تِری نظر بھی ہوئی میری ممتحن ساقی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پلائے جا مجھے جام و سبو نہ گِن ساقی
کسی طرح سے گزر جائے آج دن ساقی
تِری نگاہ کا جادو چلا نہیں اب تک
ابھی ہوئے نہیں اعصاب مطمئن ساقی
پلا دے یوں کہ غمِ زندگی ہو جائے قے
سبو کے ساتھ اٹھا لانا ڈسٹ بن ساقی
شراب خانے سے باہر قدم نکالتے ہی
سوار ہوتا ہے کارِ جہاں کا جن ساقی
بدن پہ آگ برستی ہے ابرِ باراں سے
گزر نہ جائے یہ موسم بھی تیرے بن ساقی
نگل رہے ہیں جو دن رات دوسروں کے حق
مِرے دہن سے انھیں آ رہی ہے گھن ساقی
سفر میں یوں بھی پریشان تھا سرابوں سے
تِری نظر بھی ہوئی میری ممتحن ساقی
وہی میں شاد جو تشنہ دہن ہے بچپن سے
سنا تو ہوگا مِرا نام، میرا سِن ساقی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





