لطفِ دنیا اصل میں غم کی فراوانی میں ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

فل اسکرین دیکھیں
زندگی میں کون اب کس کی نگہبانی میں ہے
آدمی الجھا ہوا اپنی پریشانی میں ہے
زندگی کتنا ستم ڈھائے گی اندازہ نہیں
ہائے یہ معصوم لڑکا کتنی نادانی میں ہے
پھر بھی ہم ساحل سے موجوں میں اتر کر آگئے
کتنی دہشت دیکھ اے دریا ترے پانی میں ہے
قہقہہ آمیز محفل میں بھی ہے کچھ رنگِ سوز
مجھ کو لگتا ہے یہاں کوئی پریشانی میں ہے
کشتیاں لے آؤ اپنی آرزو مندانِ عشق
موجِ دریائے محبت اپنی طغیانی میں ہے
مستقل خوشیوں سے دل اک روز گھبرا جائے گا
لطفِ دنیا اصل میں غم کی فراوانی میں ہے
ہم تو اس بے زار کی گلیوں کے ہو کر رہ گئے
جبکہ معراجِ جنوں ذوقِ بیابانی میں ہے
جانتے ہیں ہم دریدہ پیرہن انجامِ عشق
عصمتِ یوسف اسی کی چاک دامانی میں ہے
چھو نہیں سکتا کبھی فائز اسے دستِ زوال
جب تلک احساسِ الفت دل کی نگرانی میں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





