جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

محدثِ مدینہ اور ان کے درسِ حدیث کی بعض خصوصیات

تحریر: حافظ محمد ہاشم عمری مدنی9 ستمبر، 20261,883قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
محدثِ مدینہ اور ان کے درسِ حدیث کی بعض خصوصیات
فل اسکرین دیکھیں

نحمده ونصلي على رسوله الكريم،أما بعد!

آپ نے امام دارِ الہجرۃ امام مالک رحمہ اللہ (متوفی: 179ھ) کی طرح «محدثِ دارِ الہجرۃ» کے شرف سے سرفراز ہو کر اڑتیس سال تک مسجدِ نبوی میں درسِ حدیث کی عظیم خدمات انجام دیں۔کتبِ ستہ اور موطا امام مالک سمیت دیگر کتب کے دروس کی مجموعی تعداد چار ہزار (4000) سے بھی زیادہ ہے۔

آپ قلعۂ اسلام جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی تاسیس کے روزِ اول (تقریباً 65 سال) سے ہی یہاں بحیثیتِ مدرس خدمات انجام دیتے چلے آ رہے ہیں،بتاریخ 29 ربیع الآخر 1381ھ کلیۃ الشریعۃ میں آپ ہی کے درس سے باقاعدہ درس و تدریس کی ابتدا ہوئی،اور «خیر بدایۃ» والے اس مبارک موقع پر جن اعیانِ مملکت اور اہم شخصیات نے اپنی تشریف آوری سے مجلسِ درس کو زینت بخشی ان میں اُس وقت کے ولی عہد شاہ فیصل بن عبد العزيز آل سعود رحمہ اللہ بھی تھے،پھر جب سنہ 1431ھ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی تاسیس کے پچاس سال مکمل ہوئے تو جامعہ کے اس سنگِ میل کے ساتھ آپ کی تدریس کے بھی پچاس سال مکمل ہو گئے،اس بات کا تذکرہ آپ نے جامعہ اسلامیہ سے متعلق اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک مضمون: «من ذكرياتي عن الجامعة الإسلامية في المدينة المنورة بعد مرور نصف قرن على إنشائها» میں کیا ہے۔

آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں شیخ بن باز رحمہ اللہ کے خیرِ خلف بن کر چھ سال تک نائب رئیس الجامعہ (وائس چانسلر) کی خدمات انجام دیں۔جامعہ اسلامیہ میں ادارتی امور،مسجدِ نبوی شریف میں کتبِ ستہ کے دروس،افتاء جیسی علمی مصروفیات کے باوجود دو درجن سے زائد چھوٹی بڑی مفید و علمی کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔

ماہِ محرم 1406ھ میں شیخ العباد حفظہ اللہ کا بحیثیتِ مدرس مسجدِ نبوی میں تقرر ہوا،اسی وقت سے آپ نے فنِ حدیث کے مصادرِ اصلیہ کا درس دینا شروع کیا،اور یہ مبارک سلسلہ اڑتیس سال تک جاری و ساری رہا،چوں کہ آپ کا درس فنِ حدیث اور اس کے تمام واجبات و لوازمات پر مشتمل ہوتا تھا،جس سے خصوصی طور پر جامعہ اسلامیہ کے طلبۃ العلم،اساتذہ جیسے اہلِ علم ہی استفادہ کر سکتے تھے اس لیے جامعہ اسلامیہ کی چھٹیوں کے ایام میں آپ کا درسِ حدیث موقوف رہتا اور ان دنوں عوام الناس کے لیے مختلف موضوعات پر دروس و محاضرات دیتے،اس اڑتیس سالہ مدت میں آپ نے کتبِ ستہ اور موطا امام مالک کے محدثانہ و عالمانہ شان سے دروس دیے جو بشکلِ آڈیو محفوظ ہیں،مذکورہ سات کتبِ احادیث کے علاوہ آپ کے دیگر تمام دروس و محاضرات یوٹیوب پر معیاری ریکارڈنگ کے ساتھ دستیاب ہیں۔

آپ حفظہ اللہ ہفتے میں چھ دن بعدِ نمازِ مغرب تا عشاء مسجدِ نبوی میں درسِ حدیث دیا کرتے تھے،اور جمعہ کے دن آپ کا درس عوام کے لیے ہوا کرتا تھا۔

سماحۃ الشیخ عباد حفظہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ماجستیر اور دکتوراہ کے بہت سے رسائلِ علمیہ کا اشراف کیا ہے،جیسے: «الأحاديث الواردة في فضائل المدينة»۔اس کتاب میں مدینۃ الرسول ﷺ کے فضائل و مناقب سے متعلق وارد تمام احادیث کی جمع و تخریج کے ذریعے ان کا دراسہ علمیہ کیا گیا ہے،فضیلۃ الشیخ دکتور صالح بن حامد الرفاعی حفظہ اللہ نے آپ کے اشراف میں یہ رسالہ مکمل کیا ہے،اور فضائلِ مدینہ کے باب میں یہ کتاب سب سے عمدہ مانی جاتی ہے۔

محدثِ مدینہ کے درسِ حدیث کی بعض خصوصیات

(1) آپ نے حرم شریف مسجدُ الرسول ﷺ میں ماہِ محرم 1406ھ میں درسِ حدیث کی ابتدا کی جس میں بالترتیب صحیح مسلم،صحیح البخاری،سنن النسائی،سنن ابو داود،جامع الترمذی پھر سنن ابنِ ماجہ کا درس دیا،ربع قرن (پاؤ صدی) پر مشتمل کتبِ ستہ کے یہ دروس بروزِ ہفتہ بتاریخ 15 جمادی الاخری 1431ھ کو بحسن و خوبی اختتام کو پہنچے،پھر آپ نے موطا مالک کا درس شروع کیا۔

(2) آپ کے دروسِ حدیثیہ جو چہار دانگِ عالم میں آپ کی شناخت و پہچان ہیں،اور دیگر ماہرینِ حدیث کے دروس سے آپ کو ممتاز کرتے ہیں وہ کتبِ ستہ کے علمی دروس ہیں جن کا طرزِ تدریس در حقیقت دوسری اور تیسری صدی ہجری کے محدثین کی مجالسِ علمیہ کی یاد دلاتا ہے،آپ کی متعدد اور گوناگوں علمی مصروفیات میں سے سب سے اہم مشغولیت تقریباً نصف صدی پر مشتمل آپ کے درسِ حدیث کا سلسلہ ہے،امام ذہبی رحمہ اللہ (متوفی 748ھ) نے «سیر اعلام النبلاء» میں اور دیگر محدثین اور مؤرخین نے کتبِ سیر اور کتبِ تراجم الرواۃ میں محدثین کے دروس اور ان میں حاضر ہونے والے تشنگانِ علومِ حدیث کی کیفیات اور طبقات کی جو تفاصیل لکھی ہیں ان کی جھلک آپ کے علمی دروس میں صاف نظر آتی ہے،مدرس کی عبقری شخصیت،قرونِ اولیٰ کے محدثین کا طرزِ تدریس،تمام واجبات و لوازمات سے آراستہ اور معیاری شرحِ حدیث،رواۃِ حدیث کی مکمل جان کاری اور معرفتِ تامہ اور ان کے طبقات کا مکمل ادراک،رواۃ پر تجریح و تعدیل،رواۃ سے متعلق محدثین کے اقوال کا تذکرہ،ضعیف و مردود رواۃ پر کلام،راوی سے متعلق وارد متعارض اقوال میں جمع و تطبیق اور ترجیح،آپ کے دروس سے استفادہ کی غرض سے طالبانِ علومِ نبوت اور تشنگانِ علومِ حدیث کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر،مشارکینِ درس میں جامعہ اسلامیہ کے نامور دکاترہ و مدرسین اور ان کے تلامذہ کی شرکت،بلا تفریقِ عمر اور طبقہ تمام کا آپ کے درس سے استفادہ کرنا،دورانِ درس اور درس کے بعد دقیق علمی سوالات کے تشفی بخش جوابات دینا جیسی امتیازی خصوصیات جنھیں ہم نے دیکھا اور سنا،کم وبیش وہی خصوصیات متقدمین محدثین کے دروس اور مجالسِ علمیہ میں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

