بیماریاں جسمانی ہوں یا روحانی،
آج کے خوارج بھی وہی کررہے ہیں۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت سے ان کی شہادت تک کا جو سفر خوارج نے طے کیا تھا وہی سفر اِنھیں بھی درپیش ہے۔خارجی شدت پسندی نے جسے خلافت کا اکیلا حق دار سمجھا اسے اپنے من موافق اقدامات کرتے ہوئے نہ پاکر شہید کردیا۔اخوانیت کے علم بردار سید قطب کو دنیا میں دین نظر نہ آیا تو جمعہ کی نماز تک چھوڑ دیا۔جاہلیت کی ایسی شناخت سے پناہ جو سراپا جہالت میں تبدیل ہوجائے۔
روافض ان سے بھی آگے نکل گئے،
تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ روافض کو اتنی دورکی سوجھی۔۱۹۷۹ میں رافضیت نے انقلاب کا جشن منانے کے لیے دو ایسے سنیوں کو بھی شریک کرلیا جن کے دامن پر صحابہ کی تنقیص کا داغ تھا۔روافض نے اس دھبے کو تمغہ بنادیا،
سید قطب نے عربی دنیا اور سید مودودی نے اردو دنیا میں انقلاب کے نام پر خروج وبغاوت کے جو بیج بوئے تھے اس سے اگے ہوئے درخت آج بھی پھل دیتے ہیں اور قسم قسم کے بیمار بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
رافضی انقلاب کے ابھی پچاس سال بھی مکمل نہیں ہوئے،
یہ مطالعہ بہت دلچسپ ہوگا کہ دو انتہاپسند نظریات (خوارج وروافض)۱۹۷۹ میں ایک کیسے ہوگئے اور عالم اسلام میں ایسا گل کھلانے لگے کہ آج اہل حدیثوں کے بھیس میں گلی گلی روافض کے حامی گھومتے ہیں،
روشنی کی تلاش میں جسم وروح کے مختلف عوارض میں مبتلا ایسے دل دماغ بھی زبان وقلم کے حامل ہیں جن کا روافض وخوارج سے کوئی رشتہ نہیں مگر اپنی حرکتوں میں انہی کے آلہ کار ہیں۔علم سے ناطہ ہے نہ اہل علم سے،
ایران پر حملہ اور ایران کا حملہ،
فلسطین کی دردشا تو ویسی ہی ہے،
یہ بیچارے اگر مان بھی لیں کہ ایران اس وقت یمن کی طرف سے گریٹر ایران کی توسیع میں لگا ہے تو فلسطین سے ان کی ہمدردیوں کا کیا ہوگا؟ سعودی عرب سے ان کی شکایتوں کا کیا ہوگا؟ ایران سے ان کی امیدوں کا کیا ہوگا؟
ممدانی کی جیت پر تو یہ ایسے تالی بجارہے تھے جیسے صلاح الدین ایوبی یروشلم پر فتح کا جھنڈا لہرا رہے ہوں!
