سلگنے لگتا ہے جب شعلۂ خیال مزید
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ پوچھ اس کی محبت کا حال چال مزید
دھڑکنے لگتا ہے پھر دل دم خیال مزید
اک التجا ہے نہیں کوئی قیل و قال مزید
گھٹا کے ہجر بڑھا دیجیے وصال مزید
ملا ہے جب سے سر دشت نقش پا اپنا
دکھا نہ پھر کبھی رم خوردہ وہ غزال مزید
دہک رہا ہے دل و جان میں غم جاناں
اور اس پہ ہے غم دوراں کا اشتعال مزید
مچلنے لگتی ہے سوزش سے ہستئ آفاق
سلگنے لگتا ہے جب شعلۂ خیال مزید
زباں سے نکلے سبھی حرف ہیں شہید سخن
سر سخن نہ محبت میں ہو قتال مزید
جہاں میں یوں نہیں جیتے کہ دیکھ کر ہر شے
خیال ہو پہ تمنا کی ہو مجال مزید
شب سیاہ میں کھوئی رہیں اداس آنکھیں
امید صبح اٹھاتی رہی سوال مزید
کفو نہیں تھا مرا عشق سو وداع کیا
وگرنہ ساتھ بگڑ جاتا خد و خال مزید
فلک پہ چاند کو تکتے ہیں اور زمیں پہ تجھے
سبھی کو چاہیے اک صورت جمال مزید
وہ ایک کاش کا لمحہ نکل ہی آئے گا
زمیں پہ کھینچوں اگر خط ماہ و سال مزید
نہ پوری ہوگی کبھی حاجت شب ہجراں
عطا بھی ہو جو مجھے عرصۂ ملال مزید
فسانہ قیس کا کافی نہ ذکر صحرا کا
جنوں کو حسب جنوں چاہیے مثال مزید
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





