جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مکتبہ دارالسلام، مئو ناتھ بھنجن: آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا

تحریر: ڈاکٹر ابو تحریر23 ستمبر، 20262,382قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۹ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مکتبہ دارالسلام، مئو ناتھ بھنجن:
آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
فل اسکرین دیکھیں

1980ء کی دہائی میں میرے تعلیمی سلسلے کا آغاز ہوا تھا اور اسی دہائی کے اخیر میں مدرسہ عالیہ عربیہ (مئو ناتھ بھنجن) سے پرائمری اور منشی درجات کی تکمیل ہوئی تھی۔اس وقت شہر میں دو دکانیں زیادہ مشہور تھیں جہاں پر کاغذ،کاپی اور کتابیں دستیاب ہوا کرتی تھیں۔ایک مرزا ہادی پورہ میں تھی جب کہ دوسری دکان صدر چوک پر،پہلی دکان کا نام غالباً پانڈے بک اسٹور تھا اور دوسری دکان نعیم بک ڈپو کے نام سے جانی جاتی تھی۔

پانڈے جی کی دکان سے نوٹ بک،روشنائی،قلم دوات اور ہندی و انگریزی کی کتابیں مل جاتی تھیں۔دینیات اور اردو کی کتابوں کے لیے عموماً ہماری منزل نعیم بک ڈپو ہوا کرتی تھی،اس وقت یہاں پر کرتا پاجامہ اور ٹوپی میں ملبوس ایک باریش بزرگ مرکزِ توجہ رہا کرتے تھے،جو اس دکان کے مالک مولوی فخرالعبید اعظمی (1915-2001ء) تھے،انھوں نے اپنے والد محمد نعیم صاحب کے نام پر دکان کا نام رکھا تھا۔یہ دکان چوں کہ گھر سے قدرے فاصلے پر واقع تھی،اس لیے یہاں پر جانے کا موقع کم کم ملتا تھا،گھر کے بڑے بزرگ یہ ذمے داری ادا کر دیا کرتے تھے۔حافظہ اگر وفا کر رہا ہے تو بچوں کے میگزین (نونہال اور کھلونا وغیرہ) کا دیدار اسی دکان کی رہینِ منت ہے اور کبھی کبھار نصاب کی کتابیں بھی،کیونکہ کورس کی زیادہ تر کتابیں رشتے داروں کے پاس مل جایا کرتی تھیں اور ہم نے اسی وقت مانگے کے اجالے سے گھر روشن کرنے کا ہنر سیکھ لیا تھا،جو آج بھی کام آ رہا ہے۔

1990ء کی دہائی میں میری عربی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا،جلد ہی جامعہ عالیہ عربیہ کے طلبہ کی انجمن 'تہذیب البیان' سے عملی رشتہ بھی استوار ہوگیا۔انجمن کی لائبریری اور انعامی مقابلے کے لیے کتابوں کی خریداری کے لیے ہماری منزل یہی دکان ہوا کرتی تھی۔اس وقت بھی فخر العبید صاحب کو اسی جگہ پر دیکھا لیکن بات چیت کا موقع کم ہی ملا کیونکہ ہمارے معاملات شاہد جمال صاحب سے طے ہوجایا کرتے تھے،جو دوسری نسل کے ایک محنتی نوجوان کی حیثیت سے اس کاروبار میں اپنی جگہ بنارہے تھے بلکہ بنا چکے تھے۔چند سال کے بعد میں بنارس ہوتے ہوئے دہلی چلا گیا،پھر شہر میں واپسی نہیں ہوسکی اور غریب الوطنی مقدر بن گئی۔سال میں ایک آدھ بار مئو جانے کا موقع ملتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ میں اپنے گھر میں مانندِ مہماں آیا ہوں۔

دسمبر 2019ء میں محترم راشد حسن مبارک پوری،جامعہ اسلامیہ فیضِ عام کے شعبہ تدریس سے منسلک ہوگئے۔انھوں نے یہاں پر تدریسی نشاطات کے ساتھ تصنیف و تالیف کے پرانے سلسلے کو بھی برقرار رکھا اور دیکھتے دیکھتے مضامینِ نو کے انبار لگاتے چلے گئے۔اسی دوران میں ان کی زبان سے بارہا مکتبہ دارالسلام اور عزیزم حذیفہ شاہد سلمہ کا نام سننے میں آیا،کتابوں سے تھوڑا بہت تعلق ہونے کی وجہ سے ان دونوں ناموں سے کان پہلے ہی آشنا ہو چکے تھے لیکن تفصیل نہیں معلوم تھی۔