کہاں گئے یہ تالی بجانے اور جھنڈا لہرانے والے لوگ؟
یہ جاننے کے لیے ’پس منظر‘ پڑھیے،
انسان کے پاس اصول ومبادی نہ ہوں،
بات چاہے جتنی غلط ہو،
نسیم حجازی اور عنایت اللہ التمش کی ناولیں آپ نے پڑھی ہوں گی۔یہ حضرات ایسے لکھتے تھے جیسے مسلم قائدین کے ساتھ بند کمروں میں یہی میٹنگیں کرتے اور میدان جنگ میں ان کا میمنہ،
تحریکی اگر پڑھا لکھا ہو تو اس سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ انصاف سے کام لے گا۔تحریکی صرف تحریکی ہوتا ہے،
ایک اثنا عشری اسماعیلی رافضی،
جہالت؟ سطحیت؟ دانشوری؟ خود کو ہر فیلڈ کا ماہر ثابت کرنے کی عجلت؟ یا پھر فطری خیر خواہی اور محض بھولا پن؟
آدمی کچھ نہ بولے تو بہت حد تک اس کی امیج سلامت اور ساکھ بحال رہتی ہے۔بھرم قائم رہتا ہے۔ہر جگہ من موافق اور مدفوع بات رکھنے،
ایک زندیق جس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسا اعتقاد-تعالى الله علوا كبيرا-ہو کہ پڑھتے ہوئے شرم آئے،
اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یقین کریں یا تو اس کے پاس علم نہیں ہے،
بھلا اللہ جل جلالہ کی ذات اور اپنے عقیدہ و دین سے کون سی مصلحت اعلی و ارفع ہے کہ انسان محض اپنی سطحیت میں اس کا سودا کرجائے اور دانشوری کے چکر میں اسے یہ بھی احساس نہ ہو کہ وہ کس کا ڈھول پیٹ رہا ہے؟
میں کچھ دنوں سے اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث: (إنّ اللهَ ليؤيِّد هذا الدينَ بالرَّجلِ الفاجرِ) پر غور کر رہا ہوں اور مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جن فاجروں کے ذریعے اپنے دین کی مدد کی ہے،
امام العصر علامہ ابن باز-رحمہ اللہ-نے کہا تھا: "لا يُعِزُّ اللهُ دينَه بِرافِضِيٍّ" (اللہ تعالیٰ کسی رافضی کے ذریعے اپنے دین کو طاقت وقوت اور شرف وعزت عطا نہیں کرتا)
اب تک مجھے ایسا کوئی رافضی نظر نہیں آیا جس نے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی قابل ذکر خدمت اور ان کے ساتھ خیر خواہی کی ہو۔
سوائے اسلام اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے ان کے ہاتھوں اور کوئی کام نہیں ہوا۔ہمیشہ اسلام دشمنوں کے ساتھ رہے اور مسلسل مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہے۔یہی ان کا ماضی ہے اور یہی حاضر اور اسی پر معتبر علماء اسلام کا اتفاق بھی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: 728ھ) نے فرمایا:
"فقد عُرِف مِن مُوالاتهم لليهودِ والنّصارى والمشركين،
(منھاج السنۃ 3/452)
یعنی: ان رافضیوں کی یہود ونصارى اور مشرکین سے دوستی اور مسلمانوں کے خلاف ان کا تعاون عوام وخواص سب کے یہاں اس قدر معروف ہے کہ کہا جاتا ہے: اگر ایک مسلمان کی کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک سے لڑائی ہو جائے تو رافضی ہمیشہ یہودی،
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان رافضیوں کی کارستانیوں اور مسلسل سازشوں کا آپ نے یہ کہہ کر خلاصہ کردیا کہ:
"والرَّافِضَةُ لَيْسَ لهُم سَعْيٌ إلّا فِي هَدْمِ الإسلامِ،
(منهاج السنۃ النبویۃ 7/416)
یعنی: روافض ہمیشہ اسلام کو ڈھانے،
اسی لیے آپ نے نہ صرف روافض کو ہمیشہ کچلنے کی تلقین کی ہے بلکہ اسے ایک عظیم عبادت قرار دیا ہے،
"سَعْيُ المُسلِمینَ في قَھْرِ الرَّوافِضِ مِنْ أعظَمِ الطَّاعاتِ و العِبادَاتِ"
(جامعُ المَسائل 7/437)
یعنی: مسلمانوں کا رافضیوں کو کچلنے کی کوشش کرنا عظیم ترین عبادت اور اللہ تعالى کی بہترین فرمانبرداری ہے۔
جو لوگ ایسے افراد کے لیے ڈھول پیٹتے اور عجلت میں اپنے سطحی علم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دانش وری دکھاتے ہیں؛
فلسطین پر آنسو بہاتے وقت بھی نظریہ وہی رہتا ہے۔وہی آئیڈیا لوجی کام کرتی ہے۔بڑی چالاکی سے غزہ کی بربادی کے پیچھے موجود رافضی مائنڈ سیٹ اور رافضی و نیم رافضی گٹھ جوڑ کو نہ صرف یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے،
شام،
کیا آپ نے اس پر بھی اس طبقہ کے یہاں وہ شور شرابہ سنا جو فلسطینی مسلمانوں کے لیے دیکھا اور سنا؟ اگر اصل محبت اسلام اور مسلمانوں ہی سے ہے تو دونوں جگہ یہ واضح فرق کیوں ہے؟
در اصل یہ آنسو فلسطین کے بہانے حماس کے لیے ہوتے ہیں۔یہ شور شرابہ غزہ کے لیے کم اور غزہ کو برباد کرنے والی نیم رافضی جماعت حماس کے لیے زیادہ ہوتا ہے۔منہ پر نام فلسطین اور غزہ کا ہوتا ہے،
جہاں رافضی کھلا مجرم ہوتا ہے،
وجہ کیا ہے؟
موقف میں یہ کھلا تضاد اور گفتگو میں یہ واضح نفاق کیوں ہے؟
یہ تضاد اسلام اور مسلمانوں سے محبت کا نتیجہ ہے یا کسی خاص آئیڈیا لوجی کا رہین؟
سو کے قتل پر چپ سادھ لینے اور دس کے قتل پر آسمان سر پر اٹھا لینے کی اصل وجہ کیا ہے؟ جبکہ پہلی جگہ بوجوہ نقصان بہت زیادہ اور دوسری جگہ خسارہ اس کی بہ نسبت بہت کم ہے۔
کسی ملحد،
کبھی آپ نے سوچا کہ دانشوروں کے یہاں اخوانیوں اور تحریکیوں کے ساتھ ساتھ رافضیوں کے تئیں بھی کسی نہ کسی انداز میں ہمدردی کیوں پائی جاتی ہے؟ رافضیوں،
دوسری طرف یہی کشادگی طالبان علوم نبوت سے لے کر کتاب وسنت کے پاسدار علماء اور سلف صالحین کے خوشہ چینوں کے لیے دور دور تک کیوں نظر نہیں آتی ہے؟ اس کے برعکس سلفی بیانیہ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ہمہ وقت یہ جتھا تیار رہتا ہے۔ایسا کیوں؟
اسے نہ رافضیوں سے پریشانی ہے نہ اخوانیوں سے،
ایک طرف یہ طبقہ کبھی نہ رافضیوں کے خلاف کھل کر لکھے گا،
دوسری طرف سلفی بیانیہ کو رد کرنے میں ہر طرح کا اسلوب اپنائے گا۔کچھ نہیں ملے گا تو استہزاء اور تمسخر ہی سے دل کی بھڑاس نکالے گا۔
اس طبقہ کے پاس دو انتہائیں ہیں:
ایک طرف تو یہ ان اسلام دشمنوں اور باطل نظریات کے حاملین (رافضیوں سے لے کر تحریکیوں تک) کی چھوٹی سے چھوٹی خوبی کو چاہے وہ محض زبان تک ہی محدود ہو،
دوسری طرف جو اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی خیر خواہ ہیں ان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی خوب ہائی لائٹ کرے گا۔چاہے اس طرح کی کمی سے وہ اور اس کا معاشرہ خود لت پت ہو۔ان کی پہاڑ جیسی خوبیوں پر ممکنہ حد تک کبھی نہیں گفتگو کرے گا۔
