جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

تحریر: ابوعفاف28 ستمبر، 20261,620قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۸ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
فل اسکرین دیکھیں

کبھی کبھار کسی بہت قریبی رشتہ دار کے گزر جانے پر اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا کسی نیک انسان کے گزر جانے پر ہوتا ہے۔آپ کی زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنا بڑپن جتاتے ہیں،اپنی عزت کروانے پر آپ کو مجبور کرتے ہیں اور آپ ایسا کرنے پر مجبور بھی ہو جاتے ہیں۔لیکن بعض لوگ اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ان کا وجود ہی اتنا پیارا ہوتا ہے،آپ کے ساتھ ان کا رویہ اتنا مشفقانہ ہوتا ہے کہ دل بے تابانہ ان کی جانب کھنچتا چلا جاتا ہے۔ان کی عزت کرنے کو دل چاہتا ہے۔انھیں سننے کو،ان سے باتیں کرنے کو،ان سے کچھ سیکھنے کو آپ کا دل بہانے ڈھونڈتا ہے۔اور جب ایسا کوئی چلا جائے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔یہ استاد و شاگرد کا رشتہ عجیب ہوتا ہے کہ آپ محبت بھی شدید کرتے ہیں اور آہ و بکا بھی نہیں کر سکتے۔ہاں آپ ان کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا کرتے ہیں؎

دکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق

وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے

سیدنا مصعب ابن عمیر نے جنگ بدر کے روز اپنے سگے بھائی کے بارے میں انصاری صحابی ابو یُسر کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ اس کے ہاتھ کَس کر باندھنا،اس کے فدیہ میں اس کی ماں بہت سارا مال دے گی۔اس بات کو سن کر آپ کے بھائی حیران رہ گئے تھے کہ اپنے سگے بھائی کے بارے میں ایسا کون کہہ سکتا ہے۔تو مصعب ابن عمیر فرمایا تھا کہ تم میرے بھائی نہیں ہو۔میرا بھائی تو وہ ہے جو تمھیں رسی سے باندھ رہا ہے۔

اسلام میں خون سے بڑھ کر دین کا رشتہ ہے۔اور یہی رشتہ ہمارا” شیخ محترم“ سے تھا۔آپ کی شخصیت منفرد تھی۔اتنا ہنس مکھ چہرہ اور اتنی پُر کشش شخصیت بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔بڑے علماء اپنی تقریروں اور تحریروں سے جانے جاتے ہیں۔اسٹیج کی چکا چوند میں،شیروانی اور جبہ و قبہ میں الگ نظر آتے ہیں اور نجی محفلوں میں ان کا رنگ اور ہوتا ہے۔ہمارے شیخ اس سے مختلف تھے۔اسٹیج پر جن سنتوں کا حکم دیتے تھے نجی زندگی میں اس پر کاربند ہوتے تھے۔آپ کی سادگی آپ کی پہچان تھی۔شیروانی کا بوجھ بہت زیادہ تھا تو سادگی کی گول ٹوپی اوڑھ لی تھی۔اور یہ ٹوپی ہمیشہ اپنے سر رکھی۔کبھی اس کی ٹوپی اس کے سر اور اس کی ٹوپی اس کے سر والا کھیل تماشہ نہیں کھیلا۔

میں نے آپ کو پہلی دفعہ مدرسے کے ہاسٹل میں دیکھا تھا۔آپ اپنے صاحبزادہ کو داخل کروانے آئے تھے۔ہمارے والد سے دوستی تھی سو ہمارے ہی کمرے میں آپ کے صاحبزادے کا انتظام ہوا۔جانے لگے تو دیر تک نصیحتیں کرتے رہے۔میں بہت چھوٹا تھا۔جو بات یاد رہ گئی وہ آپ کا انداز تھا۔اچانک نصیحت کرتے کرتے پوچھا: ” اتنا ڈوز کافی ہے یا اور دوں؟ “ وہ دن اور آج کا دن ہے۔ہر ملاقات،ہر محفل،ہر موقع پر آپ کو یکساں پایا۔محفل کا بوجھل پن آپ کے ایک جملے کی وار میں چاروں شانے چت ہوجایا کرتا تھا۔محفلیں جانے دیجیے،آپ دورانِ خطبہ کبھی کبھی ایسی بات کہہ دیتے جس سے لوگ زیرِ لب مسکرائے بغیر نہ رہ پاتے۔یہ ذوق آپ کی طبیعت کا حصہ تھا،پھوہڑ پن والی بات نہ تھی۔لوگوں میں شہرت پانے کا شوق رَتّی برابر بھی نہ تھا۔ایک دفعہ نماز جمعہ میں کسی سبب سے سورۃ التین کی تلاوت کردی۔نماز کے بعد ایک عمر رسیدہ خاتون نے لبِ سڑک آپ کو ٹوک دیا کہ یہ خلاف سنت ہے۔میں نے دیکھا کہ آپ نے نگاہیں نیچی رکھ کر،مسکرا کر معذرت کرلی۔کہنے لگے آگے سے خیال رکھوں گا۔نہ آپ نے کوئی عذر پیش کیا نہ کوئی تاویل،نہ اپنی علمی صلاحیت کے جوہر دکھلائے نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹا۔بڑی خندہ پیشانی سے اپنی غلطی تسلیم کی اور مسکراتے ہوئے چل دیے۔میں حیران کھڑا رہ گیا۔

آپ سنت نبوی سے بڑی شدید محبت رکھتے تھے۔قرآن و حدیث سے عجیب عجیب نکات نکال لاتے تھے۔عجیب اس لیے کہ ہماری ساری زندگی میں ایسے نکات بیان کرنے والا کوئی نہ تھا۔ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی صاحب سے کہنے لگے کہ یہ چہرے کی تازگی کے لیے ڈاکٹر حضرات پتا نہیں کیا کیا نسخے بتاتے رہتے ہیں۔سنو ایک مجرب نسخہ بتاتا ہوں۔راتوں میں تہجد پڑھا کرو اس سے چہرے پر نور آتا ہے۔یہ مہنگی کریمیں اور نسخے سب بیکار ہیں۔

ایک ملاقات میں وقتِ رخصت مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کہنے لگے اس کا ثبوت نہیں ہے۔لوگوں نے عادت بنالی ہے۔

ایک دفعہ نماز کے آداب سکھلاتے ہوئے بتایا کہ امام کے لیے رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے بہت کھینچ کر اللہ اکبر پڑھنا مناسب نہیں۔اللہ کے رسول ایسا نہیں کرتے تھے۔

باتوں باتوں میں ایسی نصیحت کرجاتے کہ انسان تا عمر نہ بھولے۔ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی صاحب سے فرمایا کہ آخرت کی نجات چاہتے ہو؟ کہنے لگے ہاں۔کہا کہ کسی غریب بچے کو حفظ کروا دو۔

یاد داشت کے خانے میں ایسی باتوں کا انبار ہے۔میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔بے عمل ہوں لیکن آپ کی نصیحتوں کو گرہ سے باندھ رکھا ہے۔بڑے خوش الحان تھے۔ترنگ میں ہوتے تو بے ساختہ کوئی شعر گنگنا دیا کرتے تھے۔بڑی باریک نگاہیں تھیں۔ایک دفعہ مدرسہ آئے ہوئے تھے۔تدریس کی عمارت میں بریک کے دوران ملاقات ہوئی۔کہنے لگے چراغ تلے اندھیرا دیکھا ہے کبھی؟ کہا وہ دیکھو۔دیکھا تو شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر لگی تختی میں اعراب کی غلطیاں تھیں۔

آپ کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔جلدی جلدی بولا کرتے تھے۔آپ کا علم پختہ اور یقینی تھا۔سنت پر عمل کا شوق تھا۔خود بھی اہتمام کرتے تھے۔لوگوں سے بھی کرواتے تھے۔

آپ کی زندگی کا ایک لمبا عرصہ گلف میں گزرا۔اس کے باوجود نہ آپ کی زبان میں اور نہ ہی آپ کے رکھ رکھاؤ میں اس کا کوئی اثر آیا۔ہمیشہ بہت سادہ سے لباس میں رہتے تھے۔زبان بھی بہت آسان استعمال کرتے تھے۔کھانے کے شوقین تھے۔کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔

آپ نے بھر پور زندگی گزاری۔زندگی کے آخری پڑاؤ پر آکر مقابلہ بیماری سے ہو گیا۔موت نے زندگی کو پچھاڑنے کے تمام داؤ آزما لیے۔آپ کے لبوں کی مسکراہٹ نہ چھین سکی۔لوگ ملنے آتے تو اس یقین کے ساتھ لوٹتے کہ اچھے بھلے تو ہیں۔لوگوں کےسامنے اپنا دکھڑا رونے کے بجائے آپ نے اپنے رب کو اپنی تکلیفیں سنائیں۔اس کے فیصلے پر راضی رہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب العالمین آپ کی تمام لغزشوں کو در گزر فرمائے۔سئیات کو حسنات سے بدل دے۔آپ کو بہترین اجر سے نوازے۔آپ کے علم کو،آپ کی کتابوں کو،آپ کی اولاد کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنادے۔آمین یا رب العالمین؎

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

M
Mohammad Asif
29 ستمبر، 2026
تحریر اچھی ہے۔۔۔۔ سوانح نگار سےلیکن ایک بات ضرور کہوں گا۔۔۔۔ واتل علیھم نباابننی ادم بالحق۔۔۔۔ آیت۔۔۔ اس کو ضرور مد نظر رکھیں

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی - دی فری لانسر | دی فری لانسر