(3) فضیلۃ الشیخ استاذ دکتور عبد الرحمن الرشیدان حفظہ اللہ (استاذ کلیۃ الحدیث الشریف جامعہ اسلامیہ،جن سے میں نے «مناہج المحدثین» پڑھی ہے) آپ کے درس میں اپنی گرج دار و سریلی آواز اور جچے تلے انداز میں حدیث پڑھتے،اور آپ حفظہ اللہ حدیث کی شرح کرتے،محدثین کے اقوال کی روشنی میں مسائل ذکر کرتے،پھر حدیث سے فوائدِ حدیثیہ مستنبط کرتے،بسا اوقات اس حدیث سے متعلق بر وقت کوئی سوال آیا ہوا ہو تو شیخ الرشیدان اسی موقع پر اسے پڑھ دیتے اور آپ اسی لمحہ اس کا جواب دے دیتے،فقہی مسائل میں جمہور کے مسلک کے ساتھ عصرِ حاضر کے علماءِ ربانیین کے اقوال بھی پورے احترام کے ساتھ ذکر کرتے،مثلاً بعض مسائل اور فتاویٰ میں ہم نے «قال سماحة الشيخ شيخنا بن باز رحمه الله» اور «وبه قال شيخنا فضيلة الشيخ الشنقيطي رحمه الله» جیسے اقوال آپ کی زبان سے سنے ہیں۔

(4) شرحِ حدیث کے بعد سندِ حدیث کا مرحلہ بڑا ہی نرالا اور قابلِ دید ہوتا جس میں آپ کی محدثانہ شان اور تبحّرِ علمی کھل کر سامنے آتی تھی،حدیث کی شرح کے بعد شیخ الرشیدان اس حدیث کی سند دوبارہ پڑھتے ہوئے ہر ایک راوی پر رک جاتے تو شیخ العباد حفظہ اللہ اس راویِ حدیث سے متعلق کسی کتاب میں دیکھے بغیر براہِ راست اپنے حافظہ سے مندرجہ ذیل معلومات ذکر کرتے:

٭ راوی کا مکمل نام،باپ دادا کا نام اور حسب و نسب

٭ صحابۂ کرام کے اسماء میں شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کی جانب سے طبقات کی تقسیم کا ذکر،(مثلاً: ھو من الطبقۃ الخامسۃ،فلان من الطبقۃ الثامنۃ وغیرہ)

٭ جرح و تعدیل کے اعتبار سے اس راوی کے مقبول یا مردود کا ذکر

٭ راوی سے متعلق ثقۃ،مقبول،مردود،صححہ فلان وضعفہ فلان جیسے الفاظ کا تذکرہ

٭ اس راوی کی دیگر احادیث جن کتبِ احادیث میں آئی ہیں ان کا تذکرہ: «أخرجه الشيخان،أخرجه أصحاب السنن الأربعة،أخرجه أصحاب الكتب الستة،وأخرجه فلان وفلان» جیسی تعبیراتِ حدیثیہ سے کرتے تھے۔

یہ تمام فنی باریکیاں اور راویِ حدیث سے متعلق تفصیلی معلومات کسی رکاوٹ اور ہچکچاہٹ کے بغیر آپ اپنے حافظہ سے بولتے جاتے تھے،اور اتنی روانی سے کہ بسا اوقات سامعین طلبہ لکھ نہیں پاتے،لگتا تھا کہ آپ نے تہذیب الکمال فی اسماء الرجال للمزی،تعجیل المنفعۃ للحافظ ابنِ حجر جیسی کتبِ اسماء الرجال مکمل حفظ کرلی ہوں۔

بسا اوقات کتبِ اربعہ (سنن ابو داود،جامع الترمذی،سنن النسائی اور سنن ابنِ ماجہ) اور دیگر کتبِ احادیث کی احادیث پر صحت یا ضعف کا حکم لگاتے ہوئے محدثِ زمانہ امام الالبانی رحمہ اللہ کا حکم «صحّحه الشيخ ناصر،ضعّفه الشيخ ناصر» جیسے مؤدبانہ الفاظ سے ذکر کرتے تھے۔