کبھی آپ نے غور کیا کہ اس کے یہاں یہ دونوں انتہائیں اس خوبی کے ساتھ کیوں پائی جاتی ہیں؟ یہ کسی نظریہ اور فکر کا حتمی نتیجہ ہیں یا محض وقتی مواقف کی اسیر ہیں؟
وقتی مواقف اس طرح ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔اس طرح کی یکسانیت صرف ان مواقف میں پائی جاتی ہے جن کے پیچھے ایک ٹھوس نظریہ اور ایک پختہ آئیڈیا لوجی ہو۔
نتیجتاً مشرق سے مغرب تک،
کبھی آپ نے غور کیا کہ عالم اسلام پر گفتگو کرتے ہوئے اکثر ہمارے دانش ور طبقہ کے بیانیہ کا کوئی نہ کوئی سرا اخوانیوں اور تحریکیوں کے موقف سے کیوں جا ملتا ہے؟ کسی نہ کسی اینگل سے سلفی بیانیہ کے الٹ اور اس کے مخالف کیوں ہوتا ہے؟
چاہے نیم رافضی حماس کے طوفان اقصیٰ کا رافضی پلان اور اس کے تباہ کن نتائج پر بحث ہو،
بعینہ یہی حال ان خالص علمی مسائل میں بھی ہے جن کا تعلق خصوصیت کے ساتھ شرعی سیاست (السياسۃ الشرعیۃ) سے ہے۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا پھر کسی پختہ آئیڈیالوجی اور راسخ طرز فکر کا نتیجہ؟
اُدھر پوری اخوانی لابی اس رافضی شخص کے لیے لابنگ کر رہی ہے۔بعض بے ضمیر اور بے شرم اخوانی اس اسماعیلی جیت کو ”غزہ کی مبارک جیت“ کا امتداد اور نام نہاد”طوفان اقصی“ کا مثبت نتیجہ بتا رہے ہیں۔اِدھر ہمارا دانش ور طبقہ بھی اس کا کسی نہ کسی انداز میں ڈھول پیٹ رہا ہے۔
یہ محض اتفاق ہے؟ یا کوئی نظریہ،
پورا ایک گروہ ہے جس میں نیم رافضیوں سے لے کر دانشوروں تک،
گزشتہ تقریباً دو سالوں کا مشاہدہ بتلاتا ہے کہ دانش وروں کا یہ طبقہ تقریباً نوے فیصد مسائل اور بحث و مباحثہ میں اخوانی اور تحریکی بیانیہ کی کسی نہ کسی انداز میں حمایت کرتا ہے۔
یہ طبقہ بھلے ہی کسی آپسی خیر خواہی پر متفق نہ ہو۔اس کا آپسی تعلق اگرچہ محض مادی فوائد کا غلام ہو۔منفعت نہ ہو تو کسی کو سلام تک کرنا گوارہ نہ کرے؛
یہ بظاہر بکھرے ہوئے مواقف لگتے ہیں۔بادی النظر میں الگ الگ سوچ کا نتیجہ نظر آتے ہیں۔مگر در حقیقت یہ ایک دوسرے سے بہت مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایک ہی نظریہ،
یہ موقف کسی طوفان اقصیٰ کی تشہیر،
سطحی فکر اس پر پالش لگاتی ہے۔دانشوری اسے مزخرف کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جذبات کا تڑکا لگا کر اسے مارکیٹ میں لانچ کیا جاتا ہے اور نونہالوں نیز کچی فکر کے حاملین کو شکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آنے والے حالات اس موقف کی دھجی اڑا دیتے ہیں۔واقع اس فکر کی حقیقت کو کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے۔آئندہ کل بہت جلد اس پر لعنت بھیجنے لگتا ہے۔جلد یا بدیر خواص وعوام سب اسے پہچان لیتے ہیں۔مگر اخوانی ہو یا تحریکی،
امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کرتے ہیں۔جواباً ایران عربوں پر حملہ کرتا ہے۔اسرائیل پر بیس فیصد تو عربوں پر اسی فیصد بمباری ہوتی ہے۔امریکہ کے بحری بیڑے ایرانی میزائیلوں کے رینج میں ہوتے ہیں مگر ان پر کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔براہ راست امریکی مفادات کا برائے نام نقصان ہوتا ہے۔بر صغیر کا رافضی،
عربوں پر ایران کا حملہ مسلسل جاری رہتا ہے۔امریکہ عربوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں وہ بھی بنفس نفیس شریک ہوں۔اپنے اوپر ہورہے حملوں کا بدلہ لیں۔امریکہ اور امریکی ہمنواؤں کی طرف سے بھر پور کوشش کی جاتی ہے۔عرب اس سے انکار کرتے ہیں۔سعودی عرب اس رفض و انکار کی قیادت کرتا ہے۔لاکھ کوششوں کے باوجود نہ تو امریکہ عربوں کو ایران کے خلاف جنگ میں اتار پاتا ہے نہ ہی ان کی زمین اس جنگ کے لیے استعمال کر پاتا ہے۔بر صغیر کا تحریکی عربوں کی اس حکمت کو بزدلی کا نام دیتاہے۔عربوں کی سرزمین پر امریکی وجود کے تئیں ہر جھوٹ بولتا اور ہر زور پھیلاتا ہے۔زہر کی بیج بوتا اور نفرت کی کاشت کرتا ہے۔نذالت کی آخری سطح تک اتر کر رافضیوں سے اپنی محبت اور عربوں سے اپنی دشمنی کا کھل کر اظہار کرتا ہے۔دانشوروں کا ایک طبقہ اپنے مخصوص انداز میں اس کی حمایت کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ تصویر واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل کی خاطراسرائیلی حکومت غزہ ولبنان میں توسیعی اقدامات پورے زور وشور سےجاری رکھتی ہے۔عظیم کسروی سلطنت کا سپنا آنکھوں میں سجائے فارسیوں کی مجوسی سلطنت ہرمز سے باب المندب تک پہنچ جاتی ہے۔ایران تقیہ کی آڑ میں منافقت کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔مجوسیوں کے آلہ کار حوثی "الموت لأمریکا" اور "الموت لإسرائیل" کے جھوٹے نعرے لگاتے لگاتے بے زار ہوجاتے ہیں۔کھل کر امریکی مفادات کے تحفظ اور بلاد حرمین کی ناکہ بندی کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ان کے ساتھ میٹنگیں کرتے اور انھیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانے کی ضمانتیں دینے لگتے ہیں۔مطلع صاف سے صاف تر ہونے لگتا ہے۔بہت سی بند آنکھیں کھلنے لگتی ہیں۔مگر برصغیر کا تحریکی وہیں کا وہیں رہتا ہے۔نہ اس کے عناد پر کوئی اثر پڑتا ہے نہ بلاد حرمین کے تئیں اس کے بغض میں کوئی کمی آتی ہے۔وہ ہر رافضی خباثت کی توجیہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہر مجوسی منافقت کو جواز فراہم کرنے میں پورا زور لگا دیتا ہے۔اس کا لب ولہجہ اور چہچہاہٹ بتاتی ہے کہ وہ بلاد حرمین کے نقصانات پر کس قدر خوش ہے۔اس کا بین السطور بتلاتا ہے کہ وہ پاسبانان حرم کے زوال وبربادی کا کس قدر متمنی ہے۔دانش وروں کا طبقہ ایسی جگہوں پر یا تو گونگا بن جاتا ہے۔یا دبے لفظوں میں تحریکیوں کی تائید کرتا ہے۔نفس امارہ کے ہاتھوں بہت مجبور اور مصلحت کے آگے بالکل بے بس ہوجائے تو قلم چھڑک کر بھاگ جاتا ہے۔کھل کر کبھی حق کی حمایت میں نہیں لکھتا۔وہ فلسفہ آرائیاں اور عقلی موشگافیاں جو رافضیت کى خدمت اور تحریکیت کی سیوا میں دانشوروں کا خاصہ ہوتی ہیں،
ایران باب المندب تک پہنچ جائے،
ایران،
ایرانی مجوسی امریکی ٹینکوں پر بیٹھ کر عراق میں داخل ہوں تو بھی وہ عالم اسلام کا نمائندہ ہیں۔روس کو ہوائی اڈہ دے کر شام پر حملے کروائیں تو بھی درست ہے۔امریکہ کو ہوائی اڈہ دے کر افغانستان پر بمباری کروائیں وہ بھی صحیح ہے۔رافضیت سے محبت بلا شرط ہے۔
عرب ممالک امریکہ کو فوجی اڈہ دیں،
"الموت لأمریکا "اور "الموت لإسرائیل" کا نعرہ لگانے والے حوثی رافضی عین حالت جنگ میں امریکیوں اور اسرائیلیوں سے ڈیل کرلیں۔ان سےعہد وپیمان کریں۔ان کو سلامتی کی ضمانت دیں۔ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔بلاد حرمین کو گھیرنے کے لیے انہی دشمنوں کو ساری چھوٹ دے کر رعایت حاصل کرلیں جن کے نام پر جیتے،
حماس کے غزہ میں سنی بچے رافضی نصاب پڑھیں،
جس طرح رافضیت اور جھوٹ لازم ملزوم ہیں اسی طرح اخوانیت،
اس منظر نامہ کا سب سےافسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس وقت ایران کی رافضی حکومت اور فارس کی مجوسی سلطنت بلاد حرمین کو گھیرنے کے لیے اپنے منحوس رافضی نیٹ ورک کو فعال کیے ہوئے ہے،
یہ وہ ٹولہ ہے جو ضمیر پہلے،
بر صغیر میں اس کی قیادت تحریکی کر رہے ہیں۔اس ٹولے کو شاید اندازہ بھی نہیں ہے کہ یمن میں رافضی تسلط کے نتائج کیا نکلیں گے؟ مجوسیت کا شر صرف یمن کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔یمن تو شام وعراق بنے گا ہی،
کیا اخوانیوں اور تحریکیوں کو شام وعراق کے احوال سے واقفیت نہیں ہے؟ رافضیوں نے گزشتہ دس سے پندرہ سالوں میں عرب ممالک میں جو فساد مچایا ہے اس کی انھیں خبر نہیں ہے؟ جس ہولناکی سے یہ ممالک گزرے ہیں،
در اصل مسئلہ علم اور واقفیت کا نہیں ہے۔مسئلہ اسی فکر اور آئیڈیالوجی کا ہے جو ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔بوجوہ رافضیت سے محبت اور بلاد حرمین سمیت عربوں سے نفرت۔اس محبت ونفرت کے نقطہ اجتماع پر بر صغیر کے سارے بدعتی،
جس طرح بغض وعداوت اور نفرت وکدورت میں ڈوبا تحریکی خلیج میں ہر جگہ امریکی اڈے تلاشتا پھرتا ہے۔اس تلاش میں وہ کذب ونفاق اور نذالت وسفالت کا ہر سفر طے کرتا ہے۔اسی طرح دانش ور بھی دانش وری دکھاتے دکھاتے اور عقلانی فلسفہ آرائی کرتے کرتے نہ صرف ریاض میں سعودی ایمبیسی ڈھونڈ لیتا ہے،
اس میدان میں دانش ور تحریکی سے پیچھے نہیں رہتا۔اکثر اوقات اس کے شانہ بشانہ چلتا ہے۔بس اس کا طریقہ کار ذرا الگ ہوتا ہے۔وہ تحریکی کی طرح پھوہڑ پن نہیں دکھاتا۔بڑے مہذب انداز میں چال چلتا ہے۔تحریکی کی طرح وہ ہر جگہ نہیں پھینکتا۔اسے پتہ ہوتا ہے کب بولنا ہے اور کب انتظار کرنا ہے؟ کب گھات لگا کر بیٹھنا ہے اور کب حملہ کرنا ہے؟ ایک ہوشیاردانش ور ماسک،
دانش وری جس طر ح اپنے پاؤں پسار رہی ہے۔عقلانیت جس طرح عام ہو رہی ہے۔ہماری صفوں میں بھی جس طرح اس کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور نتیجتاً سہولت کاری عام ہوتی جا رہی ہے؛
اس طرح کے ازمات ومسائل میں جب تک آپ جڑ تک پہنچ کر بکھرے ہوئے مواقف کی اصل کو نہیں سمجھیں گے،
جب تک آپ کی بصیرت ہر منظر کے پیچھے جاکر اس کا صحیح پس منظر جاننے کی مخلصانہ کوشش نہیں کرے گی،
((رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ))