راشد حسن صاحب جب دہلی میں مقیم تھے،تو ہم نے سلمان بھائی کے تعاون سے ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ تعالیٰ کے عربی مقالات کی ترتیب و اشاعت کا منصوبہ بنایا تھا۔انھوں نے مختلف علمی مصروفیات،متنوع نشاطات اور عائلی جھمیلوں کے درمیان اس منصوبے میں بھی رنگ بھرنا شروع کر دیا،ان کی مثالی محنت اور بے لوث محبت کی وجہ سے جلد ہی کچھ مقالات کے مجموعے تیار ہو گئے،انھوں نے ریاض،دمشق اور بیروت کے ناشروں سے رابطہ کر کے ان کی اشاعت کی منظوری بھی حاصل کر لی اور اللہ کے فضل سے کچھ کتابیں شائع کرانے میں کامیاب بھی ہو گئے۔

اور اپنے متنوع نشاطات میں محو،اس وقت بھی ان کی ہم نشینی جذبوں کو گرما دیا کرتی تھی۔اس کو مجھ جیسے "شعلہ نم خوردہ" سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے؟ اسی وقت راشد حسن صاحب نے جب اپنے حرف و ہنر اور علم و دانش کی خوشبو سے "شہرِ ہنروراں" کے ایک چمن کو مہکانے کا فیصلہ کیا تو مجھ کو اندیشہ تھا کہ کہیں یہ نقل مکانی ہمارے مشترکہ علمی منصوبے کو متاثر نہ کر دے۔میں نے دبے لفظوں میں اس کا اظہار بھی کیا اور یہ واضح بھی کر دیا کہ مجھے آپ پر اعتماد ہے لیکن میرا شہر اس معاملے میں کچھ زیادہ قابلِ اعتماد نہیں رہا۔مئو کے مدارس میں معاشی آسودگی کا دروازہ کھل جانے کے بعد اساتذہ کے ڈکشن میں ہندی/انگریزی کی چند اصطلاحات کا اضافہ تو ضرور ہوا ہے لیکن شہر کی علمی شناخت کو تسلسل اور توسیع عطا کرنے کی سمت میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔

مجھے یہ لکھتے ہوئے بے پایاں مسرت کا احساس ہو رہا ہے کہ میرا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔انھوں نے اپنی سحر انگیز شخصیت،خالص علمی مزاج اور تصنیف و ترجمہ کے اعلیٰ ذوق سے مدارسِ مئو کے ماحول میں،جس میں بقول اقبال "نہ زندگی،نہ محبت،نہ معرفت،نہ نگاہ" والی کیفیت تھی،زندگی کی لہر دوڑا دی؛جس طرح دہلی میں ان کی ہم نشینی جذبوں کو گرما دیا کرتی تھی،یہاں پر بھی ان کی شوق انگیز رفاقت نے "شعلہ نم خوردہ" ہو چکے لوگوں میں حرکت و حرارت پیدا کر دی ہے۔انھوں نے نہ صرف دہلی کی تازگی اور طراوت کو باقی اور برقرار رکھا،بلکہ یہاں کی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اسلاف کی علمی تراث کے احیا اور اشاعت میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔

نومبر 2025 میں مجھے پہلی بار مکتبہ دارالسلام کی دید کا موقع ملا اور یہیں پر عزیزم حذیفہ سلمہ سے ملاقات بھی ہوئی،جن کو تیسری نسل کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے۔ان کو دیکھ کر تعجب ہوا کہ اتنی بھاری بھرکم کتابیں چھاپنے والا بندہ تو بالکل دھان پان نکلا۔مجھے اسی شہر کا ایک قصہ یاد آ گیا؛برسوں پرانی بات ہے،ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لیے معاصر اردو ادیبوں،دانشوروں اور شاعروں کے ساتھ احمد جمال پاشا بھی مئو میں تھے اور بہتوں کی طرح فضا ابن فیضی کو دیکھنے کے مشتاق تھے۔جب فضا صاحب سے ملاقات ہوئی تو قدرے مایوس ہوئے کہ ان کی تخلیقات کے مطالعے کے بعد ذہن میں ان کی جو تصویر بنا رکھی تھی،فضا صاحب تو اس کے بالکل برعکس ہیں۔

مکتبہ دارالسلام،نشر و اشاعت کی دنیا میں نووارد ہے لیکن جس گھرانے سے اس کا انسلاک ہے،اس نے کاغذ،کاپی اور کتابوں کے اس کاروبار میں دہائیاں بسر کی ہیں اور پرنٹنگ پریس نے سنگی طباعت سے ڈیجیٹل طباعت کا جو طویل اور دلچسپ سفر طے کیا ہے،اس کا بھی تجربہ رہا ہے۔اس گھرانے نے شہر میں کتابی صنعت کو وقار اور وسعت عطا کی ہے،وہ تعارف اور تعریف کا محتاج نہیں ہے،اس نے کتابوں کی تجارت کو جس شان اور سلیقے سے تیسری نسل تک منتقل کیا ہے،وہ بجائے خود خاصے کی چیز ہے۔

راشد حسن صاحب کی توجہ سے جب ڈاکٹر ازہری کی بعض عربی کتابوں/مقالات کے مجموعے یہاں سے شائع ہوئے تو ان کو دیکھ کر برجستہ میری زبان سے نکل گیا کہ مئو تو دوسرا بیروت لگ رہا ہے! (کتابوں کی اشاعت کے لحاظ سے،ورنہ روشنیوں کے اس شہر کے ساتھ استعمار اور احتلال نے جو سلوک روا رکھا ہے،وہ جگ ظاہر ہے) ہوسکتا ہے،میرے تاثر میں مبالغہ ہو لیکن اس مکتبے کی کتابوں کے گیٹ اپ،ٹائٹل،گردپوش اور رنگوں کے حسنِ انتخاب کو دیکھ کر ذہن کا بیروت کی طرف جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بنارس کے عربی مجلے کا موازنہ بھی بیروت کی طباعت سے کیا جا چکا ہے۔

ستر کی دہائی کی بات ہے اور راوی ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری ہیں جو اس وقت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی ایچ ڈی۔"ایک">کر رہے تھے۔"ایک دن مولانا عبدالوہاب بخاری (مدیر دائرۃ المعارف،حیدرآباد) علی گڑھ میں پروفیسر مختار الدین احمد آرزو (صدر شعبہ عربی) سے ہندوستان میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کے موضوع پر گفتگو کرتے وقت جامعہ سلفیہ،بنارس کے عربی مجلے کا ایک شمارہ ان کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملاحظہ فرمائیے! یہ طباعت بیروت کی طباعت کا مقابلہ کرتی ہے۔"

محترم راشد حسن کی توجہ سے مجھے بھی مکتبہ دارالسلام کی کتابیں ملتی رہتی ہیں اور دو چار کتابوں پر میرے ٹیڑھے ترچھے تبصرے بھی شائع ہوچکے ہیں،لیکن یہ مکتبہ جس انداز اور رفتار سے اسلاف کی علمی تراث کو منظرِ عام پر لا رہا ہے،اس کا حق اس قسم کے تبصروں سے بالکل ادا نہیں ہو سکتا۔پچھلے دنوں مکتبے کی جانب سے ایک پیکٹ ملا،اس کو کھولا تو اس میں موتیوں کی ایک مالا نکلی اور اس مالا کا ہر دانہ تاب دار۔مکتبے کی مطبوعات کو پڑھنے کے لیے تو فراغت اور گوشہ چمن کی ضرورت ہے جو سردست میسر نہیں،اس لیے فہرستِ کتب کی مدد سے چند سطریں لکھ رہا ہوں جن کو آپ "رسید" کہہ سکتے ہیں:

1۔مجموع رسائل الامام المحدث محمد نذیر حسین الدھلوی

مکتبہ دارالسلام کی یہ شاندار اور عظیم پیش کش سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعدد اردو/فارسی رسائل کے عربی ترجمے کا بہترین مجموعہ ہے اور ترجمہ محترم راشد حسن مبارک پوری کی کلکِ زرنگار کی دین ہے۔انھوں نے ترجمے کے ساتھ نصوص کی تحقیق و تخریج کی ہے اور تعلیقاتِ انیقہ سے بھی سجایا ہے۔

