آرزوؤں کی قبر ہوتی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
پل میں ہنسنا ہے پل میں رونا ہے
آدمی بھی عجب کھلونا ہے
تنکا تنکا ہمیں سنجونا ہے
جانے کب تک یہ بوجھ ڈھونا ہے
اپنی آنکھوں کو پھر بھگونا ہے
دل کا اک ایک داغ دھونا ہے
عشق کی بات مجھ سے کرتے ہو
یہ مرا اوڑھنا بچھونا ہے
آرزوؤں کی قبر ہوتی ہے
خانۂ دل میں ایک کونا ہے
ہو گئی ہے زمین دل بنجر
بیج انسانیت کا بونا ہے
بنتِ حوا! میں ابنِ آدم ہوں
میرے ہونے سے تیرا ہونا ہے
تجھ کو پانا ہے مدعا میرا
یعنی دشتِ وفا میں کھونا ہے
نرم چادر خریدنے والے
بستر ہجر پر ہی سونا ہے
وہ بھی مجھ کو سمجھ رہے ہیں شاد
بس اسی بات کا تو رونا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
R
Rumaisa
29 ستمبر، 2026انسان کو سب کچھ معلوم ہے کہ دنیاوی زندگی چند دن کی ہے۔لیکن آخرت کی فکر کو چھوڑ کر دنیاوی چیزوں کو تنکا تنکا اکٹھا کرنے میں پریشان ہیں۔اسکو یہ بھی معلوم ہے کی مرنے کے بعد دو گز زمین اور مرد کے لیے تین چادر اور عورت کے لئے پانچ بس یہی سازو سامان اور نیک عمل یہی اس دنیا سے اس دنیا m لیکر جانا ہے۔
انسان اتنا بےحس ہے کہ ان سب کی فکر چھوڑ کردنیاوی آسائش كو پانے کے پیچھے ہر پل دوڑ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی فکر کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔





