جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ایک صبح دکتور کلیم کے ساتھ

تحریر: ابوالمیزان3 اکتوبر، 20261,981قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ایک صبح دکتور کلیم کے ساتھ
فل اسکرین دیکھیں

بارہ فروری کی شام مسجد نبوی میں چند دکاترہ کے ساتھ ایک نشست پہلے سے طے تھی،مجھے بس وقت مقررہ پر حاضر رہنا تھا۔یہ عنایت دکتور وسیم صاحب نے کی تھی حائل میں بیٹھ کر۔ایسی عنایت وہ پہلے بھی کرچکے تھے،خود ہوتے تھے مدینے میں اور ہمیں ممبئی سے مالیگاؤں پہنچا دیتے تھے۔

یہ نشست جب عشاء کی اذان کے ساتھ ختم ہوئی تو دکتور کلیم صاحب یہ کہہ کر رخصت ہوگئے کہ فجر میں ملیں گے۔ایک ڈنر اور ایک مزید ملاقات میں یہ رات ایسے گزری جیسے مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت گزرا تھا۔

فجر بعد اسی جگہ مسکراتے ہوئے ملے جہاں ملنے کا وعدہ تھا۔پوچھا قبا جا چکے ہیں؟

ایک ساتھ دو طرح کی باتیں ہورہی تھیں،دعوتی محاذ کی اور مدینہ کی باتیں۔ان کی کار جب رکی تو پتہ چلا مسجد قبا ہے،مجھے بالکل بھی خبر نہیں تھی کہ یہ سفر کہاں تک ہوگا،بیچ میں کہاں کہاں رکیں گے اور منزل کیا ہوگی۔

نومبر ٢٠٢٣ میں جب صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے آفس سے نکل رہے تھے تو کہا مدینے آنا ہو تو ملاقات کیجیے۔اکثر لوگ ایسی باتیں رسم رخصت نبھانے میں کہتے ہیں،ہمیں بھی ایسی رسموں پر اکثر مسکرا دینے کی عادت ہے،لیکن یہ اچھی بات اتنی سچی لگ رہی تھی کہ صرف مسکرانا کافی نہیں لگا،میری طرف سے 'حضرت' پہلے ہی جواب دے چکے تھے پھر بھی دھیمی آواز میں میرے منہ سے نکلا: ان شاء اللہ فروری میں ملاقات ہوگی۔

قبا سے نکلے تو مدینے کی باتیں وہ اس طرح کررہے تھے جیسے ہم ٢٠٢۴ میں نہیں ہیں۔تصورات میں اب وہی مدینہ دکھائی دینے لگا تھا جو ‌سیرت کی کتابوں میں پڑھا تھا۔

احد پہلے بھی ایک بار دیکھا تھا مگر جب دکتور کلیم کی آنکھوں سے دیکھا تو آنکھیں جل تھل ہوگئیں،ایسا لگ رہا تھے جیسے آج منگل نہیں سنیچر ہے،١٣ فروری نہیں ٢٣ مارچ ہے،٢٠٢۴ نہیں ٦٢٥ ہے۔

اس دن صحابہ سے جیسی محبت دل میں محسوس ہوئی آج تک باقی ہے اور دکتور کلیم کی یہ بات ہمیشہ کانوں میں رس گھولتی ہے کہ "اگلی بار بدر چلیں گے ان شاء اللہ"

صحابہ سے اتنی شدید محبت میں نے دکتور کلیم یوسف کے علاوہ کبھی کسی کی صحبت میں نہیں محسوس کی،صحابہ کرام کی قربانیوں کو اس طرح بیان کررہے تھے جیسے میں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔میری نگاہوں کے سامنے صرف احد کا میدان تھا مگر ان کے بیان میں ایسا جادو تھا جیسے ابھی اس میدان میں وہ جنگ ہورہی ہے۔

اگلا پڑاؤ جامعہ اسلامیہ کے پاس ایک مشہور یمنی ریسٹورنٹ تھا جہاں ہم نے ناشتہ کیا اور آخری فندق راما المدینہ، جہاں انھوں نے مجھے ڈراپ کیا، میں یہیں ٹھہرا ہوا تھا۔

اس کے بعد بھی مدینے اور ممبئی میں ان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں مگر تیرہ فروری ٢٠٢۴ کی وہ صبح مجھے رہ رہ کر اس لیے بھی یاد آتی رہتی ہے کہ فجر بعد چھ بجے سے ساڑھے دس بجے تک ایک بار بھی کبھی ان کے فون کا کیمرہ آن نہیں ہوا۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ع
عبادہ صدیقی
3 اکتوبر، 2026
مضمون پڑھ کر کافی خوشی ہوئی، اور خوشی ہوتی بھی کیوں نہیں، کیوں کہ دونوں میری محبوب شخصیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وفا

کوئی حسن ظن انتہائی خوشگوار حقیقت میں تبدیل ہوجائے تو صرف حیرت ہی نہیں ہوتی، بڑی مسرت بھی ہوتی ہے۔ وہ گھڑی بھی ایسی تھی کہ آنسو چھلک پڑے، خوشی کے آنسو۔حقیقت کے مشاہدے میں ذرا سا وقت گزرا تھا کہ اس کوالٹی کی تصدیق بھی ہوگئی جس کے بغیر کوئی تعلق نہیں سنبھلتا۔ پیچھے […]

منظر نما
1,51826 جنوری، 2025

مجرمانہ خاموشی

آگ لگی ہو تو جس کے ہاتھ میں جو آتا ہے وہی دے مارتا ہے۔ آگ صرف پانی سے نہیں بجھائی جاتی، جن چیزوں کو آگ جلا دیتی ہے وہ بھی بسااوقات آگ کو بجھانے میں کام آتی ہیں جیسے کپڑے اور لکڑی وغیرہ۔ کہیں آگ لگی ہو اور کوئی صحت مند آدمی خاموش کھڑا […]

منظر نما
1,66619 اکتوبر، 2024
ایک صبح دکتور کلیم کے ساتھ - دی فری لانسر | دی فری لانسر