مناجات
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہونٹوں کو رمز، اشکِ رواں کو زبان دے
آنکھیں مری نماز پڑھیں، دل اذان دے
پہچان لیں مجھے سرِ محشر مرے نبی
چہرے پہ تابناک وضو کے نشان دے
مانا مرے گناہ پہاڑوں سے ہوگئے
اپنی عنایتوں کی ردا سر پہ تان دے
پھولوں سے میری زندگی مہکی رہے سدا
کانٹوں سے میرے دامنِ دل کو امان دے
ایسا دماغ دے جو تجھے سوچتا رہے
تیرا ہی ذکر کرتی رہی وہ زبان دے
گلزار ہو کہ دشت کہیں بھی سکوں نہیں
سکھ چین ہو جہاں مجھے ایسا مکان دے
تو جیسا چاہتا ہے اسی رنگ میں رہوں
میرا وجود دین کی چھلنی سے چھان دے
اب تک درِ جزا پہ نہ پہنچے مرے قدم
جسمِ جنوں کو مت ابھی اذنِ تکان دے
جب مصلحت ہو ضبط کی توفیق دے حلیم!
جب بولنا پڑے مجھے زورِ بیان دے
پیروں کو میرے چال صحابہ کی ہو عطا
ہاتھوں میں مجھ کو طرزِ نبی کی کمان دے
تیرے ہی در کی خاک میں لپٹی رہے جبیں
میرا سراپا اپنی محبت میں سان دے
دنیا کو بیچ بیچ کے عقبی خرید لوں
تاجر بنا کچھ ایسا کچھ ایسی دکان دے
ہر بار تیرے بابِ اثر تک پہنچ سکیں
یا رب! مری دعاؤں کو ایسی اڑان دے
میدانِ کارزار میں اترا ہے تیرا شاد
فاتح بنا اسے کہ شہیدوں کی شان دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





