بارہ فروری کی شام مسجد نبوی میں چند دکاترہ کے ساتھ ایک نشست پہلے سے طے تھی،
یہ نشست جب عشاء کی اذان کے ساتھ ختم ہوئی تو دکتور کلیم صاحب یہ کہہ کر رخصت ہوگئے کہ فجر میں ملیں گے۔ایک ڈنر اور ایک مزید ملاقات میں یہ رات ایسے گزری جیسے مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت گزرا تھا۔
فجر بعد اسی جگہ مسکراتے ہوئے ملے جہاں ملنے کا وعدہ تھا۔پوچھا قبا جا چکے ہیں؟
ایک ساتھ دو طرح کی باتیں ہورہی تھیں،
نومبر ٢٠٢٣ میں جب صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے آفس سے نکل رہے تھے تو کہا مدینے آنا ہو تو ملاقات کیجیے۔اکثر لوگ ایسی باتیں رسم رخصت نبھانے میں کہتے ہیں،
قبا سے نکلے تو مدینے کی باتیں وہ اس طرح کررہے تھے جیسے ہم ٢٠٢۴ میں نہیں ہیں۔تصورات میں اب وہی مدینہ دکھائی دینے لگا تھا جو سیرت کی کتابوں میں پڑھا تھا۔
احد پہلے بھی ایک بار دیکھا تھا مگر جب دکتور کلیم کی آنکھوں سے دیکھا تو آنکھیں جل تھل ہوگئیں،
اس دن صحابہ سے جیسی محبت دل میں محسوس ہوئی آج تک باقی ہے اور دکتور کلیم کی یہ بات ہمیشہ کانوں میں رس گھولتی ہے کہ "اگلی بار بدر چلیں گے ان شاء اللہ"
صحابہ سے اتنی شدید محبت میں نے دکتور کلیم یوسف کے علاوہ کبھی کسی کی صحبت میں نہیں محسوس کی،
اگلا پڑاؤ جامعہ اسلامیہ کے پاس ایک مشہور یمنی ریسٹورنٹ تھا جہاں ہم نے ناشتہ کیا اور آخری فندق راما المدینہ، جہاں انھوں نے مجھے ڈراپ کیا، میں یہیں ٹھہرا ہوا تھا۔
اس کے بعد بھی مدینے اور ممبئی میں ان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں مگر تیرہ فروری ٢٠٢۴ کی وہ صبح مجھے رہ رہ کر اس لیے بھی یاد آتی رہتی ہے کہ فجر بعد چھ بجے سے ساڑھے دس بجے تک ایک بار بھی کبھی ان کے فون کا کیمرہ آن نہیں ہوا۔






