میرے چہرے نے کہاں چہرہ اتارا میرا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یوں تو ہوتا نہیں یادوں سے گزارا میرا
یہی لاٹھی ہے مگر ایک سہارا میرا
تیری آنکھوں سے ٹپک کر میں کہاں جی پایا
زندگی کرتی رہی بوجھ گوارا میرا
ایسے منجھ دھار میں کھو جاتا ہوں چلتے چلتے
راستا ڈھونڈتا رہتا ہے کنارہ میرا
مجھ کو بازارِ ہوس میں یہ پتا ہی نہ چلا
میرے چہرے نے کہاں چہرہ اتارا میرا
پھیر تو لوں میں بہکتی ہوئی آنکھیں لیکن
کیا کروں دل پہ نہیں کوئی اجارہ میرا
اپنے ہونے کا مجھے اس گھڑی احساس ہوا
میرے محبوب نے جب نام پکارا میرا
تو فقط ایک اشارہ تو کر اے جان حیا!
دیکھ لے گا یہ جہاں ہمت و یارا میرا
ایک طرفہ تھی محبت سو یہی ہونا تھا
میرا بازار مرا سودا خسارا میرا
وہ گلہ کرتے ہیں زلفوں کی پریشانی کا
مجھ کو شکوہ ہے مقدر نہ سنوارا میرا
میرے اشعار پہ وہ داد نہیں دیتے شاد!
اس کا مطلب وہ سمجھتے ہیں اشارہ میرا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