رواۃِ حدیث میں پائے جانے والے ہم نام رواۃ کے فرق کو یاد رکھنے کے لیے کچھ ضوابط اس انداز میں ذکر کرتے کہ فنِ حدیث کا غیر متخصص مواظِب طالب بھی اسے یاد رکھ پاتا،مثلاً طبقۂ تبعِ تابعین کے دو مشہور راویانِ حدیث «سفیانین» کے فرق کو بہت بار ذکر کرتے کہ اس سند میں سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں یا سفیان بن عیینہ ہیں،اور آپ کے درس میں پابندی سے شریک ہونے والے طلبہ اس فرق کو یاد رکھتے تھے۔

درسِ حدیث میں صرف احادیث کی شرح کرنے اور فوائد کا استنباط کرنے والے اہلِ علم تو بہت پائے جاتے ہیں،لیکن ماہرینِ حدیث کے اس عہد میں آپ کی طرح رواۃِ حدیث پر کلام،علم الرجال کی باریکیاں،رواۃِ حدیث پر جرح و تعدیل اور علل الحدیث کی معرفت جیسی فنی باریکیاں بتانے والے شاذ و نادر ہی ہوں،واللہ أعلم۔

(5) آپ کے درس میں جامعہ اسلامیہ کے مختلف مراحل (بکالوریوس،ماجستیر اور دکتوراہ) کے درجنوں طلبہ شریک ہوتے تھے،بلکہ بعدِ نمازِ عصر جب طلبہ جامعہ سے مسجدِ نبوی جانے کے لیے جامعہ کی بسوں میں سوار ہوتے تو آپ کے درس میں شریک ہونے والے مواظِب طلبہ کے ہاتھوں میں دار السلام سے مطبوع کتابِ حدیث کے نسخے اس بات کی غمازی کر رہے ہوتے کہ یہ طلبہ عَبَّادِی (شیخ العباد کے درس کے مُواظِب طلبہ) ہیں،طلبہ پوری طالبانہ شان و اہتمام کے ساتھ شریک ہو کر استفادہ کرتے،ہر اہم و مفید بات کتاب کے حاشیے پر لکھ لیا کرتے،حتیٰ کہ امتحانات کے ایام میں بھی اکثر طلبہ آپ کے درس میں غیر حاضری کو نارَوا سمجھتے۔اور اساتذۂ جامعہ بھی طلبہ کو شیخ حفظہ اللہ کے درس میں مُواظَبَت سے شرکت پر ابھارتے۔

(6) طلبہ آپ کے درس سے استفادہ کے اس قدر حریص ہوتے کہ بعدِ نمازِ عصر ہی اپنی کتاب یا مصلیٰ وغیرہ کے ذریعے شیخ حفظہ اللہ کی کرسئ درس کے قریب اپنے لیے جگہ حَجز (ریزرو) کر لیتے۔

(7) آپ کے درس میں طلبہ کے علاوہ جامعہ اسلامیہ کے اساتذۂ کرام کی ایک معتد بہ تعداد بھی شریک ہوا کرتی،بعض دفعہ ہم کچھ مشارکینِ درس کو جامعہ کا طالب سمجھتے تھے،در اصل وہ دکتور اور جامعہ میں استاد کے منصب پر فائز ہوتے،ہم نے بذاتِ خود کلیۃ الحدیث میں پڑھانے والے کئی مشایخ کو شیخ العباد کے درس میں پابندی سے شریک ہوتے دیکھا،مثلاً ہمارے استاذِ محترم فضیلۃ الشیخ الاستاذ الدکتور سعود بن عید بن عمیر بن عامر الجربوعی رحمہ اللہ (مؤلفِ كتاب «الأحاديث الواردة في فضائل الصحابة»،12 جلدوں پر مشتمل رسالۂ دکتوراہ،اور محققِ کتاب «الفوائد المنتخبة الصحاح والغرائب،تخريج الإمام أبي بكر الخطيب البغدادي،للشيخ أبي القاسم يوسف بن أحمد الهمداني»،3 جلدوں پر مشتمل رسالۂ ماجستیر،اور کئی اہم و مفید کتابوں کے مصنف) اور آپ کے سگے بھائی دکتور عبد اللہ الجربوعی کو میں نے بارہا شیخ کے درس میں شریک ہوتے دیکھا ہے،بلکہ اول الذکر سے قولاً و عملاً شہ پا کر میں بھی کافی عرصہ آپ کے درس میں شریک رہا،بسا اوقات طویل تجربہ رکھنے والے ستر اسی سالہ معمر اساتذۂ جامعہ بھی آپ کے درس سے استفادہ کرتے نظر آئے۔

(8) اس وقت عالمِ اسلام کے بعض مشہور اہلِ علم مثلاً شیخ وصی اللہ عباس،شیخ ابو المعز فرکوس اور بعض ائمۂ حرم وغیرہم حفظہم اللہ بھی آپ کے درسِ حدیث اور علم کے خوشہ چیں رہے ہیں۔

(9) مسجدِ نبوی میں کئی اہلِ علم عقیدہ،تفسیر اور فقہ جیسے شرعی علوم و فنون پر یومیہ اور ہفتہ واری دروس دیتے ہیں،قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فقیہِ مدینہ فضیلۃ الشیخ سلیمان الرحیلی اور دیگر بعض اہلِ علم اپنے دروس بعدِ نمازِ مغرب کے بجائے دوسرے اوقات میں منعقد کرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے درس میں شرکت کی وجہ سے طلبہ محدثِ مدینہ کے درسِ حدیث سے محروم رہ جائیں۔

(10) شیخ العباد حفظہ اللہ اپنے درس میں شریک ہونے والے طلبہ کی اپنی اور کچھ مُتَبَرّعِین کی جانب سے طویل عرصہ سے مالی مدد بھی کرتے چلے آرہے ہیں۔اور جو طلبہ اپنا نام تسجیل کروا کر آپ کے درس میں پابندی سے شریک ہوتے انھیں شیخ کی طرف سے سال میں ایک یا دو مرتبہ تقریباً پانچ سو یا ایک ہزار ریال بطورِ مکافاۃ بھی دیا جاتا تھا۔

عالمِ اسلام کے ایک باوقار و معزز ایوارڈ: «جائزة الأمير نايف بن عبد العزيز آل سعود العالمية للسنة النبوية والدراسات الإسلامية المعاصرة» (امیر نایف بن عبد العزیز آل سعود ایوارڈ برائے خدمتِ سنتِ نبویہ اور معاصر دراساتِ اسلامیہ) کے لیے آپ کے نام کی ترشیح ہوئی،بتاریخ 15 رمضان 1436ھ مطابق 2 جولائی 2015ء مدینہ منورہ میں ملک سلمان بن عبد العزیز آل سعود حفظہ اللہ کی صدارت میں ایک تکریمی محفل منعقد ہوئی،جس میں آپ حفظہ اللہ خود شریک نہ ہو سکے،تاہم آپ کے فرزندِ ارجمند فضیلۃ الشیخ استاذ دکتور عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ نے آپ کی نیابت کرتے ہوئے ایوارڈ وصول کیا،اس موقعہ پر شیخ عبد الرزاق نے اپنے والدِ ماجد کا جو پیغام پڑھ کر سنایا ان میں سے دو اہم باتوں کا ذکر مناسب ہوگا،پہلی: شیخ حفظہ اللہ نے اپنے مواظِب تلامذہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح میں نے درسِ حدیث کے ذریعہ میرے تلامذہ کے ساتھ احسان کیا ہے اسی طرح ان طلبہ نے بھی پابندی سے حاضرِ درس ہو کر میرے ساتھ احسان کیا ہے،دوسری: شیخ نے اعلان کیا کہ کُل انعامی رقم ضرورت مند طلبۃ العلم میں تقسیم کر دی جائے گی۔(اس فراخ دلانہ اعلان سے اس فانی دنیا سے آپ کی بے رغبتی اور بے اعتنائی ثابت ہوتی ہے)

