فقیہ شہر کو تو کاسۂ گدائی نہ دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
خدا کسی کو کبھی گل سی کج ادائی نہ دے
صبا کی ضد پہ بھی خوش بو کو جو رہائی نہ دے
جہاں میں کوئی تجھے داد خوش نمائی نہ دے
مرے علاوہ کسی کو بھی تو دکھائی نہ دے
ترا خیال ہے کافی مجھے جلانے کو
مرے بدن پہ کہیں لمس آشنائی نہ دے
تو کیا اسے کوئی تکلیف زندگی میں نہیں
کوئی بہ وجہ تکلف اگر دہائی نہ دے
میں بچ کے آیا ہوں لڑ کر یہاں نہیں آیا
مرے ضمیر مجھے طعنہ دے بدھائی نہ دے
جو بات کہنی ہے چپ کے سے کان میں کہہ دے
مت اتنی زور سے چلا کہ پھر سنائی نہ دے
میں کوششوں کی ہر اک انتہا کو چھو آیا
جو دے رہا ہے خدا! حسب نارسائی نہ دے
امیر وقت نہ توہین علم و حکمت کر
فقیہ شہر کو تو کاسۂ گدائی نہ دے
پتا ہے خوب محبت کی انتہا اے حسن
تو روز روز مجھے درس بے وفائی نہ دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





