جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

درد اک روز صدا بن کے بکھر جائے گا

کلام: حمود حسن مبارکپوری3 جون، 20261,824قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
شہر جب جوشِ جنوں سے مرے بھر جائے گا
قیس صحرا کی طرف بارِ دگر جائے گا
صبر اے دل یہ زمانہ بھی گزر جائے گا
درد اک روز صدا بن کے بکھر جائے گا
بامِ گردوں سے اداسی کا ستارہ کوئی
شام ہوتے ہی مِری چھت پہ اتر جائے گا
دل کو خاکم بہ دہن طرزِ جنوں کیا معلوم
رائیگاں دشتِ محبت کا سفر جائے گا
اپنی آنکھوں کو مِری جان سلامت رکھنا
ہم تو منظر ہیں وہ منظر جو گزر جائے گا
میں وہ نخچیر ہوں شاید کہ بھرے جنگل میں
رحم کھاتے ہوئے صیاد ٹھہر جائے گا
بجتی مٹی میری آخر کو ہوئی ریت حسن
صرف چھونے سے گھروندا یہ بکھر جائے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

درد اک روز صدا بن کے بکھر جائے گا - دی فری لانسر | دی فری لانسر