یہ کون میرے خیالوں میں شام کرتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جہاں، جہاں میں جو ناکردہ کام کرتا ہے
وہ کام مجھ سا ہی مست مدام کرتا ہے
وجود یار کا خاکہ اتارتی ہے آنکھ
دل اس میں وصل کا سایہ تمام کرتا ہے
محیط شب پہ بناتا ہے ہجر غم کی شبیہ
سحر کو موج تحیر کے نام کرتا ہے
ہے دست موج و تلاطم لہو میں آلودہ
کہ بحر قطرۂ دل میں خرام کرتا ہے
مرے عدم سے گزرتے ہوئے کوئی شاید
ٹھہر کے عکس اجل سے کلام کرتا ہے
سبیل دل پہ اداسی کے ٹھیک پہلو میں
کبھی کبھی کوئی صحرا قیام کرتا
یہ کس کی یاد کا در مجھ میں کھلنے لگتا ہے
یہ کون میرے خیالوں میں شام کرتا ہے
خلائے دل میں ابھرتے ہیں جب نقوش یقین
کف گماں انھیں نذر سہام کرتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





