اصول اور مفادات کے تصادم میں عموما پہلے مفادات کی جیت ہوتی ہے،
مفادات حالات کے تابع ہوتے ہیں،
اصولوں پر قائم رہنے کے لیے ایمان و یقین کے ساتھ جس صبر وشکر کی ضرورت پڑتی ہے،
ابناء قدیم یا ابناء جامعہ کے نام پر جو سرگرمیاں ہوتی ہیں وہ اکثر انارکی پیدا کرتی ہیں،
یہ شناخت رفتہ رفتہ مفادات کی اسیر ہوجاتی ہے،
اس انتشار سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ابناء جامعہ ایک شعبہ ہو جامعہ میں،
ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے پہلے ملتقی خریجین کی مناسبت سے یہ جو ابناء و ذمہ داران جامعہ کے نام چند گزارشات لکھی ہیں وہ اس ملاقات کو مفید سے مفید تر بنانے کی ایک اچھی کوشش ہے۔
یوں تو یہ گزارشات جامعہ محمدیہ کے لیے ہیں مگر دوسرے جامعات بھی ان خطوط پر عمل پیرا ہوکر اپنے ابناء سے ایک خالص علمی نسبت کو نہ صرف زندہ کرسکتے ہیں بلکہ باہمی تعلقات کو انتہائی نفع بخش بھی بنا سکتے ہیں۔(ایڈیٹر)
کسی بھی جامعہ کے ابناء اس کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔اس کے فارغین اس کا حقیقی ثمرہ ہوتے ہیں۔ادارہ کے اہداف ومقاصد کس حد تک پورے ہو رہے ہیں یہ وہی فارغین طے کرتے ہیں۔سچے اور اچھےفارغین در اصل اپنے اداروں کے لیے وہ شفاف آئینہ ہوتے ہیں جس میں ادارہ کے خد وخال بالکل صاف اور واضح نظر آتے ہیں۔یہ اپنے اپنے اداروں کے حقیقی سفراء اور سچےپیامبر ہوتے ہیں۔سلیم فطرت اور وفا شعار ابناء کی اپنے جامعہ سے محبت اور اس محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا جذبہ ضرب المثل ہوتاہے۔اپنے اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لیے جو محبت ان کے دلوں میں ہوتی ہےعموماً وہ دوسروں کے دلوں میں نہیں ہوتی۔اپنے اداروں کے وہ سچے خیر خواہ اورمخلص بہی خواہ ہوتے ہیں۔ایک ادارہ کا باشعور،
انہی امور کے پیش نظر اب جامعات اس جانب بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔ان فارغین سے روابط مضبوط رکھنے کے لیے مستقل شعبے قائم کر رہی ہیں۔
یہ خبر سن کر انتہائی خوشى ہوئی،
واقعی یہ انتہائی مسرت کی بات ہے۔بے حد خوشی کا موقع ہے۔سعادت کا ایک احساس ہے جس کے لمس سے وجود ابھی سے لرزاں ہے۔اللہ تعالى سے یہی دعا ہے کہ یہ پروگرام وقت مقررہ پر ہو۔نہایت کامیاب ہو۔نہایت مبارک ثابت ہو۔
اس طرح کے پروگرام سے دو قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں: متوقع و غیر متوقع۔یقیناً بہت سارے فوائد ایسے بھی ہوتے ہیں جو غیر متوقع طور پر ظہور میں آتے ہیں اور پہلے سے ہمارے ذہن میں نہیں ہوتے۔بلکہ بسا اوقات وہ بہت ہی اہم اور فیصلہ کن ہوتے ہیں۔مجھے پوری امید ہے کہ ایسے کئی مثبت فوائد اورایجابی نتائج اس پروگرام سے حاصل ہوں گے جن کی ابھی ہمیں توقع بھی نہیں ہے۔
تاہم جہاں تک متوقع فوائد کی بات ہے تو کم از کم تین اہم فوائد اس پروگرام سے حاصل ہونے کی قوی امید ہے:
1- فارغین جامعہ کا جمع ہونا اور آپس میں ملاقات کرنا: یہ بذات خود بہت بڑا فائدہ ہے کہ قدیم وجدید فارغین جمع ہوں،