(11) آپ کے درس میں پابندی سے شریک ہونے والے طلبہ کے لیے آپ کی جانب سے وقتاً فوقتاً سفرِ عمرہ،حج کی تصریح اور مدینہ منورہ کے اطراف و اکناف میں رحلہ جیسی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے زرین مواقع بھی نصیب ہوتے،آپ کی ان الطاف و عنایات سے طلبۂ جامعہ کے ایک جمِ غفیر نے استفادہ کیا،راقم الحروف بھی ان میں شامل ہے۔

٭ دنیا بھر سے سفرِ عمرہ،سفرِ حج اور دیگر مناسبتوں سے حرمین شریفین تشریف لانے والے اہلِ علم مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد حرمِ نبوی کی زیارت اور آپ کے درسِ حدیث میں شرکت کے سب سے زیادہ متمنی ہوتے،اور آپ کے مفید درس سے استفادہ کو اپنے لیے بڑی خوش نصیبی سمجھتے۔(راقم الحروف کو شعبان 1438ھ میں سفرِ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی،اس دوران مدینہ منورہ پہنچنے اور زیارتِ مسجدِ نبوی کے بعد شیخ العباد حفظہ اللہ سے ملاقات اور آپ کے درس میں شرکت کا جذبہ موجزن رہا،اہلِ علم اور آپ کے شاگردوں کی تقریباً یہی کیفیت ہوتی ہے)

آپ کے دروس کے حوالے سے ایک نرالی بات میں نے یہ بھی دیکھی ہے کہ بعدِ نمازِ مغرب مسجدِ نبوی کی दाहنی جانب شیخ العباد حفظہ اللہ کا درسِ حدیث چل رہا ہوتا ٹھیک اسی وقت مسجدِ نبوی کے کسی اور حصے میں آپ کے لائق و فائق فرزند فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق حفظہ اللہ بھی عقیدے کی کسی کتاب کا درس دے رہے ہوتے،سبحان اللہ! اللہ رب العالمین نے اس علمی خانوادے کو کیسا عظیم شرف بخشا کہ باپ بیٹا دونوں بیک وقت مسجد النبی ﷺ میں کتاب و سنت کا درس دے رہے اور منہجِ سلف کی نشر و اشاعت کر رہے ہوتے ؎ ایں ہمہ خانہ آفتاب است۔

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل و اولاد کا یوں ذکرِ خیر کیا ہے:

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ (72) وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يهدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ (73) (سورة الأنبياء)

جس طرح اسماعیل علیہ السلام نقشِ ابراہیمی پر چلتے ہوئے باپ کے حقیقی وارث ہوئے،توحید کی نشر و اشاعت اور تعمیرِ کعبہ میں دونوں کی مشترکہ کوشش اور جدوجہد کی وجہ سے «وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل» جیسے ذکرِ عظیم سے تا قیامت سرفراز کیے گئے،اسی طرح شیخ عبد الرزاق حفظہ اللہ بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کے سچے وارث ثابت ہو رہے ہیں۔

غالباً سنہ 1429ھ کی بات ہے کہ ایک رات جامعہ اسلامیہ میں شیخ العباد حفظہ اللہ کا درس تھا،شوقین طلبہ حرمِ نبوی سے فوراً حرمِ جامعی لوٹ کر قاعۃ المحاضرات میں داخل ہوئے،کیا دیکھتے ہیں کہ تمام کرسیوں پر شیخ حفظہ اللہ کے ایک کتابچہ «أهمية توحيد العبادة» کے نسخے رکھے ہوئے ہیں،اور منتظمین کی جانب سے مزید نسخے بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں،کچھ ہی دیر بعد شیخ العباد اپنے فرزند شیخ عبد الرزاق حفظہما اللہ کے ہمراہ اسٹیج پر تشریف لائے،اور حمد و ثنا کے بعد درس کی ابتدا کی،درس کا طریقہ یہ تھا کہ سعادت مند فرزند اس کتاب کی قرأت کرتے ہوئے ہر پیراگراف پر رک جاتے پھر والدِ بزرگوار اس جملے کی تشریح کرتے جاتے۔قاری اور شارح کی حیثیت سے باپ بیٹے کا یہ حسین سنگم سامعین کو بہت بھایا،ان دونوں مبارک ہستیوں کی جانب سے اس طرح کے کارہائے نمایاں مسجدِ نبوی شریف اور جامعہ اسلامیہ دونوں جگہ بکثرت وقوع پذیر ہوئے ہیں،عصرِ حاضر میں خدمتِ دین کے باب میں اس نوعیت کی مثالیں خال خال ہی ملتی ہیں۔ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ؎

یہ فیضانِ نظر تھا،یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد اِلٰہِ بخشندہ

آپ کے دروس کا ایک اہم مرحلہ سوال و جواب کا وقفہ ہوتا تھا جس میں اہلِ علم اور عوام الناس کی جانب سے بہت سے علمی سوالات کیے جاتے تھے اور آپ کتاب و سنت کے دلائل اور علمائے ربانیین کے فتاویٰ کی روشنی میں ان کے تشفی بخش جوابات دیتے تھے،اس دوران بارہا آپ کی زبان سے «لا أدري» سننے میں آیا جو علمائے ربانیین کا ایک خاص وصف ہے۔

میں نے ایک مرتبہ آپ کے درس میں سنا کہ آپ نے صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب: لا یدخل الجنۃ الا نفس مسلمۃ،حدیث نمبر: 178 / «إن الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر» کی شرح میں فرمایا کہ: عصرِ حاضر میں الرجل الفاجر سے مراد مفتاح کنوز السنۃ کے مؤلف مشہور مستشرق ڈاکٹر اے،جے ونسنگ ہے۔

کتبِ سیر میں بعض محدثین کے تعلق سے مذکور ہے کہ آخری عمر میں ان کی بینائی جاتی رہی۔سنہ 1428ھ کے آس پاس آپ کی بینائی دھیرے دھیرے پوری طرح ختم ہو گئی۔(ہم نے بارہا دیکھا کہ جامعہ اسلامیہ کے بابِ خلفی کے قریب شیخ حفظہ اللہ گھر کے سامنے اپنے والدِ ماجد کی بنائی ہوئی مسجد المحتسب میں خود چل کر نماز کے لیے جایا کرتے تھے،پھر جب آپ کی بینائی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی تو آپ اذان کے بعد اپنے گھر کے باہر کھڑے ہو جاتے اور مسجد جانے والے طلبہ یا مصلیٰ آپ کا ہاتھ تھامے آپ کو مسجد پہنچا دیتے اور واپسی کا بھی یہی حال ہوتا،اس دوران طلبہ کی جانب سے سوال و جواب کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔راقم الحروف کو ایک دو مرتبہ یہ شرف حاصل ہوا ہے والحمد للہ۔سنہ 1427ھ کے آس پاس شیخ العباد حفظہ اللہ کے والدِ ماجد شیخ حمد رحمہ اللہ جو ان دنوں نوے سال کی عمر سے متجاوز تھے خود اپنی مسجد میں اذان دیا کرتے تھے،اور کبھی کبھار حرمِ نبوی میں اپنے ایک ڈرائیور عبد الخالق صاحب کی مدد سے وہیل چیئر پر بیٹھے دکھائی دیتے تھے)

شیخ حفظہ اللہ کی تالیفات و تصنیفات

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے سابق نائب رئیس (وائس چانسلر) شیخ بن باز رحمہ اللہ کے بعد سنہ 1391ھ سے 1399ھ تک آپ اس ذی وقار اور عالی مرتبت عہدے پر فائز رہے،تقریباً نصف صدی تک آپ نے مسجدِ نبوی میں مختلف دروس دیے اور ادارتی مشغولیات کے ساتھ درس و تدریس،فقہ و فتاویٰ،علمی رُدود اور تصنیف و تالیف جیسی متعدد اور متنوع خدمات انجام دی ہیں،پھر آپ نے 1399ھ میں جامعہ اسلامیہ کے نائب رئیس کے عہدے سے بصد اصرار مستعفی ہونے کے بعد اپنے آپ کو تعلیم و تدریس اور دیگر متنوع خدماتِ دین کے لیے وقف کر دیا،آپ نے اپنی تصانیف میں قرآن،حدیث،فقہ،علمی ردود اور حالاتِ حاضرہ میں پیش آنے والے مختلف حالات کی مناسبت سے تقریباً تمام شرعی علوم و فنون کا احاطہ کیا ہے۔

