ذکر کا لغوی معنی:
لغوی اعتبار سے ذکر کا معنی یاد کرنا ہوتا ہے۔زبان پر کسی چیز کو جاری رکھنے کو بھی ذکر کہتے ہیں۔ذکر کا ایک معنی شہرت بھی ہوتا ہے،
ذکر کا اصطلاحی معنی:
غفلت اور نسیان سے محفوظ رہنے کا نام ذکر ہے۔راغب فرماتے ہیں: ذکر بول کر بھی نفس کی وہ ہیئت مراد ہوتی ہے جس سے انسان کے لیے حاصل شدہ معرفت کا محفوظ رکھنا ممکن ہوتا ہے۔کبھی کسی چیز کے دل میں حاضر ہونے کا نام ذکر ہوتا ہے اور کبھی زبان سے اس کے بولنے کو ذکر کہتے ہیں،
اللہ کا ذکر ایک عظیم نعمت اور گراں قدر عطیہ ہے،
جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی یہ قدر و منزلت،
ذکر کی فضیلت:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ،
«کیا میں تمھیں تمھارے شاہ (اور مالک) کے نزدیک تمھارے اعمال میں سب سے اچھے اور پاکیزہ اور تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والے اور تمھارے سونے چاندی خرچ کرنے سے بھی اچھے اور دشمنوں سے مقابلہ کرکے ان کی گردن مارنے اور ان سے اپنی گردن کٹانے سے بھی اچھے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟» لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے،
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:
«مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ،
اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور اپنے رب کا ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔(بخاری)
یعنی ذکر کرنے والا زندہ ہوتا ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي،
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں،
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اذۡكُرُوۡا اللّٰهَ ذِكۡرًا كَثِيۡرًا ۙ
[الاحزاب:۴۱]
(مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کرو)
اور فرماتا ہے:
وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ
[الاحزاب:۳۵]
(بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں)
ان آیات میں کثرت اور شدت کے ساتھ ذکر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ثمرات بیان کیے گئے ہیں۔اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ بندہ اس کا شدید محتاج ہے اور اسے ایک لمحے کے لیے بھی ذکرِ الٰہی سے استغنا حاصل نہیں ہے۔
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«لِكُلِّ شَيْءٍ جِلاءٌ،
(ہر چیز کو چمکانے کا ایک عمل ہوتا ہے اور دلوں کو چمکانے کا عمل اللہ عزوجل کا ذکر ہے)
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ دلوں پر بھی ایسے ہی میل بیٹھ جاتی ہے جیسے تانبے،
دلوں پر سیاہی اور زنگ دو باتوں کی وجہ سے لگتے ہیں: غفلت اور گناہ کی وجہ سے۔اور ان کو صیقل بھی دو ہی چیزوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے: استغفار اور ذکر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا [الکہف:۲۸]
(دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے)
اگر کسی آدمی کو کسی کا ساتھ پکڑنا ہو اور اس کی پیروی کرنی ہو تو وہ یہ دیکھ لے کہ شخصِ مطلوب اہل ذکر میں سے ہے یا اس کا شمار غافلوں میں ہے،






