے کوچۂ اغیار ہے
کیا علاج غم، شفا کی آس اور امید کیا
تھا یقیں جس پر بہت وہ چارہ گر بیمار ہے
آخرش آیا سمجھ تعمیر تنہائی کے بعد
دل کی دنیا ہی جہاں میں مونس و غمخوار ہے
موج نکہت کھینچتی ہے دم بہ دم سوئے چمن
باغباں کا حال لیکن بر سر بازار ہے
خوش نما منظر میں بھی کوئی کشش باقی نہیں
معذرت اے حسن جاناں دل بہت بے زار ہے
فرط غم سے ربط جسم و جاں بھی اب باقی نہیں
وحشت دل سے گریزاں دیدۂ خونبار ہے
ان سے قربت کا عمل ٹھہرے کبھی ممکن نہیں
ہے دماغ اپنا اگر ثابت تو دل سیار ہے
اشک، وحشت، خامشی، تنہائی اور بے تابیاں
آدمی میں غم کی کتنی قوت اظہار ہے
موت آتی تو نہیں پر آہی جائے گی کبھی
خوگر انکار میں بھی خوبئ اقرار ہے
وصل کو موت آئی تو وحشت نے بتلایا حسن
آپ کے حق میں لکھی ارث در و دیوار ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تھا یقیں جس پر بہت وہ چارہ گر بیمار ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر