جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یہ زندگی کی حقیقت ہے، استعارہ نہیں

کلام: محمد وسیم مخلصؔ16 ستمبر، 20261,359قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ زندگی کی حقیقت ہے، استعارہ نہیں
فل اسکرین دیکھیں
میرا عروج کسی طور اسے گوارا نہیں
سوائے جس کے کوئی اور مجھ کو پیارا نہیں
تو ساتھ چھوڑ دے میرا مگر خیال رہے
پلٹ کے میں نے کسی کو کبھی پکارا نہیں
پسِ حیات بھی میرا غرور قائم ہے
سکونِ دل کا کوئی آج بھی سہارا نہیں
وہ کچھ «خواص» جو سب کو «عوام» کہتے ہیں
میری نگاہ میں ان سا کوئی بیچارہ نہیں
گزرتے رہتے ہیں ہر روز پلِ صراط سے ہم
یہ زندگی کی حقیقت ہے، استعارہ نہیں
نظر میں بس گئے کچھ ایسے خوابِ دیرینہ
کہ انبساطِ نظر کا کوئی کنارہ نہیں
فضا کے ہاتھ ہیں خوں بار اور دامن تار
ہوس پرستیٔ دل پر کوئی اجارہ نہیں
اٹھو اے نوحہ گرو، توڑ ڈالو دستِ قضا
یہ ابتلائے شب و روز اب دوبارہ نہیں
میرا عدو بھی بہت مختلف نہیں مخلصؔ
اسے بھی میری طرح عشق نے سنوارا نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یہ زندگی کی حقیقت ہے، استعارہ نہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر