استاذ گرامی مولانا عبد المعید بنارسی رحمہ اللہ کا نام علمی دنیا میں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا،وہ علم و فن کا ایسا ستارہ تھے جو علم کے افق پر تا ابد چمکتا رہے گا۔ان شاء الله
آپ کی علمی،تصنیفی اور تدریسی خدمات کا میدان بہت وسیع ہے،آپ کے شاگردوں کے شاگردوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا ہے،اور ان کے لگائے ہوئے چمن میں ایسے پھول بوٹے ہیں جو ہمیشہ اپنی خوشبو سے مشام جاں کو معطر کرتے رہیں گے۔ہم لوگوں کے لیے یہ بات باعث شرف ہے کہ ہم نے بھی مولانا کے علمی دریا سے اپنی پیاس بجھائی ہے،اور ان کے علم و فن کے خوشہ چیں رہے ہیں۔
مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر اپنے والدین سے حاصل کی،پھر مختصر مدت میں حفظ قرآن جامعہ رحمانیہ میں حافظ عبد القدیر بہاری کے توسط سے کیا،حفظ کے بعد عربی تعلیم مولانا محمد منیر خاں ( م ١٣٦٤ ھ ) جامع المعقول و المنقول سے حاصل کی،فارسی کی تعلیم کی تکمیل حضرت مولانا سید اکبر علی بنارسی ( م ۱۳۶٧ ھ ) سے کی جو ماہر لسانیات فارسی تھے،مزید تعلیم کی تکمیل کے لیے لکھنؤ کا سفر کیا جہاں پر مولانا محمد عمر اعظمی (م١٣٦١ھ) صاحب مسند تھے،اس کے بعد وہاں پر ہی مختلف علوم و فنون کی تکمیل کے لیے مولانا مفتی عبدالقادر فرنگی محلی (م ١٣٧٩ھ ) کی شاگردی اختیار کی،اور علم ہئیت میں مہارت پیدا کرنےکے لیے مولانا محمد علی زینبی امروہی ( م ١٣٦٧ ھ) کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا،’’فن حدیث میں اپنے والد ماجد حکیم عبد المجید صاحب (م١٣٥٦ ھ ) سے کسب فیض کیا،پھر دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں داخلہ لیا اور شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارک پوری رحمہ اللہ ( م ١٩٩٤ ء ) سے علم حدیث میں اکتساب فیض کیا،فن طب کی تکمیل مولانا حافظ محمد عمر بنارسی ( م ١٣٦١ ھ ) سے کی۔“
[ تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٥٢/٢٥٣،ایضا تذکرہ علمائے بنارس ص ٢٠٢/ ٢٠٣،ایضا تراجم علمائے اہل حدیث ج ۱ ص ٢٨٢ ]
استاد گرامی مولانا ابو عبیدہ عبد المعيد بنارسی رحمہ الله تقریباً ہر فن میں مہارت رکھتے تھے اور امام تسلیم کیے جاتے تھے۔
تھا عروض و نحو و صرف و فقہ میں اعلی مقام
فلسفہ،منطق،فلک،جغرافیہ ان کے غلام
علم و فن کا پی لیا تھا شوق سے جام دوام
خیمۂ افلاک میں ہوتے ہیں کم ایسے امام
سچ ہے کہ استاد محترم کو صرف و نحو،عروض و فقہ،فلسفہ اور علم فلکیات و جغرافیہ میں ید طولیٰ حاصل تھا اور آپ ان فنون میں درجۂ امامت پر فائز تھے بلکہ ان کے علاوہ اور دیگر فنون میں بھی آپ کو استناد کا درجہ حاصل تھا۔
استاذ گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:
“علامہ عبد المعید صاحب رحمۃ الله علیہ حافظ اور مجود قاری تھے،مولانا عبد المعید صاحب رحمۃ الله طب و حکمت اور فلسفہ میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے،روز فجر کی نماز کے بعد کیاریوں کے پاس جو جامعہ کی شمالی سمت بنے ہوئے کمروں کے پاس دونوں طرف لگی ہوئی ہیں وہ ٹہلتے اور ہرے بھرے پودوں کو دیکھتے رہتے اور فرماتے کہ یہ آنکھوں کی روشنی کے لیے فائدہ بخش ہیں،مولانا سے طالب علمی کے زمانہ میں کچھ کہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا تھا،تھے تو بہت دبلے پتلے،نحیف و لاغر مگر علم کا سمندر تھے۔“( رشحات قلم ص ٩٤ / ١٨٣ )
مولانا رحمہ الله کے انتقال پر استاذ گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی صاحب نے جو مرثیہ کہا تھا جی چاہتا ہے کہ اس کو بھی نقل کر دوں جس میں مولانا کے تمام کمالات علمی و فنی کا ذکر بڑے ہی سلیقے سے کیا گیا ہے،ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے،اور ان کے تبحر علمی کا راز کھولتے ہیں،دل سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ “ ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی “ استاذ گرامی کہتے ہیں کہ “ کیا کوئی عبد المعید اس دور میں پھر آئے گا “ آئیے مولانا پر لکھا گیا مرثیہ پڑھتے ہیں اور مولانا کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے ہیں:
آہ! وہ تھا علم کا اک بحر نا پیدا کنار
جس کے گم ہونے سے ہیں آنکھیں ہماری اشکبار
کتنے دل والے ہوئے ہیں اس خبر سے دل فگار
کتنی آنکھیں نم ہوئی ہیں،کتنے چہرے سو گوار
آج پیارے ہو گئے اللہ کو عبد المعید
ایں دل محزوں بہ پر نم چشم ایں نظارہ دید
جس کی شخصیت پہ اہل علم کو اک ناز تھا
ہر بلندی کے لیے جس کا پر پرواز تھا
وہ سراپا سوز تھا ہر دم سراپا ساز تھا
جو کبھی تھکتا نہ ہو میداں میں وہ جانباز تھا
آج زیر خاک وہ جوہر بھی آرامیدہ ہے
شورش بزم جہاں کو چھوڑ کر خوابیدہ ہے
ماہ و انجم کی چمک کا بھید اب سمجھے گا کون
آج سورج کے سفر کی داستاں سمجھے گا کون
حرکت افلاک کیسی ہے اسے سمجھے گا کون
کیوں زمیں ہے گول اس کا رازاب سمجھے گا کون
آج پیارے ہو گئے اللہ کو عبد المعید
ایں دل محزوں بہ پرنم چشم ایں نظارہ دید
کون سمجھے گا کلام بوعلی کا زیر و بم
کون سلجھائے گا زلف حکمت لقماں کا خم
کیا ہے رازی کی بلاغت؟ کیا ہے فارابی میں دم؟
کون ہے جاحظ؟ وہ کیا کہتا ہے کاتب کا قلم
کون ہے الجھی ہوئی جو گتھیاں سلجھائے گا
کیا کوئی عبد المعید اس دور میں پھر آئے گا
صبح کی تنویر کیا ہے؟ کیوں شفق ہے لالہ گوں؟
کس کو سیاروں کی گردش ناپنے کا ہے جنوں؟
چاندنی کی کیا حقیقت؟ کیا ہے ظلمت کا فسوں؟
کیسے بن جاتا ہے بادل؟ اور کیا ہے مانسوں؟
کیوں بدلتا ہے نیا ہر روز چولا یہ ہلال؟
کیوں گہن آلود ہے خورشید کیسا ہے ملال؟
کیا بلاغت؟ اور کیا اعجاز کی تفسیر ہے؟
نکتۂ رازی ہے کیا؟ قاضی کی کیا تعبیر ہے؟
کون رخ الٹا ہے؟ کیا سیدھی صحیح تصویر ہے؟
درجۂ جامع ہے کیا؟ حافظ کی کیا تحریر ہے؟
پیش فرمائے گا اشیاء کی صحیح تاریخ کون؟
کون ہے زہرہ عطارد،مشتری مریخ کون؟
وہ سبک رفتار علم و فن کہنہ شہ سوار
اس کے مر جانے سے دل روئے نہ کیوں زار و قطار
صبر کوسوں دور ہے،ہے دامن دل تار تار
علم کے میداں کی پہنائی لگے ہے تیرہ تار
کون سکھلائے گا اب اقبال کا درس خودی
کون عملا پیش فرمائے گا فقر بوذری
اے خدائے ذوالمنن اے صاحب جود و سخا
ہے عزیز ناتواں کی تیرے در پہ التجا
معاف کر دے اے خدا مرحوم کی ساری خطا
جنت الفردوس اپنے فیض سے کر دے عطا
قلب مضطر کو ہمارے اے خدا تو صبر دے
کر خطائیں معاف ان کی نیکیوں کا اجر دے
( رشحات قلم ص ١٨٦ / ١٨٧ )
استاذ گرامی مولانا عبد المعید بنارسی رحمہ اللہ واقعی علم و فن کا اتھاہ اور نا پیدا کنار سمندر تھے،کون سا ایسا فن ہے جس میں وہ درجۂ امامت پر نہ فائز رہے ہوں صرف و نحو،فلکیات،طب،فلسفہ،جغرافیہ،منطق،فن تفسیر،فن حدیث،فقہ و اصول فقہ اور عروض غرض کہ ہر فن میں اتنی معلومات رکھتے تھے کہ فن حدیث و رجال میں استناد کا درجہ رکھنے کے باوجود استاذ گرامی مولانا رئیس احمد ندوی رحمہ اللہ مولانا کے انتقال پر بے ساختہ بول اٹھے کہ مولانا جب تک حیات تھے “ کوئی دشوار مسئلہ پیش آتا تھا کسی بھی فن میں،مولانا کے پاس پہنچتے ابھی سوال پورا ختم نہ ہوتا تھا کہ نقدا نقد جواب مل جاتا تھا اب کون ہماری علمی مشکلات کو حل کرے گا۔“( رشحات ص ٩٥ /٩٦ / ١٨٥ )
مولانا محمد یونس مدنی حفظہ الله اپنی کتاب میں یوں رقم طراز ہیں:
“ آپ صاحب استعداد،اعلی علمی صلاحیت کے مالک تھے یوں تو آپ کو معقولات کا ماہر اور امام سمجھا جاتا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ہر فن میں گہری نگاہ رکھتے تھے مسائل میں علماء کے مرجع تھے اور جب کوئی گفتگو کسی چیز کے سلسلے میں چلتی تو پوری معلومات بیان کرکے سامع کو قانع کر دیتے،وفات کے بعد جامعہ سلفیہ کے بڑے بڑے اساتذہ نے اپنے دکھ کا اظہار کیا اس سلسلے میں مولانا محمد رئیس ندوی کا جملہ بہت دو ٹوک ہے کہ “ مولانا جب تک حیات تھے ہم کو اپنے سوالات کے جواب نقدا نقد مل جاتے تھے اب ہم کس کی طرف رجوع کریں گے “
مولانا مدنی حفظہ اللہ آگے لکھتے ہیں:
“ مولانا برابر “ تصریح “ کے درس کے دوران اپنے عزیز طلبہ اور شاگردوں کو دشاسمیدھ گھاٹ کے اس مقام پر لے جایا کرتے تھے جہاں ایک رصد گاہ ہے اور دھوپ گھڑی وغیرہ نصب ہے آپ کی خواہش تھی کہ جامعہ میں بھی ایک دھوپ گھڑی نصب کر دی جائے۔“( تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٥٤/ ٢٥٥)
مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ سکی اور الله کو پیارے ہو گئے۔
یقیناً ان کو علم فلکیات میں مہارت تامہ حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ استاذ محترم نے دائمی جنتری مرتب فرمائی جو تقریباً ہندوستان کی جملہ مساجد میں آویزاں ہے اور عام و خاص سبھی لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں،شیخ صلاح نے سچ کہا ہے:
ان کی تقويم صلاة پنج وقتہ کو دوام
ہے مساجد کی وہ زینت وہ مفید خاص و عام
دائمی جنتری کے علاوہ مولانا کے قلم سے چند تصانیف و تالیفات بھی منظر عام پر آئی ہیں،مولانا محمد یونس مدنی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:
“ مولانا نے تواضع کی وجہ سے اپنی بہت سی تصنیفات کو ترجمہ کا نام دیا ہے،لیکن در حقیقت وہ ترجمہ نہیں بلکہ مستقل تصنیف ہیں،اور اس فن کی بہت ساری تصنیفات کا خلاصہ ہیں دوسری کتابوں میں اتنا مواد یکجا نہیں مل سکتا،ان تصنیفات کی تفصیل کچھ یوں ہے:
(١) اردو کا آسان قاعدہ ( ۲) عربی کا آسان قاعدہ ( ۳ ) مصادر ( ۴ ) آسان خوشخطی ( ۵ ) فرہنگ “اردو زبان کی پہلی کتاب “ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی (٦ ) فصول اکبری مع حاشیہ اصغری (٧ ) امین الیسری ( ۸ ) اردو میزان منشعب (۹) امین الصرف ( ۱۰ ) امین النحو ( ۱۱ ) امین المنطق ( ۱۲ ) امین الادب ( ۱۳ ) امین الہدایہ (۱۴) امین الکافی ( ۱۵ ) السير الحثيث فى علم الحديث ( ۱۶)امین الصیغہ ( ١٧ ) دائمی اسلامی جنتری [تراجم علمائے اہل حدیث بنارس،ایضا تذکرہ علماء بنارس ص ۲۰۴،ايضًا تراجم علمائے اہل حدیث ص ٢٨٤ / ٢٨٥ ]
استاذ محترم تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کا ایک طویل تجربہ رکھتے تھے،عبارت خوانی میں بے پناہ مہارت حاصل تھی،نحوی و صرفی اغلاط پر بڑی باریک نظر رکھتے تھے،کسی طالب علم سے ذرا بھی چوک ہو جاتی تو فورا ٹوک دیتے اور دوبارہ عبارت پڑھنے کو کہتے تھے۔ہمارے جملہ ساتھیوں کی یہ خوش نصیبی رہی کہ مولانا رحمہ الله سے ہم لوگوں نے دو کتابیں پڑھیں،ایک “ تفسیر جلالین “ اور دوسری کتاب تھی “ امين الكافى “ مولانا “ تفسیر جلالین “ کی عبارتوں کا ایسا جچا تلا ترجمہ کرتے تھے کہ ساری تشنگی دور ہو جاتی تھی اور عبارت کا پورا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجاتا تھا۔
ان کی شخصیت میں ہر اک وصف تھا تکریم کا
کون خوشہ چیں نہیں تھا ان کے،اس اقلیم کا
خاص ملکہ تھا انھیں تدریس کا،تعلیم کا
اور انداز عجب تھا درس کی تفہیم کا
خوب واضح کر دیا کرتے مصنف کا خطاب
ان کے حصے میں ہوا کرتی تھی جو درسی کتاب
مولانا کی پوری زندگی درس و تدریس،تصنیف و تالیف اور ترجمہ میں گزری،مختلف اوقات میں مختلف مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے،اور ایک با اصول انسان کی طرح زندگی گزاری،جامعہ مظہر العلوم بنارس،ندورة العلماء لکھنؤ،جامعہ رحمانیہ بنارس،مدرسہ سلفیہ مان بھوم اڑیسہ،جامعہ فیض عام مئو،اور جب جامعہ سلفیہ بنارس میں تعلیم کا آغاز ہوا تو آپ شیخ الحدیث مبارک پوری رحمہ الله کے مشورہ سے مرکزی دار العلوم بنارس میں مدرس بن کر تشریف لائے اور پھر آخری سانس تک اس کی خدمت میں لگے رہے۔
مولانا محمد یونس مدنی بنارسی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:
“ مولانا ایک اصولی آدمی تھے،زندگی کے تمام شعبوں میں خواہ وہ گھر کے اندر ہوں یا عوام الناس کے درمیان،علماء کی مجالس میں ہوں یا درس گاہ میں ایک مثالی حیثیت رکھتے تھے،مولانا نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزار دی،اور چند ایک سال کےعلاوہ تقریباً زندگی بھر اہل حدیث درس گاہوں سے جڑے رہے “
[تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٥٣ ]
مولانا ناقدانہ نظر کے مالک تھے جو بھی فن ان کے سامنے ہوتا اس پر وہ نقد و نظر فرماتے،حتی کہ وہ جو دوائیں استعمال کرتے تھے ان دواؤں پر بھی وہ نقد کیا کرتے تھے،یہ بات میرے مشاہدے میں آئی ہے،ایک بار مجھ سے ایک لوٹا پانی طلب کیا،پانی لاکر میں نے لوٹے کو اسی جگہ رکھ دیا مگر یہ خیال نہ رہا کہ لوٹا کس رخ پر پہلے رکھا ہوا تھا اور میں نے کس رخ پر رکھ دیا،کہنے لگے لوٹے کا رخ درست کرو،میں حیرت میں پڑگیا،کہنے لگے ( غالبا) لوٹے کی ٹوٹی پچھم تھی اس لیے اسے اسی رخ پر رکھو،میں نے رکھ دیا،کہنے لگے میری دوا اٹھاؤ،میں نے دوا اٹھا دی،دوا ہاتھ میں لینے کے بعد کہنے لگے،اس دوا میں فلاں فلاں اجزاء کی کمی ہے،مجھے ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی،مگر مجال ان کے سامنے کوئی ہنس دے،میں نے دل میں سوچا کہ دوا مولانا کو کیوں کر فائدہ پہنچائے گی جب ان کو یقین ہے کہ کچھ اجزاء کی کمی رہ گئی ہے،مگر ان کا رعب و دبدبہ اس قدر تھا کہ لب ہلانے کی سکت نہیں تھی،اسی طرح وہ ہر فن پر ناقدانہ نظر ڈالتے تھے،واقعی وہ بہت خاموش طبع تھے مگر ان کی خاموشی میں علم و فن کی ایک دنیا آباد تھی۔
وہ فنون نادرہ کے ماہر و نقاد تھے
ان کی خاموشی میں ہنگامے کئی آباد تھے
ان کے رعب و دبدبہ کے سب کو قصے یاد تھے
سابق و لاحق کئی نسلوں کے وہ استاد تھے
شہرۂ آفاق ان کا نام نامی ہو گیا
تذکرہ ان کا مدارس میں دوامی ہو گیا
دیکھیے مولانا کے شاگردوں میں آسمان علم و فن کے کیسے کیسے ستارے شامل ہیں جن کی خدمات کا آج بھی ایک زمانہ معترف ہے۔
مولانا عبد الوحيد صاحب رحمانی شيخ الجامعہ السلفيہ بنارس،مولانا صفی الرحمان صاحب مباركپوری،ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری وکیل الجامعہ السلفيہ بنارس،ڈاکٹر عبد العلى صاحب ازہری مقیم و مدفون لندن،مولانا محفوظ الرحمان صاحب فیضی سابق شیخ الجامعہ فیض عام مئو،مولانا محمد مستقیم صاحب سلفی حال شیخ الجامعہ السلفیہ بنارس،مولانا عزيز الرحمان صاحب سلفی سابق مدرس جامعہ سلفیہ بنارس،مولانا عبد الوهاب صاحب حجازى،جناب شیخ عبد الباری صاحب سلفی و مدنی مقیم حال ریاض وغیرہ وغیرہ۔
اور متاخرین شاگردوں کی اگر فہرست تیار کی جائے تو ہزاروں تک پہنچے گی۔اس طرح وہ کئی سابق و لاحق نسلوں کے استاذ تھے۔[ تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٥٨]
ان کی دار و گیر سے شاگرد گھبراتے رہے
اور لطف و لین سے بھی ان کے،شرماتے رہے
طالبانہ خو سے بھی اپنی وہ باز آتے رہے
محو خاموشی رہے جب درس فرماتے رہے
اس میں شک نہیں کہ طلبہ مولانا کی گرفت سے دور رہنا چاہتے تھے،مولانا بہت نرم خو اور کم گو تھے لیکن بات دو ٹوک کرتے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ طلبہ ان کے سامنے جانے سے کتراتے اور شرماتے تھے اور دوران درس شرارت پسند طلبہ بھی خاموشی سے ان کا درس سنتے تھے اور یہ ان کی دار و گیر اور رعب و دبدبہ کا ہی نتیجہ تھا،اگر کوئی شرارت کرنے کی کوشش کرتا اور مولانا جوں ہی اپنا سر ذرا اوپر اٹھاتے تو فورا سارے ہی شاگرد خاموشی کا پتلا بن جاتے تھے۔
خاص ملکہ تھا انھیں تدریس کا،تعلیم کا
اور انداز عجب تھا درس کی تفہیم کا
اوپر میں نے لکھا ہے کہ مولانا کا جچا تلا ترجمہ مزید تشریح سے مستغنی تھا،وہ کچھ اس انداز سے ترجمہ کرتے تھے کہ مزید تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی تھی مگر وہ مختلف انداز میں طلبہ کے دل و دماغ میں اپنی بات اتار دینا چاہتے تھے،میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جی چاہتا ہے کہ اسے نقل کردوں،یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر شاگرد استاذ رحمہ الله کے ساتھ نماز میں کھڑے ہونے سےکتراتے تھے،ایک بار کچھ یوں ہوا کہ غالبا مغرب کی نماز کے لیے میں جا رہا تھا اور ابھی صف کے قریب ہی تھا کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو استاذ رحمہ الله میرے پیچھے ہی آرہے تھے،میں نے سوچا چلو آگے نکل جائیں مگر اتنے میں مولانا نے اشارہ کیا کہ رک جاؤ،میں رک گیا،صف میں ایک چھوٹا طالب علم کھڑا ہوا تھا پھر اس سے قد میں بڑا طالب علم کھڑا تھا اس کے ساتھ مولانا کھڑے ہوئے اور مولانا کے بعد میں کھڑا ہوا،نیت باندھنے سے قبل کہنے لگے ارے میاں جانتے ہو؟ نحو کی زبان میں اس کو کیا کہتے ہیں،میں نے عرض کیا کہ نہیں معلوم ہے،مولانا کہنے لگے،اس کو نحو کی زبان میں “ بدل الغلط “ کہتے ہیں یعنی جو غلطی کے بعد یاد کیا جائے،مجھے ہنسی چھوٹی مگر مجال کوئی مولانا کے سامنے ہنس دے،ضبط رکھا،بمشکل نماز ادا کی اور پھر کمرے میں آکر ساتھیوں کے ساتھ خوب قہقہے لگائے،کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہرا یہ بات بطور مزاح تھی،مگر مولانا کا کسی بات کو سمجھانے کا انداز و استدلال کتنا پیارا ہوتا تھا کہ طالب علم کے ذہن میں بات فوری طور پر بیٹھ جائے،اور اسے کوئی تشنگی محسوس نہ ہو،اسی طرح عبارت خوانی کے وقت مولانا اعراب کی درستگی پر بے حد توجہ دیتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر درست اور صحیح عبارت پڑھو گے تو پھر عبارت فہمی میں کوئی دقّت پیش نہیں آئے گی،بہتر ہے کہ اس بات پر ایک ساتھی کا ایک لطیفہ سناتا چلوں،جس سے آپ بھی لطف اٹھائیں،بات کچھ یوں ہے کہ جب مولانا کا انتقال ہوا،تو جنازہ میں تقریباً جامعہ کے تمام ہی طلبہ شریک تھے،جب تدفین سے واپس روم پر آئے،تو ایک طالب علم کہنے لگا،کہ اب مولانا کے پاس منکر نکیر آگئے ہوں گے اور پہلا سوال کیا ہوگا “من ربك “ ( ب،زبر کے ساتھ ) تو مولانا نے کہا ہوگا رکو رکو،دوبارہ کہو کیا کہا؟ فرشتہ پھر کہا ہوگا “ من ربك “ ( ب،زبر کے ساتھ ) تب مولانا نے کہا ہوگا،بھائی پہلے اعراب درست کر لو پھر میں جواب دیتا ہوں،اس بات پر ہم موجود سارے ہی ساتھی خوب ہنستے رہے اور لطف لیتے رہے،کہنے کا مقصود یہی ہے کہ مولانا کے درس میں عبارت خوانی ہو،یا عبارت کا ترجمہ و تشریح ہو،ہر ایک پر مولانا پوری توجہ مبذول رکھتے تھے،اور بڑی محنت سے طلبہ کو درس دیا کرتے تھے،اور طلبہ ان کے درس سے بےحد مطمئن رہا کرتے تھے۔
مولانا محمد یونس مدنی حفظہ الله کے الفاظ:
“ مولانا ایک اصولی آدمی تھے زندگی کے تمام شعبوں میں،خواہ وہ گھر کے اندر ہوں یا عوام الناس کے درمیان،علماء کی مجالس میں ہوں یا درسگاہ میں ایک مثالی حیثیت رکھتے تھے،مولانا نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزار دی،آپ جہاں بھی رہے ہمیشہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مستعد رہے،اور وقت کی پابندی کو ملحوظ رکھتے،اس لیے اہل مدارس ان کی قدر و منزلت کرتے اور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے،تعطیل کے بعد مولانا کا یہ دستور تھا کہ پہلے روز درسگاہ میں حاضر ہوتے اور درس کا سلسلہ شروع کر دیتے،خواہ ایک ہی طالب علم کیوں نہ ہوتا،آج یہ احساس ذمہ داری ہم سے آہستہ آہستہ رخصت ہوتا جا رہا ہے،حاجی محمد ادریس راجہ پورہ والے بیان کرتے ہیں،کہ “ مولانا مظہر العلوم میں مدرس تھے،اور پاس ہی میں ایک مکتبہ “امین بک ڈپو “ کے نام سے کھولے ہوئے تھے،لوگ آتے اور کتابیں خریدتے جاتے،لیکن جوں ہی گھنٹی کا وقت قریب ہوتا مکتبہ بند کرکے فورا مدرسہ چلے جاتے،ان کے نزدیک وقت کی پابندی بڑی اہم چیز تھی اور اس کا بڑا لحاظ رکھتے تھے،مولانا فرماتے تھے کہ میرا پیسہ اسی وقت حلال ہوگا جب میں پوری ذمہ داری سے تعلیم دوں گا اور محنت و مشقت سے طلبہ کو پڑھاؤں گا،مولانا اپنے شاگردوں سے بڑی محبت و شفقت سے پیش آتے تھے اور ہر طرح سے انھیں فیض پہنچانا چاہتے تھے،کسی نہ کسی طالب علم کو اپنے ساتھ کھانا کھلاتے اور طلبہ پر کمال شفقت و محبت کی وجہ سے کبھی کبھار طلبہ کی دعوت بھی کرتے تھے۔“
[ تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٥٣-٢٥٥ ]
“ سلفیہ “ میں جلوہ گر تھے آروی عبد الوهاب
تھے عبيد الله رحمانی جو شاگرد جناب
بوعبیدہ میں تھی رحمانی کی شاگردی کی تاب
عمر کی منزل میں آتے تھے نظر سب ہم رکاب
شخصیت سب کی رہی مجلس میں یوں باغ و بہار
پر رہا استاد و شاگردی کا جلوہ بر قرار
استاذ گرامی مولانا ابو عبیدہ عبد المعید بنارسی رحمہ اللہ علم و فن کے جس ہمالہ اور بلندی پر تھے وہ اپنے استادوں کی اسی قدر عزت و احترام اور تکریم بجا لانے کو زندگی کی سب سے بیش بہا چیز سمجھتے تھے،اور اپنے اساتذہ کی خدمت کے لیے بچھے رہتے تھے ان کے استاذ مولانا محمد منیر خاں رحمہ اللہ پر اخیر عمر میں جب فالج کا حملہ ہوا تو مرض الموت میں مولانا عبد المعید صاحب نے استاد کی خدمت کا حق ادا کردیا۔
مولانا محفوظ الرحمن صاحب سابق شیخ الجامعہ جامعہ فیض عام مئو حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
“ مولانا موصوف کی حضرت شیخ الحدیث مبارک پوری رحمۃ الله علیہ سے مخلصانہ تعلق اور عقیدت کے بارے میں یہ قابل ذکر ہے کہ مولانا کے مدرسہ فیض عام میں قیام کے دوران حضرت شیخ الحدیث جب بھی کسی ضرورت سے مئو یا مدرسہ میں آتے اور دن میں کچھ دیر قیام کی ضرورت ہوتی تو عموما حضرت مولانا کے پاس ان ہی کی درسگاہ میں قیام اور آرام فرماتے اور مولانا فرط ادب و احترام اور خدمت کے لیے گویا بچھے رہتے،مگر فرائض مدرسہ کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں ہونے دیتے اور اس موقع کو درس کے ناغہ کا بہانہ نہیں بننے دیتے درسگاہ کے بجائے مسجد میں درس دیتے تھے مگر ناغہ نہیں ہونے دیتے تھے “ [ تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٥٥ / ٢٥٦ ]
استاذ گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:
“ وفات سے چند روز قبل شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمۃ الله علیہ جامعہ تشریف لائے کسی طرح مولانا کے استاد پڑتے تھے ( دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں درس حدیث لیا تھا ) مولانا اس وقت صاحب فراش ہو چکے تھے،لیکن خود سے اٹھ بیٹھ لیتے تھے مغرب کی نماز کے بعد شیخ الحدیث صاحب رحمۃ الله علیہ مولانا کی تیمار داری کے لیے میرے ساتھ گئے،دروازہ پر کچھ آہٹ محسوس ہوئی،مولانا فورا چار پائی سے کھسک کر نیچے بیٹھ گئے اور چار پائی کا ٹیک لگا لیا،شیخ الحدیث صاحب نے کئی مرتبہ لیٹ جانے کے لیے کہا مگر جب تک شیخ صاحب اس کمرے میں رہے آپ چار پائی پر نہیں لیٹے،یہ ہے استاد کا ادب و احترام،آج ہمارے اندر یہ صفات کہاں موجود ہیں۔“( رشحات قلم ص ٩٥ )
یہ تھے ہمارے استاد محترم ادب و احترام کا پتلا،انکساری،تواضع،سادگی اور خود داری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی،کفایت شعاری اور قناعت پسندی کا مجسمہ تھے معمولی تنخواہ پر گزارہ کر لیتے مگر کبھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے،شہرت اور نام و نمود سے کوسوں دور تھے،سفر حج پر جانے کی توفیق ملی تو چپکے سے چلے گئے اور واپسی پر کسی کو خبر تک نہ ہوئی،دروغ گوئی اور کذب بیانی سے شدید نفرت تھی،اساتذہ اور طلبہ سے محبت کرتے،ہر پندرہ دن پر اساتذہ کو چائے پر مدعو کرتے اور ہمیشہ ایک طالب علم کو اپنے ساتھ کھانا کھلاتے تھے،آپ عزلت پسند تھے لغو کام تو دور کی بات ہے فضول باتوں میں وقت صرف کرنا بھی بہت نا گوار تھا سنت کے پابند تھے،بلا ضرورت گفتگو نہیں کرتے تھے “ کیا کوئی عبد المعید اس دور میں پھر آئے گا “
ہم ترستے ہیں انہی جیسے جیالوں کے لیے
علم و فن کے ہم پیالوں ہم نوالوں کے لیے
ذکر و فکر و آگہی کے شاہ بالوں کے لیے
یعنی مصلح با وفا،الله والوں کے لیے
یقیناً جامعہ سلفیہ بنارس کا وہ دور اور وہ ایام کتنے حسین اور سنہرے رہے ہوں گے،جب ایک ہی مجلس میں علامہ عبد الوهاب آروی،ان کے شاگرد رشید شیخ الحديث مولانا عبید الله رحمانی مبارک پوری اور ان کے شاگرد عزیز مولانا عبد المعيد بنارسی رحمهم الله ایک ساتھ بیٹھتے رہے ہوں گے اور علمی مجالس کا انعقاد ہوتا رہا ہوگا،تو کتنا دلکش اور دلفریب منظر رہتا رہا ہوگا اور ہر ایک اپنے اپنے حصے سے علم کے گوہر اور موتیوں کو بکھیرتا رہا ہوگا،یقیناً وہ شاگرد خوش نصیب رہے ہوں گے جنھوں نے ان بہتے ہوئے اور ناپیدا کنار علمی دریاؤں میں غواصی کی ہوگی اور اپنے دامن کو لعل و گہر سے بھرا ہوگا۔
مولانا عبد المعيد مدنى حفظہ الله ( على گڑھ) کے الفاظ میں:
“ جامعہ سلفیہ بنارس کا وہ دور جس میں مولانا عابد حسن رحمانی،شيخ الجامعہ مولانا عبد الوحيد رحمانی،مولانا عبدالمعید بنارسی،مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی اور مولانا شمس الحق سلفی رحمهم الله ہوا کرتے تھے،وہ جامعہ کا سنہرا دور تھا،ہم لوگوں کو جو دور ملا تھا شاید وہ جامعہ سلفیہ کا سنہرا دور تھا،اساتذہ میں باہم یگانگت،طلباء کے اوپر اس یگانگت کے بہترین اثرات،اخلاقی روحانی ماحول،تعلیم کا بہترین معیار،فتنہ و فساد سے پاک صاف فضا،جامعہ سلفیہ کا ماحول ٧٦ تک ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کے تمام اداروں سے علی الاطلاق کئی گنا بہتر ہی نہیں مثالی تھا۔“( دی فری لانسر ٢٢مئی ۲۰۲۱ء)
١٩٧٦ ء تک ہی نہیں بلکہ ١٩٨١ / ١٩٨٢ ء تک تقریباً وہی ماحول تھا،صرف مولانا عبد المعید صاحب اور مولانا آزاد رحمانی صاحب سفر آخرت پر روانہ ہو چکےتھے،باقی سارے اساتذہ حیات تھے،اور جامعہ اسی آن بان اورشان سے چل رہا تھا،طلبہ اسی محنت اور لگن سے پڑھ رہےتھے،اور ہندوستان کے جملہ مدارس سے ممتاز نظر آتے تھے،چلتے چلتے ایک واقعہ اور سنا دوں،ہم لوگ فضیلت اول میں تھے غالبا صحیح بخاری شریف کا درس لے کر کلاس سے باہر نکلے ہی تھے کہ کچھ باہر کے طلبہ سامنے نظر آئے جو دار العلوم دیوبند سے آئے ہوئے تھے،علیک سلیک کے بعد ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ یہاں شعبۂ مناظرہ ہے کہ نہیں؟،میں نے فورا اس کو جواب دیا کہ یہاں شعبۂ مناظرہ تو نہیں ہے مگر یہاں کا ہر طالب علم مناظر ہوتا ہے،آپ کچھ ارشاد فرمائیں گے،اتنا سننا تھا وہ مہمان خاموش ہو گئے فقط اتنا کہا کہ بس یوں ہی معلومات کے لیے پوچھ لیا تھا،واقعی ہمارے اساتذہ ماہ وانجم اور شمس و قمر تھے ان تمام اساتذہ کے لیے دل سے دعا ئیں نکلتی ہیں۔
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
عبد الرزاق بن عبد الغفار
١١ / شوال ١٤٤٧ ھ
٣٠ / مارچ ٢٠٢٦ ء
دبی،متحدہ عرب امارات