پہلی جلد 502 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں شامل رسائل کے عناوین یہ ہیں: (1) زیادۃ الإیمان ونقصانہ (2) الإیضاح الوافی فی مسألۃ رؤیۃ الباری (3) ثبوت الحق الحقیق (4) إحکام النظر فی مسألۃ الذکر بالجھر (5) إنارۃ الدجی فی إقامۃ الجمعۃ فی القری (6) تقویم النظر فی مسألۃ رفع الیدین والتأمین بالجھر۔

دوسری جلد 395 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں شامل رسائل کے عناوین ملاحظہ فرمائیں: (1) رسالۃ فی تحلی النساء بالذھب (2) الدلیل المحکم فی نفی أثر القدم (3) واقعۃ الفتوی دافعۃ البلوی (4) درک الجنان فی أن خطبۃ الجمعۃ فی کل لسان (5) أقوال الحبر فی أحوال السحر (6) فتح الباب فی مسألۃ النطق بالضاد۔

عناوین سے رسائل کے موضوعات کے تنوع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔محترم راشد حسن نے اس کتاب پر ایک علمی مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں انھوں نے میاں صاحب کے سوانحی کوائف،تدریسی نشاطات اور ان کے ہمہ گیر اثرات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ہر رسالے کے مندرجات کا خوب صورت انداز میں تعارف کرانے کے ساتھ اس کی عصری معنویت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔میاں صاحب کی شخصیت کا جیسا تعارف عربی دنیا میں ہونا چاہیے تھا،شاید ابھی تک نہیں ہو پایا ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اس میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہی مجموعہ ہے جس سے عرب قارئین کو ان کے افکار سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا،ان شاء اللہ۔

2۔مساھمۃ السید النواب صدیق حسن خان القنوجی فی أدب الدعوۃ والاصلاح

ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے مذکورہ بالا عنوان سے ایک مقالہ لکھا تھا جو مجلۃ صوت الامۃ،بنارس میں دو قسطوں میں چھپا تھا۔اس کے علاوہ،ان کی عربی اور اردو نگارشات میں نواب صاحب کی علمی شخصیت سے متعلق کافی مواد موجود ہے جن کو اس کتاب میں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔محترم راشد حسن نے اردو تحریروں کا عربی ترجمہ کرنے کے بعد سب کو سلیقے سے مرتب کر کے نواب صاحب پر ایک مکمل کتاب کا روپ دے دیا ہے۔انھوں نے اس کتاب پر جو مقدمہ لکھا ہے وہ نواب شناسی میں ایک اہم اضافہ ہے،اس کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ فردوسِ معارف کے در کھل گئے ہیں۔یہ کتاب دعوتی اور اصلاحی ادب میں نواب صاحب کی خدمات کا بہترین انداز میں تعارف پیش کرنے کے ساتھ ڈاکٹر ازہری کی نواب شناسی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

3۔علامہ نذیر احمد رحمانی املوی: نقوش،آثار،تاثرات

علامہ نذیر احمد رحمانی املوی کا شمار بیسویں صدی کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے،وہ حقیقت میں منقولات و معقولات کے جامع تھے،انھوں نے دہلی اور بنارس میں رہ کر جس انداز سے تحریکِ اہل حدیث کے احیا اور نئی نسل کی ذہن سازی اور فکری تربیت کی،وہ معاصر جماعتی تاریخ کا ایک شاندار اور حوصلہ افزا باب ہے،اس کے باوجود ابھی تک ان کے سوانحی حالات اور علمی خدمات پر کوئی شایانِ شان کتاب منظرِ عام پر نہیں آسکی تھی۔محترم راشد حسن مبارک پوری نے یہ کتاب لکھ کر اس قرض کو اتارا ہے جو جماعتِ اہل حدیث پر کئی دہائیوں سے واجب تھا،لیکن مجھ جیسے قاری کو مقروض بھی کردیا ہے۔

اس کتاب کی پہلی جلد 601 صفحات پر مشتمل ہے جس میں علامہ املوی کے سوانحی کوائف،متنوع نشاطات اور علمی خدمات کا بہترین اسلوب میں جائزہ لیا گیا ہے۔دوسری جلد 663 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ان کی شخصیت،سیرت اور علمی فتوحات پر مشتمل مقالات،کتابوں پر تبصرے،مقدمے،عرضِ ناشر،تاثراتی مضامین،تعزیتی کلمات،منظوم تاثرات اور مکاتیب کے نمونے اور متفرقات شامل ہیں۔اس کی تلاش اور ترتیب میں انھوں نے بڑی محنت کی ہے اور ان کی اس محنت سے نہ جانے کتنی کرم خوردہ نگارشات باذوق قارئین کے بک شیلف کی زینت بن گئی ہیں۔جہانِ حرف و معنی میں "حرفِ آخر" نام کی کوئی شے نہیں ہوتی ہے،تاہم میں یہ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ بہت دنوں تک اس کتاب پر کوئی قابلِ قدر اضافہ مشکل ہے اور یہ سوانحی ادب کا ایک شاہ کار ہے۔

4۔جامع المنقول و المعقول علامہ نذیر احمد رحمانی: حیات،آثار،مقالات

440 صفحات پر مشتمل یہ کتاب میرے "جونیئر بزرگ" مولانا صہیب حسن بن فضل حق مبارک پوری (لکچرر جامعۃ الہند الاسلامیۃ،کیرلا) کی طالب علمانہ محنت کا ثمرہ ہے،جو انھوں نے جامعہ سلفیہ،بنارس میں استاذ محترم ڈاکٹر ضیاء اللہ صاحب مبارک پوری کے اشراف میں ترتیب دی تھی۔اس کتاب کا ایک گوشہ علامہ املوی کی سوانح حیات اور ان کی تصانیف کے تعارف اور تبصرے پر مشتمل ہے،جو سرسری اور سطحی بالکل نہیں بلکہ تجزیاتی ہے اور لگتا ہے کہ انھوں نے کتاب کا ایماندارانہ مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے،جو کتاب کے مندرجات اور اسلوب کے ساتھ،علامہ املوی کے افکار کی تفہیم میں بھی مدد کرتا ہے۔انھوں نے دوسرے حصے میں ماہ نامہ محدث،دہلی اور دیگر مجلات میں مطبوعہ مضامین/ اداریے کو سلیقے سے ترتیب دیا ہے،جس کے مطالعے سے علامہ املوی کے جہانِ تخلیق کی بوقلمونی اور رنگارنگی اور ان کے اسلوب کی شگفتگی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

5۔اہل حدیث اور سیاست

یہ علامہ نذیر احمد رحمانی املوی کی مشہور کتاب ہے جس کے متعدد ایڈیشن جامعہ سلفیہ،بنارس سے شائع ہوچکے ہیں۔مصنف نے اس کتاب میں جماعتِ اہل حدیث کی ملی اور سیاسی خدمات کا جائزہ لیا ہے اور معاصر علما کے اعتراضات اور الزامات کا تحقیقی اور مدلل جواب بھی دیا ہے۔یہ کتاب 438 صفحات پر مشتمل ہے،اس میں مولانا صفی الرحمان مبارک پوری اور محترم محمد تنزیل صدیقی حسینی کے مفید حواشی اور تعلیقات بھی ہیں،جس سے کتاب کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔جماعتِ اہل حدیث کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے۔معاصر علمی منظر نامے میں جس انداز سے تاریخ نگاری کے پردے میں تاریخ سازی بلکہ پروپیگنڈے کا کاروبار پھل پھول رہا ہے،سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی دکان سجا کر کچا پکا مواد پروس رہا ہے،ایسے ماحول میں اس کتاب کا مطالعہ بہت ضروری ہوگیا ہے تاکہ لاعلمی اور بے خبری کی یہ کڑی دھوپ ہمارے ذہن و فکر کو جھلسانے نہ پائے۔

6۔ردِ عقائدِ بدعیہ

علامہ املوی کی اس مشہور کتاب کے بھی متعدد ایڈیشن جامعہ سلفیہ،بنارس سے شائع ہوچکے ہیں۔یہ ایڈیشن معروف عالمِ دین مولانا اسعد اعظمی (استاذ جامعہ سلفیہ،بنارس) کی تخریج اور تحقیق پر مشتمل ہے،انھوں نے احادیث کی تخریج اور اقتباسات کی توثیق کے ساتھ ان کے مصادر سے تقابل کر کے حسبِ ضرورت تصحیح کا کام بھی انجام دیا ہے جس سے کتاب کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔علامہ املوی نے 1940 کی دہائی میں ماہ نامہ محدث،دہلی میں قسط وار مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو گردشِ دوراں کی وجہ سے جاری نہیں رہ سکا تو انھوں نے مطبوعہ مقالات کو 1950 کی دہائی میں کتابی شکل میں شائع کرادیا تھا۔

اس وقت کے سیاسی حالات اور مسلمانوں کی کسمپرسی کو دیکھتے ہوئے کتاب کے مشمولات اور اس کی اشاعت پر کچھ لوگوں کی پیشانیاں شکن آلود ہوسکتی ہیں،لیکن مصنف جو خود گردشِ دوراں کے شکار تھے اور پسِ دیوارِ زنداں کی آزمائش بھی برداشت کرچکے تھے،اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام کیا جس کا سب سے واضح پیغام یہی ہے کہ عقائد کے موضوع پر گفتگو فصلِ گل و لالہ کی پابند نہیں ہے۔230 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں علامہ املوی نے علمِ غیب،بشریتِ رسول،سایہ رسول اور حاضر و ناظر جیسے اہم موضوعات پر علمی اسلوب میں روشنی ڈالی ہے اور موضوع کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

7۔التحقیق الحسن فی الاطعام عن المیت بعد الدفن (تدفین کے بعد میت کی طرف سے دعوتِ طعام کی شرعی حیثیت)

یہ رسالہ بھی جامعہ سلفیہ،بنارس سے چھپ چکا ہے۔کتاب کے نام سے اس کے محتویات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔علامہ املوی نے یہ رسالہ بریلوی فرقہ کے ایک شخص کی طلب پر لکھا تھا اور دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ پسِ مرگ دعوتِ طعام کا اہتمام درست نہیں ہے۔84 صفحات پر مشتمل یہ جدید ایڈیشن عزیزم حمید حسن سلفی (استاذ مدرسہ اسلامیہ انوارالعلوم،املو،اعظم گڑھ) کی تخریج و تعلیق سے مزین ہے۔وہ ابھی اس میدان میں نووارد ہیں لیکن باذوق ہیں،بلند حوصلہ اور باہمت بھی۔امید ہے کہ اپنے برادران کی علمی صحبت اور رہنمائی سے اسلامی ادب کی تخلیق میں قابلِ ذکر اضافہ کریں گے،ان شاء اللہ۔

یہ مکتبہ دارالسلام کی چند نئی مطبوعات کا سرسری تعارف ہے،اگر کشاکشِ غمِ پنہاں سے فرصت ملی تو بعض کتابوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے کی کوشش کروں گا،ان شاء اللہ۔مذکورہ بالا مطبوعات کا غالب حصہ علامہ املوی کی نگارشات اور سوانحِ حیات سے متعلق ہے اور ان کی ترتیب و تصنیف اور پیش کش میں "حسن برادران" کے علمی مزاج،جماعتی حمیت،پرخلوص جذبے اور شوقِ فراواں کا دخل ہے،اللہ تعالیٰ اس جذبے اور شوق کو باقی اور برقرار رکھے،آمین۔ان کتابوں کی حسنِ طباعت اور دیدہ زیب ٹائٹل کو دیکھ کر مجھے مہدی افادی کا مشہور جملہ یاد آرہا ہے،جس کو پہلے بھی لکھ چکا ہوں،پھر بھی دہرانے کی اجازت چاہتا ہوں کیونکہ سردست اس کا نعم البدل میسر نہیں ہے: "عروسِ جمیل در لباسِ حریر" اور یہ جملہ مکتبہ دارالسلام کی اکثر مطبوعات پر صادق آتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے کام میں جمال اور عزم میں استقلال عطا فرمائے،آمین۔

ابو تحریر،نئی دہلی

20 ستمبر 2026ء

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مکتبہ دارالسلام، مئو ناتھ بھنجن: آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا - دی فری لانسر | دی فری لانسر