ستمبر کا مہینہ دی فری لانسر کی ری برانڈنگ کے لیے انتخاب نہیں،اتفاق ہے۔۲؍ستمبر ۲۰۰۸ء کو ہی گوگل کروم بھی ریلیز کیا گیا تھا۔
انٹرنیٹ کا پہلا سرچ انجن آج سے ۳۶؍سال پہلے اسی مہینے (۱۰؍ستمبر ۱۹۹۰ء) لانچ ہوا تھا۔تقریباً ۹۰ فیصد گلوبل مارکیٹ شیئر اس وقت گوگل کا ہے۔گوگل سرچ انجن بھی اسی مہینے میں لانچ ہوا تھا،۱۵؍ستمبر ۱۹۹۷ء کو۔
پہلا سرچ انجن Archie اب آن لائن میوزیم میں ہے اور اس کے سات سال بعد لانچ ہونے والا گوگل،سرچ سے ریسرچ کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔گوگل جیمنی اب ریسرچ کرتا ہے۔تصویریں،آڈیو،ویڈیو بناتا اور کتابیں لکھتا ہے۔جتنے کم وقت میں اور جتنی تیز رفتار سے جیمنی ریسرچ کرتا ہے،وہ اس وقت حیرت اور دلچسپی دونوں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ساتھ ہی دنیا اصلی اور نقلی کے درمیان فرق کرنے کا نیا آلہ بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔
دی فری لانسر کا پہلا دور (۲۰۰۹ء تا ۲۰۱۶ء) مطبوعہ کتابوں پر نربھر اور کاغذ پر ہی زندہ تھا،اگرچہ پی ڈی ایف کاپی پابندی سے کچھ لوگوں کو بذریعہ ای میل بھیجی جاتی تھی۔تب دی فری لانسر کا مطبوعہ نسخہ کاٹھمانڈو تک پہنچتا تھا۔دلی کی گلیوں میں کہاں کہاں قارئین ہیں،یہ ۲۰۱۰ء کے ایک سفر میں پتہ چلا۔آنکھیں جو دیکھتی تھیں اس کی ایک حد تھی،کان جو سنتے تھے وہی بار بار سنائی دیتا تھا،تصویریں الگ تھیں،آوازیں الگ۔
اتفاق سے ستمبر میں ہی ایک اور انقلاب آیا،جیو انقلاب۔۵؍ستمبر ۲۰۱۶ء کو انڈیا میں جو انقلاب آیا اس نے تصویروں اور آوازوں کو ملانا شروع کردیا۔ویڈیو کی سہولت سے دنیا بدلنے لگی۔ممبرا سے لے کر وی ٹی اسٹیشن تک تقریباً تمام ہی اسٹیشنوں پر بک اسٹال ہوتے تھے۔رفتہ رفتہ یا تو اسٹال غائب ہوگئے یا ان اسٹالوں سے کتابیں۔کتابوں کی جگہ کھانے پینے کی چیزوں نے لے لی۔
کرلا ویسٹ میں اسٹیشن کے پاس ہی سنسار ہوٹل کے سامنے جو ٹھیلہ لگتا تھا وہ آج بھی لگتا ہے،مگر کتابوں کی جگہ جھولے،موزے،رومال اور قسم قسم کے اسباب دکھائی دیتے ہیں۔کچھ اخبار آج بھی چھپتے ہیں،وہ اس ٹھیلے پر نظر بھی آجاتے ہیں مگر ڈھونڈنے پر ہاتھوں میں نہیں ملتے۔
پڑھنے کے بجائے لوگ دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔لوکل ٹرین میں پہلے چاروں طرف الگ الگ زبانیں دکھائی دیتی تھیں،کسی مسافر کے ہاتھ میں اردو،کسی کے ہندی،کسی کے ہاتھ میں انگریزی اور کسی کے مراٹھی۔کاغذ ایک،سیاہی ایک اور شکلیں جدا جدا۔اب الگ الگ ہاتھوں میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ دکھائی دیتے ہیں،اسکرین پر عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہوئے۔ان حرکتوں کا ریفلیکشن چہروں پر پڑھو تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے قسم قسم کے لوگ اپنی اپنی ورچول دنیا میں مگن مختلف انسانی جذبات کے زیرِ اثر ڈوبتے ابھرتے رہتے ہیں۔
ایسی کٹھن صورتِ حال میں کسی کے اسکرین پر اخبار اگادینا آسان کام نہیں ہے۔ایک سال (۲۰۱۷ء) کی تیاری کے بعد ۲۰۱۸ء میں ہم نے دی فری لانسر کے ذریعے یہی کام کرنے کی کوشش شروع کی تھی۔آٹھ سال پیچھے مڑ کر دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کوشش گوگل کے گریویارڈ میں نہیں پہنچی۔کسی نہ کسی سطح پر گرتے سنبھلتے رہے۔سردی،گرمی اور برسات کی طرح ادلتے بدلتے رہے مگر اسکرین پر لفظوں کو جگائے رکھا۔
فیس بک کا دریا بہا،لفظوں کا سیلاب آگیا،اس بہاؤ میں کتنوں کے قلم قرطاس بہہ گئے۔ہم نے بھی اپنی جگہ نہیں چھوڑی،اس دریا میں نہایا نہ ہاتھ دھویا۔شبدوں کا اسراف بھی نہیں کیا۔کنڈل سے رشتہ جڑ گیا پھر بھی کاغذ سے نہیں ٹوٹا،دونوں ہاتھوں کی انگلیوں نے کی بورڈ پر دوڑنا سیکھ لیا مگر کاغذ کے پنوں کو الٹنا پلٹنا نہیں چھوڑا۔چھوٹی بڑی اسکرین کی نیلی روشنی نے آنکھوں میں ایسا قحط برپا کیا کہ کھردراپن نہیں جاتا مگر سفید اوراق پر روشنائی سے لکیریں بنانے کا موسم آتا جاتا رہا،جیتا رہا،باقی رہا۔
دی فری لانسر کا یہ نیا روپ رنگ،بدلتی دنیا میں باقی رہنے کی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔«ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں»۔
اس نئے رنگ میں بہت کچھ نیا ہے،ہمارے ایک خیرخواہ نے اللہ رب العزت کی توفیق سے ۲؍ستمبر ۲۰۲۴ء کو دی فری لانسر کی ری برانڈنگ کا جو کام شروع کیا اسے رات تک ایسی شکل دے دی کہ نتیجہ اب دل کشا معلوم ہوتا ہے۔
ہر قسم کی تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی مکرم ﷺ کی تمام چھوٹی بڑی سنتوں پر عمل کی توفیق دے۔ہمارے خیرخواہ بھائی کو دونوں جہان کی دولتوں سے مالا مال کرے،دینِ اسلام پر استقامت کی توفیق دے اور آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمائے۔
دی فری لانسر کا یہ نیا لک اور بھی اچھا ہوسکتا ہے،قارئین مشورہ دیں۔قلم کار بھی دیکھیں،بتائیں اور کیا کیا اچھا کیا جاسکتا ہے اور اپنے مضامین بھی بذریعہ ای میل بھیجیں۔اللہ کرے یہ سلسلہ جاری رہے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں عصری اسلوب میں دینِ اسلام کی ترجمانی کی توفیق دے،زبان و قلم کو کتاب و سنت کی واضح تعلیمات عام کرنے کا سبب بنائے اور ہر قسم کی فکری و عملی لغزشوں سے بچائے۔آمین۔