دنیا میں قرأت کی مارکیٹ ابھی بھی زیارت کے بازار سے تین گنا زیادہ ہے۔
کس مضمون یا کتاب کی قرأت کتنی اور کہاں ہورہی ہے،یہ جاننے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا سوائے خود قاری کی خبر یا اطلاع کے۔مراسلات و تاثرات سے پتہ چلتا تھا کہ مضمون کتنا مؤثر ہے،خطوط اور تبصروں سے معلوم ہوتا تھا کہ کتاب کتنی مفید ہے،اور کتابوں کے ایڈیشن سے قارئین کی ڈیمانڈ طے کی جاتی تھی۔
اب انٹرنیٹ کی سہولت سے تحریروں کی رسائی جو بڑھی ہے تو ان کا رسپانس جاننے کے ذرائع بھی بڑھ گئے ہیں۔چٹھی اور کمنٹ سے تو تفصیلی تاثرات معلوم ہوتے ہیں،اب کس ملک میں کون سی تحریر سب سے زیادہ پڑھی جارہی ہے،یہ جاننے کے لیے پوچھنے یا بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
پرانی ویب سائٹ میں یہی ایک سہولت تھی کہ پتہ چلتا تھا کس مضمون کو کتنے لوگوں نے دیکھا ہے،ویوز کی گنتی معلوم پڑتی تھی۔اب اس نئی ویب سائٹ میں ایک ساتھ کئی سہولتیں ہیں،«گزشتہ ۵ منٹ کے دوران ویب سائٹ پر براہِ راست سرگرم قارئین کی لائیو تعداد» کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ اس وقت کون کون سا مضمون پڑھا جارہا ہے۔
اس باب میں جتنی سہولتیں ہیں سب چونکانے والی ہیں۔مقبول ترین تحریریں کون سی ہیں،کن آلات (ڈیوائس) پر کتنے فیصد مضامین پڑھے جارہے ہیں؛جیسے موبائل فون پر ۳۴ فیصد،ڈیسک ٹاپ پر ۶۲ فیصد اور ٹیبلیٹ پر ۴ فیصد۔
یہ تفصیلات ہمارے لیے بالکل نئی ہیں۔کس گھنٹے،منٹ،سیکنڈ،کس ملک کے کس شہر سے،کس ڈیوائس پر،او ایس (آپریٹنگ سسٹم) کون سا ہے،ونڈوز،انڈرائڈ یا میک،براؤزر کا نام کیا ہے،ویب سائٹ تک پہنچنے کا ذریعہ کیا ہے،گوگل سرچ،مضمون کا لنک یا ڈائریکٹ ویب سائٹ۔سب سے آخر میں اور سب سے اہم کہ کون سا مضمون یا کس شاعر کا کلام پڑھا جارہا ہے۔
اب ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ دنیا کے وہ کون سے دس ممالک ہیں جن کے صوبوں اور شہروں میں فری لانسر کی زیارت ہورہی ہے۔یہ صوبے اور شہر کون سے ہیں،کتنے ہیں،وہاں جس ڈیوائس پر فری لانسر کی ویب سائٹ کھولی جارہی ہے اس میں انٹرنیٹ سروس کس کمپنی کی ہے،یہ ساری تفصیلات حیران کن کم،حوصلہ افزا زیادہ ہیں۔تفصیلات اتنی گہری اور مفصل نہ ہوتیں تو کچھ معلومات پر اعتبار کرنا مشکل تھا۔
مہاراشٹر،اترپردیش،تلنگانہ،بہار،کرناٹک،دہلی،مغربی بنگال،مدھیہ پردیش اور جموں و کشمیر میں فری لانسر کی زیارت واضح ہے،گجرات،ہریانہ،راجستھان،جھارکھنڈ،آندھرا پردیش،سکم،تمل ناڈو،اتراکھنڈ،پنجاب اور آسام تک بھی ٹھیک ہی ہے مگر کیرلا،ناگالینڈ اور چھتیس گڑھ والے بھی یہاں پہنچ رہے ہیں،یہ جان کر حیرت انگیز مسرت ہوتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ حیرت تو تب ہوئی تھی جب یہ پتہ چلا تھا کہ ممبرا سے بھی زیادہ Jinrongjie میں فری لانسر کی زیارت ہورہی ہے،جب تک یہ معلوم نہیں کرلیا گیا کہ Jinrongjie کا اردو زبان سے تعلق کیا ہے تب تک اطمینان نہیں ہوا۔ابتدا میں ایسا معلوم ہورہا تھا کہ انڈیا دوسرے نمبر پر چلا جائے گا،اب بھی وہی لگ رہا ہے مگر پہلے ایک نمبر پر پہنچنے کے قریب چین تھا،اب امریکہ ہے۔
اس وقت انڈیا میں دن کے تین بج رہے ہیں،تاریخ ہے تیرہ،مہینہ وہی ہے ستمبر،سال ۲۰۲۶ مطابق ۳۰؍ ربیع الاول ۱۴۴۸۔کیلنڈر میں آج ربیع الآخر کی پہلی تاریخ تھی مگر کل چاند نظر نہیں آیا،ہندوستان کے اکثر شہروں میں بارش ہورہی تھی۔آج ممبئی میں کل سے زیادہ بارش ہورہی ہے۔
نیویارک میں بھی اس وقت بارش زیادہ (Heavy Rain) ہورہی ہے۔امریکہ میں بھی آج اتوار ہے،تاریخ بھی یہی ہے،مگر وقت صبح کے چھ بجنے والے ہیں۔
