میں جانتا تھا مری شاعری فضول نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رہ حیات میں توشہ کوئی فضول نہیں
کوئی بھی خار کوئی بھی کلی فضول نہیں
دل و نگاہ خرد سے ہیں بر سرِ پیکار
ہم اہل ذوق کی دیوانگی فضول نہیں
سمجھ سکو گے اگر دشت سے کرو معلوم
یہ میرا شوق یہ تشنہ لبی فضول نہیں
کوئی تو ہے جو مجھے پڑھ رہا ہے چُھپ چُھپ کر
میں جانتا تھا مری شاعری فضول نہیں
مرے نقوش بھی کام آ گئے دِوانوں کے
میں نامرادِ تمنا سہی فضول نہیں
کتابِ زیست کا ہر باب نذرِ عشق کیا
مجھے پتا ہے مری زندگی فضول نہیں
میں جگنوؤں کا بھی کرتا ہوں شوق سے پیچھا
مرے لیے تو کوئی روشنی فضول نہیں
ہمارا ہاتھ ہے جب تک تمھارے ہاتھوں میں
وہ دشت ہو کہ چمن رہ روی فضول نہیں
یہ انتظار کی لذت، تصورات کی بزم
فراقِ یار کی کوئی گھڑی فضول نہیں
یوں ہی نہیں وہ پریشان بر سرِ محفل
وہ جانتا ہے مری خامشی فضول نہیں
بہ راہِ عشق ملے ہیں چراغ کی صورت
بہ قلبِ شاد کوئی داغ بھی فضول نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





