عہد میں تیرے مری سوختہ جانی نہ رہی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بجھ گیا جذبۂ دل شعلہ فشانی نہ رہی
ہاتھ میں اپنے وہ توفیق جوانی نہ رہی
کرکے تحویل جنوں قیس مجھے کہتا ہے
عہد میں تیرے مری سوختہ جانی نہ رہی
موج در موج ہے اندیشۂ سیلاب جنوں
قلزم عشق میں سمجھے تھے روانی نہ رہی
موت کے ساتھ اٹھی میری صدائے پر خوں
صحن ماتم زدہ میں آہ فغانی نہ رہی
محو تصحیف سخن ہوں سر ہنگام جنوں
دشت فرصت میں مری اور نشانی نہ رہی
موج انفاس سے منظر تھا سیہ پوش مرا
ہو چلی راکھ، وہ تصویر دخانی نہ رہی
مر گیے یوں کہ دعا پاتے ہیں سب زیر زمیں
قبر پر اپنی مگر فاتحہ خوانی نہ رہی
سارا عالم ہے یہاں گوش بر آواز حسن
نطق میں تیرے ہی تاثیر نہانی نہ رہی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