2- فارغین کا ایک دوسرے کے تجربات ومشاہدات سے فائدہ اٹھانا: خاص طور سے وہ فارغین جو تعلیمی،
فارغین کے اجتماع کا سب سے بڑا متوقع فائدہ غالباً یہی ہے کہ ان کے جہود کا تعارف ہو،
اسی طرح ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے،
چونکہ یہ پہلو بہت ہی اہم بلکہ کلیدی ہے اس لیے ذمہ داران جامعہ سے لے کر شریک ہونے والے فارغین تک،
3- تجدید تعلق: یہ تجدیدِ تعلق دو طرح کا ہے۔ایک فارغین کے آپسی تعلق کی تجدید،
اس مناسبت سے فارغین کو سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ اس پروگرام میں بھرپور شرکت کریں اور اپنى موجودگی کو یقینی بنائیں۔ممکنہ حد تک وقت نکالیں اور اپنی حاضرى سے اس پروگرام کو رونق بخشیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ مکمل تیاری سے جائیں تاکہ اس پروگرام کی کامیابی کا کلیدی حصہ بنیں۔خاص طور سے وہ احباب جو باقاعدہ تعلیمی،
اسی طرح جس کے پاس جو کچھ بھی پیش کرنے کے لیے ہو وہ اسے باقاعدہ نوٹ کرکے لے جائے اور مناسب موقعوں پر انھیں شیئر کرے۔کوئی بھی تجربہ،
اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ فارغین کی بھر پور مشارکت ہوگی اور نہ صرف کھل کر بہت ساری باتیں ہوں گی بلکہ منظم انداز میں سب کے سامنے آئیں گی،
بنا تیاری کے گفتگو یا ارتجالی مشارکت اس طرح کے پروگراموں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور بسا اوقات 50% فائدہ کم ہوجاتا ہے۔وقت کا نقصان اضافی ہوتا ہے۔لہذا اس طرف فارغین جامعہ کے ساتھ ساتھ ذمہ داران جامعہ کو بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایک تیسری چیزیہ ہے کہ فارغین جامعہ جائیں تو یہ ذہن میں رہے کہ وہ ان کا مادر علمی ہے۔ان کا گھر ہے۔ان کی علمی دانش گاہ ہے۔مہمان سے زیادہ خود کو گھر کا فرد اور میزبان سمجھیں۔ایک دوسرے کی خدمت کریں۔ایک دوسرے سے محبت سے پیش آئیں۔جامعہ،
یقین کریں ان شاء اللہ العزیز اس سے ماحول پر نہ صرف محبت کی بارش ہوگی بلکہ اس ملاقات کی لذت بھی کئی گنا بڑھ جائے گی اور ان شاء اللہ یہ پروگرام ایک یادگار پروگرام بن کر فارغین کے دل ودماغ پر نقش ہو جائے گا۔
بلا شبہ ذمہ داران جامعہ اس پروگرام کے لیے بہت ہی مبارکباد کے مستحق ہیں۔سب سے پہلے میں انھیں اس کی دلی مبارکباد دیتا ہوں،
بالخصوص رئیس الجامعہ ارشد مختار محمدی حفظہ اللہ بہت ہی مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی سربراہی وسرکردگی میں یہ پروگرام ان شاء اللہ اسی ماہِ اکتوبر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔
منصورہ کی سرزمین پر یہ پروگرام آپ کے اُن اعمال میں سے ہے جن میں وہ غیر مسبوق ہیں۔الحمد للہ،
موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس مناسبت سے ذمہ داران جامعہ سے میں دو گزارشات کرنا چاہتا ہوں جو درحقیقت (وذکّر فإن الذکرى تنفع المؤمنین ) کی قبیل سے ہیں۔مجھے قوی امید ہے کہ یہ باتیں ذمہ داران کے ذہنوں میں پہلے سے موجود ہوں گی اور وہ ان پر کام بھی کر رہے ہوں گے۔یہاں بس تذکیر مقصود ہے۔
پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ فارغین کو دعوت دی جائے۔خاص طور سے وہ معروف اور بارز فارغین جو علمی،
اس سلسلے میں ایک اہم چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ ہمارے وہ فارغین جو تجارتی میدان میں موجود ہیں اور کامیاب بزنس مین ہیں انھیں بھی خصوصی دعوت دی جائے تاکہ ان کے تجارب سے بھی ان کے دیگر احباب مستفید ہوں۔
اسی طرح کوئی بھی ایسا بہترین مجال جو بھلے ہی علمی تعلیمی دعوتی یا رفاہی نہ ہو،
دوسری چیز ہے حسن انتظام جس کا دائرہ دعوت دینے سے لے کر استقبال تک اور استقبال سے لے کر قیام وطعام تک وسیع اور پروگرام کی ترتیب تک پھیلا ہوا ہے۔حسن انتظام کا نکھار ہر جگہ نظر آنا چاہیے۔فارغین بھلے ہی مہمان نہیں ہیں مگر ٹریٹمنٹ وی آئی پی مہمانوں کی طرح ہونا چاہیے۔مکمل رسپانس اور تکریم۔
یہ جامعہ کے ابناء اور اس کے فرزندہیں۔جب بیٹا مدت کے بعد ماں سے ملنے آتا ہے تو وہ نہال ہوجاتی ہے۔اس کا رواں رواں محبت سے جھوم اٹھتا ہے،
جامعہ کو اس مناسبت سے سجانا سنوارنا بھی چاہیے۔جس طرح ماں اپنے بیٹے کے استقبال میں گھر سجاتی ہے۔بلاشبہ یہ رسپانس یہ آو بھگت یہ تکریم نہ صرف طرفین کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے میں بھرپور کردار ادا کرے گی بلکہ ان کے درمیان محبت کو سیراب کر دے گی۔
اس سلسلے میں ایک آخرى اور سب سے اہم بات ہے پروگرام کی ترتیب وتنظیم۔دو دن کے اِس پروگرام پر غور کریں تو کل دس سے بارہ گھنٹے پروگرام کے لیے ملیں گے۔ان اوقات کو ایسا سیٹ کیا جائے کہ ہر ہر لمحہ کشید کیا جا سکے۔ہر ہر پل کو یادگار بنایا جا سکے۔ہر ہر گھڑی کو قلوب واذہان میں نقش کیا جاسکے۔کس کو کہاں موقع دینا ہے؟ کس کے تجربات سے کہاں فائدہ اٹھانا ہے؟ کس کے مشاہدات کب شیئر کرنے ہیں؟ کس کے مشورہ کو کہاں سننا ہے؟ کس سے کہاں ادب وثقافت کی مجلس سجانی ہے؟ یہاں تک کہ کس سے کب شکوہ شکایت سننی ہے؟ ایسی منظم ومحکم ترتیب ہو کہ پورا پروگرام ایک پروئے ہوئے ہار کی طرح لگے۔ایک بار شروع ہو تو خاتمہ تک مشارکین وحاضرین اس کے سحر سے نکل نہ سکیں۔
یہ کوئی ناممکن یا بہت مشکل چیز نہیں ہے۔جامعہ کو اِس سے بڑے بڑے پروگراموں کا تجربہ ہے۔اس کے پاس کوادر کی کمی نہیں ہے۔مختلف کالجوں میں ایسے ایسے افراد موجود ہیں جنھیں عالمی پروگراموں میں شرکت کرنے کا شرف اور انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا تجربہ حاصل ہے۔ان کے تجربات سے بخوبی فائدہ اٹھا یا جاسکتا ہے۔
خود رئیس الجامعہ ارشد مختار محمدی-حفظہ اللہ-ایک ماہر اور منجھے ہوئے انسان ہیں۔کریم النفس اور باذوق ہیں۔انسان کے اندر فیاضی اور حسن ذوق جمع ہوجائیں،
مجھے اللہ تعالى کی ذات پھر رئیس الجامعہ-حفظہ اللہ-کی بصیرت،
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس پروگرام کو ہر طرح سے کامیاب کرے،
خدا کرے یہ جامعہ مدینۃ السلف بنے
یہ قصر علم ایک دن منارہ شرف بنے
آمين
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين






