جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

نہیں ہے موت تو بے کیف زندگانی ہے

کلام: محمد وسیم مخلصؔ28 ستمبر، 20261,398قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہیں ہے موت تو بے کیف زندگانی ہے
فل اسکرین دیکھیں
سخن وروں کو یہ کیوں ہم سے بدگمانی ہے
یہ شاعری تو نہیں دل کی ترجمانی ہے
بدن کے گھاؤ بھرو،دل کے گھاؤ رہنے دو
ستمگروں کی بہت خاص مہربانی ہے
میرے لگائے ہوئے باغ اب بھی سونے ہیں
یہ کیسی مجھ سے پرندوں کو بدگمانی ہے
تیری نظر کی بہاروں سے دن مہکتے ہیں
یہاں پہ صرف محبت کی حکمرانی ہے
ہوئی ہے مرد سے منسوب پھر بھی عورت ہے
یہ نسبتوں کی امانت تو لن ترانی ہے
اگر ہے زیست پسِ مرگ تو وہ مرگ نہیں
نہیں ہے موت تو بے کیف زندگانی ہے
تیری نظر کی تمازت سے سوکھتا ہے بدن
مروتوں کو بہت تجھ سے سرگرانی ہے
نہ دیں گے جان نہ بیزار ہو کے بیٹھیں گے
ہمارا تجھ سے سروکار درمیانی ہے
کہو تو سونپ دوں مخلصؔ وفا کی لاش تمھیں
گئے دنوں کی فقط اک یہی نشانی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

M
Mohammad Asif
29 ستمبر، 2026
شعر سارے اچھے ہیں

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

نہیں ہے موت تو بے کیف زندگانی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر