جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

حوثی تحریک: فکری پس منظر، تاریخی ارتقاء اور موجودہ خطرات کا تجزیہ

تحریر: ڈاکٹر طارق صفی الرحمٰن مبارکپوری23 ستمبر، 20261,497قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۶ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حوثی تحریک: فکری پس منظر، تاریخی ارتقاء اور موجودہ خطرات کا تجزیہ
فل اسکرین دیکھیں

ایک مدتِ مدید سے حوثی مملکتِ سعودی عرب کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں،اور ایک لمبی مدت سے سعودی عرب اپنے ان چند داخلی عناصر سے فکری اور عملی طور پر نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کی سرزمین،بلکہ پاک و مقدس زمین پر بھی فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آخر وجہ کیا ہے؟ کچھ تو اسباب ہوں گے؟ کوئی تو وجہ ہوگی؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق دے کر مبعوث فرمایا تھا۔مسلمان اس دینِ حق پر قائم تھے،ایک ایسا دین جو صحیح منقول اور صریح عقل کے موافق تھا۔عہدِ صدیقی اور عہدِ فاروقی مسلمانوں کے داخلی فتنوں سے محفوظ رہا۔امیر المؤمنین،خلیفۂ راشد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے داخلی فتنوں کا شکار ہو کر شہید کر دیے گئے اور یہیں سے مسلمانوں کے آپسی جنگ و جدال کا سلسلہ شروع ہوا۔مسلمانوں کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ ہوئی۔اسی دوران خوارج کا گروہ نکل آیا جس کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: «مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک گروہ دین سے نکل جائے گا،اسے ان دونوں گروہوں میں سے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا»۔(اسے امام مسلم (1064) نے روایت کیا ہے) خوارج کا خروج اس وقت ہوا جب دونوں فریقوں نے حکم مقرر کیے اور لوگ باہمی اتفاق کے بغیر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

پھر خوارج کی بدعت کے بعد تشیع کی بدعتیں وجود میں آئیں،اور مختلف فرقوں کا ظہور مسلسل ہوتا گیا،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی خبر دی ہے۔ان میں سے ایک حدیث یہ ہے: «یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے،نصاریٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئے،اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی»۔(اسے ابوداؤد،ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے)

آغازِ تشیع اور حوثیت کی بنیاد:

تشیع کا آغاز کوفہ سے ہوا،پھر بعد میں دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ان کے انتہائی غالی فرقوں میں سے ایک اثنا عشریہ ہے،اور ان کے اندر بھی متعدد فرقے ہیں۔ان میں جارودیہ بھی شامل ہیں،جو ابو الجارود زیاد بن منذر الہمدانی الاعمیٰ الکوفی کے پیروکار تھے۔جارودیہ غالی رافضیوں میں شمار ہوتے ہیں اور موجودہ دور کے حوثی بھی اسی سلسلے کے پیروکار قرار دیے جاتے ہیں،جن کا پیشوا بدر الدین الحوثی 1345ھ میں پیدا ہوا۔اس حوثی فرقے نے اپنے اندر دو گمراہیوں کو یکجا کیا: جارودی مذہب اور اثنا عشری مذہب؛پھر اس غلو کو خمینی نظریۂ ولایتِ فقیہ کے عقیدے سے مزید مکمل کیا۔

جارودیہ،جو حوثیوں کے اسلاف ہیں،زیدیہ کو کافر قرار دیتے،ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے خون اور مال کو حلال سمجھتے تھے؛کیونکہ اعتقاد،ماخذ،منہج اور سیاست کے اعتبار سے انھوں نے اثنا عشریہ ہی کا راستہ اختیار کیا۔آج جارودیہ کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ان میں سے صرف ایک معمولی سا گروہ باقی رہ گیا ہے،جسے حوثی کہا جاتا ہے۔جب ایران میں "ملاؤں" کی حکومت قائم ہوئی اور انھوں نے اپنے دستور میں رافضی انقلاب کو تمام اسلامی ممالک تک پہنچانے کا مقصد اختیار کیا تو یمن بھی ان کے منصوبوں اور اہداف میں شامل تھا،اور اس مقصد کو انجام دینے کے لیے انھیں حوثیوں کے سوا کوئی دوسرا گروہ مناسب نہ ملا۔

حوثی گروہ کے تین خطرناک عقائد:

حوثی گروہ نے تین خطرناک عقائد کو اپنے اندر جمع کر لیا ہے:

پہلا: جارودی رافضی عقیدہ

دوسرا: خمینی نظریۂ ولایتِ فقیہ

سوم: اثنا عشری کا عقیدہ،جو سبئی اور صفوی نظریات کا اعتقادی اور تاریخی تسلسل سمجھا جاتا ہے۔ان کے عقائد میں یہ باتیں شامل کی جاتی ہیں کہ قرآن میں کمی واقع ہوئی اور اس میں تحریف ہوئی؛قرآن کے بعد ان کے ائمہ پر آسمانی کتابیں نازل ہوئیں؛ان کے ائمہ کے اقوال اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اقوال کی مانند ہیں؛رسول اللہ ﷺ نے شریعت کا ایک حصہ چھپا کر اسے اپنے ائمہ کے پاس رکھ دیا؛ان کے ائمہ خطا اور نسیان سے معصوم ہیں اور غیب کا علم رکھتے ہیں؛اور وہ تمام مسلمانوں،بالخصوص رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور آپ ﷺ کی اکثر ازواج کو کافر قرار دیتے ہیں۔

ان کے بڑے پیشوا بدر الدین الحوثی نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اپنے عقیدے کے متعلق کہا: «میں اپنی ذات کی طرف سے ان کی تکفیر کا قائل ہوں۔»

وہ امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما پر زنا کی تہمت بھی لگاتے ہیں۔

حوثی جنگ کے پیچھے کارفرما منصوبہ:

ان کے منصوبے کو ان کے ہاں موجود ولایتِ فقیہ کے عقیدے سے سمجھا جا سکتا ہے اور وہ اپنے نام نہاد عصرِ مابعد الظہور یعنی "ظہور کے بعد کے دور" کی تاریخ کو عملی صورت دینے کی بات کرتے ہیں۔ان کے بعض عقائد کے مطابق ان کے فرضی مہدی کے ظہور کے بعد وہ یہ کام کرے گا:

پہلا عقیدہ: فرضی مہدی ابوبکر،عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے انتقام لے گا

ان کے لیڈران اور علماء کے مطابق امتِ محمدیہ میں پائی جانے والی تمام برائیوں کی جڑ صحابہ کرام تھے،بالخصوص نبی اکرم ﷺ کے تین ابتدائی خلفاء ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اور کاتبِ وحی معاویہ رضی اللہ عنہ۔ان کا لیڈر حسین الحوثی کہتا ہے: "اس امت میں ہونے والی ہر برائی،اس امت پر ہونے والا ہر ظلم اور امت کو پیش آنے والی ہر تکلیف کا ذمہ دار ابوبکر،عمر اور عثمان ہیں؛خصوصاً عمر،کیونکہ وہ اس پورے عمل کا منصوبہ ساز تھا۔"

وہ یہ بھی کہتا ہے: "معاویہ عمر کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے،ابوبکر عمر کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے،اور عثمان بھی عمر کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے۔"

اور کہتا ہے: "سلفِ صالح ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے امت کے ساتھ کھیل کھیلا،انھوں نے امت پر ظلم کی بنیاد رکھی اور امت کو تقسیم کیا۔"

اس طرح کی بکواس اور بے بنیاد باتیں دراصل ان عقائد کا شاخسانہ اور اس حقد و کینہ کا زبانی نمونہ ہے جس کا برملا اظہار ان کے بعض علماء نے کیا ہے کہ ان کا منتظر مہدی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو دوبارہ زندہ کرے گا،پھر انھیں کھجور کے تنے سے سولی دے گا اور ہر روز انھیں ہزار مرتبہ قتل کرے گا۔ان کا عالم مجلسی اپنی کتاب "حق الیقین" میں کہتا ہے: "جب مہدی ظاہر ہوگا تو وہ عائشہ کو زندہ کرے گا اور اس پر حد قائم کرے گا۔"

دوسرا عقیدہ: عربوں کو بلا تفریق قتل کرنا

رافضی شیعہ کتابوں میں عرب کے خلاف بلا تفریق جنگ و جدال اور قتل و غارت گری کی بات کی گئی ہے،عربوں سے دشمنی کا برملا اظہار ہے اور اس سلسلے میں ائمہ اہلِ بیت کی جانب روایات بھی منسوب کر لی گئی ہیں،چنانچہ رافضی علماء میں سے غالی رافضی عالم نعمانی اپنی کتاب "الغیبۃ" میں جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہ روایت بیان کرتا ہے کہ انھوں نے کہا: «ہمارے اور عربوں کے درمیان اب صرف ذبح باقی رہ گیا ہے»۔اور یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کا فرضی مہدی عربوں پر اپنی تلوار کیوں چلائے گا؟ انھیں قتل کیوں کرے گا؟ ان کی گردنوں کو تن سے جدا کیوں کرے گا؟ کیا رسول اللہ ﷺ عربی نہیں تھے؟ اور کیا گہوارہ اسلام مکہ و مدینہ عرب کی زمین نہیں ہے؟ کیا حرمین شریفین مقدس و مکرم نہیں ہیں؟ کیا علی اور ان کی اولاد عرب نہیں تھے؟ کیا ان کا مبینہ مہدی بھی عربی النسل نہیں ہوگا؟ یا اس لیے کہ ان کے عقیدے کا موجد سبائی تھا؟

ایران کی خمینی حکومت کی عراقی عوام کے خلاف جنگ،جس میں شیعہ اور سنی کے درمیان بھی کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا،اس اصول کے نفاذ کی ایک ابتدا قرار دی جاتی ہے،اور وہ اصول عربوں کا عمومی قتل ہے،اور عرب ممالک میں ہو رہے صفوی فسادات اور قتلِ عام کا سبب بھی یہی خونخوار عقیدہ ہے۔

تیسرا عقیدہ: صفا اور مروہ کے درمیان حجاجِ کرام کو قتل کرنا

رافضی شیعہ کتابوں میں صفا اور مروہ کے درمیان حجاجِ کرام کو قتل کرنے کا عقیدہ بھی پایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ائمہ اہلِ بیت میں سے صادق کی جانب جھوٹی روایت منسوب کرتے ہوئے رافضی عالم مجلسی اپنی کتاب "بحار الأنوار" میں لکھتا ہے:

"گویا میں حمران بن اعین اور میسر بن عبدالعزیز کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان اپنی تلواروں سے لوگوں کو مار رہے ہیں۔"

ولایتِ فقیہ (یعنی شیعہ فقیہ ان کے امامِ غائب کا نائب ہے) کا ایجاد کردہ عقیدہ جو رافضیوں کے امام خمینی کا نظریہ تھا،اس نے اپنے اس خواب کو مکہ مکرمہ کے حرم میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔چنانچہ اس کے پیروکاروں نے مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر اور حدودِ حرم جیسی پاک زمین میں اس مجوسی خواب کو عملی جامہ پہنانے کی متعدد کوششیں کیں۔

(۱) ایامِ حج میں حجاجِ کرام کو قتل کرنے کے لیے تین ذی الحجہ 1406 ہجری کو انھوں نے جدہ کے شاہ عبدالعزیز ہوائی اڈے کے ذریعے اکیاون کلو گرام دھماکہ خیز مواد اسمگل کرنے کی کوشش کی،مقصد اسے حرمین شریفین اور مقدس مشاعر میں استعمال کرنا تھا۔

(۲) پانچ ذی الحجہ 1407 ہجری کو انھوں نے چاقو اٹھا کر جلوس نکالے اور حجاج اور عام شہریوں کو دھکے دیے،جس کے نتیجے میں بدامنی پھیلی اور 402 افراد ہلاک ہوئے۔

(۳) چھ ذی الحجہ 1409 ہجری کو انھوں نے دو دھماکے کیے؛پہلا مسجدِ حرام کی طرف جانے والی سڑکوں میں سے ایک پر،اور دوسرا مسجدِ حرام کے قریب واقع پل کے اوپر کیا گیا۔

اور قریب کے سالوں میں تقریباً دس سال قبل 26 محرم 1438 ہجری (2017) کو حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا،لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے مکہ مکرمہ پہنچنے سے 65 کلومیٹر پہلے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

اور حالیہ دنوں میں پھر یہ مسئلہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق 15 ستمبر 2026 کو حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کی جانب ایک ڈرون بھیجا گیا جسے مکہ مکرمہ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔اور فی الحال حرمین شریفین،مکہ مکرمہ و مدینہ نبویہ کو حوثی ٹارگٹ کی وجہ سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔حرمین شریفین کے ارد گرد حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے اور کسی بھی قسم کی حوثی کارروائیوں کے لیے فوج کو الرٹ کر دیا گیا۔

چوتھا عقیدہ: مسجدِ حرام،مسجدِ نبوی اور حجرۂ نبوی کو منہدم کرنا

رافضیوں کے مفسدانہ عقائد میں سے،جن میں حوثی شیعہ ان کے ہم مشرب و ہم عقیدہ ہیں اور جن کی تکمیل کے لیے وہ سعیِ نامحمود کر رہے ہیں اور حالیہ جنگ اور حرمین شریفین کو ٹارگٹ کرنا اسی فاسد عقیدے کا ایک حصہ ہے،یہ بھی ہے کہ خانہ کعبہ کو ڈھا دیا جائے،مسجدِ حرام کو ویران کر دیا جائے اور حجرہ عائشہ یعنی حجرہ نبوی کو تہس نہس کر دیا جائے۔اس سلسلے میں انھوں نے جعفر صادقؒ کی طرف یہ بات منسوب کی ہے: «قائم مسجدِ حرام کو منہدم کر دے گا،یہاں تک کہ اسے اس کی بنیادوں تک پہنچا دے گا،اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد کو بھی اس کی بنیادوں تک پہنچا دے گا»۔(اس بات کو ان کے شیخ طوسی نے اپنی کتاب "الغَیبَة" میں روایت کیا ہے) اسی طرح ان کے شیخ ابن رستم نے اپنی کتاب "دلائل الإمامۃ" میں یہ بہتان باندھا ہے کہ ان کا مبینہ مہدی کہتا ہے: "اور میں یثرب آؤں گا اور حجرے کو منہدم کر دوں گا۔"

پھر جب ان کا مبینہ مہدی اپنی مخفی جگہ سے نکلنے میں تاخیر کرنے لگا تو 317 ہجری کے حج کے موقع پر قرامطہ (شیعوں) نے خانۂ کعبہ کا دروازہ اکھاڑ لیا،غلافِ کعبہ کو تار تار کیا،اور تقریباً تیس ہزار حجاج اور اہلِ بیت اللہ الحرام کو قتل کر کے ان میں سے بیشتر شہداء کی لاشوں کو زمزم کے کنویں میں ڈال کر اسے بند کر دیا۔انھوں نے حجرِ اسود تک کو اس کے مقام سے اکھاڑ لیا،جو بائیس سال تک ان کے قبضے میں رہا۔اور پھر ٹکڑوں کی شکل میں اس کے چند حصے مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔

اب حالیہ عرصہ میں حوثی اس عقیدے کو عملی جامہ پہنانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ بعض شیعہ ملا اس امید پر قائم ہیں کہ حوثی جماعت ہی ان کے مبینہ مہدی کے ظہور کے لیے راہ ہموار کرنے والی جماعت ہے۔ ایرانی ملا علی الکورانی اپنی کتاب "عصر الظہور" میں لکھتا ہے: "یمن کا اسلامی انقلاب مہدی علیہ السلام کے لیے راہ ہموار کرنے والا ہے،اور یہ تمام انقلابات میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ انقلاب ہے۔"

یہی وجہ ہے کہ حوثی فرقے کے ایک پیروکار نے اس فرقے کے سابق سربراہ حسین الحوثی کو مہدیِ منتظر قرار دیا،جو کہ 2004ء میں یمنی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا تھا،اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قبر سے دوبارہ واپس آ کر اپنی جماعت کی قیادت کرے گا۔

دین اور مقدساتِ دین سے اس فرقہ حوثی کو کتنا لگاؤ ہے اور ان کے دل میں مساجد و قرآن کا کتنا احترام ہے،اس کا اندازہ "المنبر الیمنی" نامی رسالے کی رپورٹ سے ہوتا ہے،رسالہ شعبان 1438 ہجری کے اپنے پہلے شمارے میں "الحوثیون وانتهاک المساجد" (حوثی اور مساجد کی بے حرمتی) کے عنوان کے تحت لکھتا ہے:

"اسّی سے زیادہ مساجد کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا گیا،ایک سو پچاس ائمہ اور خطیبوں کو اغوا کیا گیا،اور قرآنِ کریم کے سولہ مراکز اور دینی مراکز کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔"

پانچواں عقیدہ: اسلامی دین کو منسوخ کرنا اور آلِ داؤد کی حکومت قائم کرنا

ان کے فاسد عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے فرضی مہدی کے لیے راہ ہموار کی جائے تاکہ وہ حرمِ مکی کے اندر رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان بیٹھ کر اسلامی شریعت کو منسوخ کر کے ایک نئی کتاب اور نئی فکر پر بیعت لے۔رافضی عالم نعمانی اپنی کتاب "الغَیبَۃ" میں ایک روایت امام محمد بن علی بن الحسینؒ کی طرف منسوب کرتا ہے کہ انھوں نے اپنے مبینہ مہدی کے بارے میں فرمایا: «خدا کی قسم! گویا میں اسے رکن اور مقام کے درمیان دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں سے ایک نئی کتاب پر بیعت لے رہا ہے،جو عربوں کے لیے سخت ہوگی»۔بلکہ شیعوں کے شیخِ کبیر کلینی نے شیعوں کی مقدس کتاب "الکافی" میں یہ باب قائم کیا ہے: "اس بارے میں باب کہ ائمہ علیہم السلام کے متعلق یہ ہے کہ جب ان کا امر ظاہر ہوگا تو وہ داؤد اور آلِ داؤد کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے،اور ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔"

یہ ہیں شیعہ عقائد و افکار جن کی روشنی میں ایک سیدھا سادہ مسلمان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ حوثیوں کی موجودہ جنگ کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں۔اور وہ کیوں مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ،حرمین شریفین اور سعودی اہم تنصیبات و مراکز کو ٹارگٹ بنا رہے ہیں،آتش و لہو کے اس کھیل کے پیچھے کتنے خطرناک ارادے ہیں۔اے اللہ! تو جس طرح چاہے ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرما،حرمین شریفین اور مقدساتِ اسلامیہ کی حفاظت فرما،اور دشمنوں پر اپنا خاص لشکر روانہ فرما جو ان کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور انھیں نشانِ عبرت بنا دے۔آمین

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

حوثی تحریک: فکری پس منظر، تاریخی ارتقاء اور موجودہ خطرات کا تجزیہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر