دھوتے نہیں کبھی کسی مجنوں کے داغ لوگ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
معلوم کر نہ پائے بقا کا سراغ لوگ
بس دیکھتے دکھاتے رہے سبز باغ لوگ
ہم کشتیِ جنوں سے کہاں تک پہنچ گئے
ساحل سے دیکھتے رہے حاضر دماغ لوگ
رکتی نہیں کسی کے لیے وقت کی ہَوا
جل بجھ کے ختم ہو گئے کتنے چراغ لوگ
سنتے سناتے رہتے ہیں سب داستانِ عشق
دھوتے نہیں کبھی کسی مجنوں کے داغ لوگ
معلوم ہے کہ زہر ہے مے میں ملا ہوا
پھر بھی نہیں ہٹاتے لبوں سے ایاغ لوگ
مل جائے چار دن کے لیے دانۂ قفس
طوطے کی مثل بولنے لگتے ہیں زاغ لوگ
دو چار شعر کیا ہوئے موزوں کسی طرح
خود کو گمان کرنے لگے میر و داغ لوگ
شاد ایسے شاد کام کی غم ناک شاعری
اس پر بھی تبصرہ کریں حاضر دماغ لوگ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