آپ کی تصانیف کی بڑی خصوصیت تاصیلِ علمی اور مواد کی کثرت ہے جن میں دلائل کا انبار،منہجِ سلف کی پاسداری اور فہمِ سلف کی ترجمانی،موضوع کا احاطہ و استیعاب اور علمائے سلف و خلف کے اقوال و فتاویٰ جیسی چیزوں کا تذکرہ بسط و تفصیل سے ہوتا ہے،لفّاظی اور عشوائیت سرے سے ناپید ہوتی ہے،اسی طرح آپ کی کچھ تصنیفات کُتیّبات کی شکل میں ہوتی ہیں،جن میں موضوع سے متعلق بھرپور علمی معلومات ہوتی ہیں،ایک اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق آپ کی چھوٹی بڑی کوئی بھی تصنیف فروخت ہوتی ہوئی کبھی دیکھی نہیں گئی،بلکہ وہ طلبہ اور اہلِ علم کے لیے ہمیشہ تقسیم کی جاتی رہی ہیں،اور ابھی بھی کی جا رہی ہیں۔

آپ کی سب سے پہلی تصنیف: «اجتناء الثمر في مصطلح أهل الأثر» ہے جو سنہ 1381ھ میں منظرِ عام پر آئی،پھر سنہ 1427ھ میں «من كنوز القرآن الكريم» شائع ہوئی،اس پینتالیس سالہ مدت میں آپ کی تقریباً دو درجن تصانیف شائع ہوئیں،بعدہٗ سنہ 1427ھ میں آپ کی تمام چھوٹی بڑی اور قدیم و جدید تصانیف کو علوم و فنون کی ترتیب کے اعتبار سے آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم مجموعہ کی شکل میں بنام: «كتب ورسائل عبد المحسن بن حمد العباد البدر» طبع کر کے اہلِ علم اور طلبہ میں وسیع پیمانے پر تقسیم کیا گیا،قلیل مدت میں پہلے ایڈیشن کے ختم ہو جانے کے بعد سنہ 1428ھ میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع کیا گیا۔جامعہ اسلامیہ میں دورانِ طالبِ علمی میں نے شیخ حفظہ اللہ کے فرزندان کو دیکھا کہ وہ اپنے والد کی علمی وراثت (علمی ذخیرہ) کے دو دو تین تین وزنی مجموعے ہاتھوں میں اٹھائے خوشی خوشی طلبہ اور اہلِ علم میں تقسیم کر رہے ہیں،شیخ العباد حفظہ اللہ کی اسی تراثِ علمی کی تقسیم کے موقع پر مجھے بھی دوسرے ایڈیشن کے دو نسخے ملے جن سے بفضل اللہ و توفیقہ وقتاً فوقتاً استفادہ ہوتا رہتا ہے۔

میں نے اپنی ایک کتاب «حفظِ قرآن مجید کے اصول و ضوابط» میں آیاتِ متشابہات کے باب میں آپ کی ایک اہم کتاب: «آيات متشابهات الألفاظ في القرآن الكريم وكيف التمييز بينها" سے استفادہ کیا،اور آیاتِ متشابہات کی تصانیف کے باب میں سب سے پہلے شیخ کی اسی کتاب کا تبرکاً ذکرِ خیر کیا ہے۔

اللہ تعالی شیخ حفظہ اللہ کو صحت وعافیت دے،آپ کی عمر میں برکت عطا کرے،اہلِ علم اور طلبہ کو آپ کے علم سے استفادہ کرکے اسے نشر کرنے کی توفیق دے اور امتِ محمدیہ کو آپ کا نعم البدل نصیب کرے۔وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

محدثِ مدینہ اور ان کے درسِ حدیث کی بعض خصوصیات - دی فری لانسر | دی فری لانسر