امریکہ فری لانسر کی زیارت میں ۳۳ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور انڈیا پہلے،۴۰ فیصد۔حیرت یہ ہے کہ پاکستان صرف ۳ فیصد اور چین ۱۴ فیصد۔سعودی عربیہ،انگلینڈ اور نیپال کی حاضری سمجھ میں آتی ہے مگر جرمنی،فرانس اور سنگاپور میں بھی کچھ لوگ فری لانسر کی زیارت کرتے ہیں،یہ حیرت اور مسرت دونوں کا وشے ہے۔
دنیا میں اس وقت قرأت کی مارکیٹ کا سائز ۱۶۲ بلین ڈالر اور زیارت کا ۵۰ بلین ہے۔اکیلے شمالی امریکہ کا شیئر زیارت کے بازار میں ۳۴ فیصد ہے،یعنی پورے ۱۷ بلین ڈالر۔شمالی امریکہ میں امریکہ اور کینیڈا سمیت ۲۳ ممالک شامل ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں فری لانسر ویب سائٹ کی زیارت کرنے والے ۱۹۴ شہر اور صوبے ہیں جب کہ انڈیا میں صرف ۱۶۷۔
جو کتابیں کاغذ پر چھپتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں ان کا بازار پر ابھی ای بک کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ قبضہ ہے۔اس گوشوارے میں دنیا کی ساری زبانیں شامل ہیں۔فری لانسر کی زیارت کا ڈیٹا بھی یہ بتاتا ہے کہ اردو زبان اسکرین پر پڑھنے میں امریکہ کی رفتار انڈیا سے زیادہ ہے،کم خرچ اور محنت میں زیارت کی حدیں انتہائی وسیع ہوجاتی ہیں۔یہ دن بدن بڑھ رہی ہیں،۲۰۳۴ تک اس بازار کے چار گنا ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے یعنی ۲۰۰ بلین پار۔
ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو اس اندازے کو نکارنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔اکثر لوگ اپنے موبائل فون اور دوسرے ڈیوائس کے ساتھ جو وقت گزارتے ہیں وہ صرف کتاب ہی کیوں،اپنے گھر اور اپنی زندگی میں موجود لوگوں کے ساتھ بھی اتنا وقت نہیں بتاتے۔
کتابیں لائبریریوں میں،گھروں کی الماریوں میں پڑی پڑی بوسیدہ ہورہی ہیں۔کتابیں انسانوں کے ہاتھ میں پہنچیں،دھول صاف کی جائے اور قرأت کے بعد سلیقے سے رکھ دی جائیں تو اس سے بوسیدگی کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔مگر تعلیم و تعلم کے کارخانوں میں بھی یہ کتابیں الماریوں سے کتنی نکلتی ہیں،علم و تحقیق والے بھی انٹرنیٹ کی دنیا میں تیرتی کتابوں کے علاوہ کاغذ پر چھپی ہوئی کتابوں کی ضرورت کتنی محسوس کرتے ہیں،یہ سوال نہیں خود احتسابی کا موضوع ہے۔ان سوالوں سے بدلتی ہوئی دنیا کا رخ طے ہوتا ہے،کاغذ کو چھونے سے کیا فائدہ ہے اور نیلی روشنی سے کتنا نقصان،یہ آنکڑا ہر کسی کے لیے دستیاب ہے اور ایک جیسا ہے۔
متوازن نقطہ نظر یہی ہے کہ ہر سہولت کو اللہ کی نعمت تصور کیا جائے اور بقدرِ ضرورت اس کا استعمال کیا جائے اور کرنے بھی دیا جائے،نقطہ نظر سے استعمال اور خرچ تک ہر جگہ اعتدال کارفرما ہو۔کاغذ اور اسکرین دونوں کی اپنی اپنی ضرورت ہے،ان سے استفادے کی سبیل الگ الگ،دونوں کی دنیا الگ الگ ہے،رفتار اور رسائی الگ الگ۔چمڑوں،ہڈیوں،پتوں اور پتھروں سے کاغذ تک کا جو سفر ہے اس کی ایک تاریخ ہے،اس تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس سفر کو روکا نہیں جاسکتا،تاریخ کو موڑا نہیں جاسکتا۔آنکھیں وہی ہیں وہی رہیں گی،الفاظ بھی ابھرتے رہیں گے کبھی اسکرین پر،کبھی فضا میں۔
قرأت کا نام زیارت ہوجائے،کل کے قارئین آج کے زائرین کہے جائیں،جب تک دنیا ہے اللہ کی کتاب باقی رہے گی،اس کی تلاوت جاری رہے گی۔قرآن کی تفسیر ہوتی رہے گی،حدیث کی تشریح ہوتی رہے گی،تفسیر و تشریح کی قرأت چلے گی،رشد و ہدایت کی روایت چلے گی۔
اللہ رب العالمین ہمیں صراطِ مستقیم پر استقامت کی توفیق دے۔آمین