جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

چمن در چمن وہ رمق اب کہاںاستاذ گرامی شیخ الجامعہ مولانا عبد الوحید رحمانی

تحریر: شیخ عبدالرزاق عبدالغفار سلفی1 اکتوبر، 20262,283قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
چمن در چمن وہ رمق اب کہاں
فل اسکرین دیکھیں

استاذ گرامی شیخ الجامعہ مولانا عبد الوحيد رحمانی رحمۃ الله عليہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔وہ ہر دلعزیز استاذ تھے،ان کی شخصیت ایک مثالی شخصیت تھی،ان کا انداز گفتگو،تحریر کا اسلوب،زبان کی سلاست،ستھرائی و نفاست اور خط کی خوبصورتی یہ ساری ہی چیزیں قابل رشک تھیں۔جس طرح ان کے لباس میں نفاست تھی،اسی طرح ان کے مزاج میں راست نفاست تھی،ان کی گفتگو میں بلا کی لطافت تھی،وہ بچوں کو نصیحت کرتے ہوں،کلاس میں درس دیتے ہوں،یا عام گفتگو کرتے ہوں ان کی زبان میں اس قدر مٹھاس تھی،جی چاہتا تھا “ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی “۔جس طرح وہ خوش کلامی،خوش مزاجی اور خوش لباسی میں یکتا تھے،اسی طرح خوشخط لکھنے میں بھی بے مثال تھے،دل چاہتا تھا وہ لکھیں اور پڑھا کرے کوئی،بچوں کو ان سے اس قدر انس اور لگاؤ تھا کہ ان کی ڈانٹ ڈپٹ میں بھی بچوں کو لطف آتا تھا،وہ اپنے شاگردوں سے بے پناہ محبت کرتے،بلکہ ان کو جامعہ کے در و دیوار اور اس کی ایک ایک اینٹ سے محبت تھی،ان کی خواہش تھی کہ ان کا جامعہ خوب ترقی کرے،اور اس کی علمی شہرت دور دور تک پہنچے،جامعہ کے بچے فضاؤں میں اڑیں،بلندیوں سے کھیلیں اور آسمانوں پر کمندیں ڈالیں،ان کی سوجھ بوجھ،تدبر و بصیرت،معاملہ فہمی،قوت فیصلہ،مضبوط موقف اور اداری کاموں کے طویل تجربات نے ان کی شخصیت میں وقار اور تمکنت پیدا کر دیا تھا۔جس طرح جامعہ کی چہار دیواری کے اندر ان کی شخصیت محبوب تھی اسی طرح بنارس،اس کے گرد و نواح،بلکہ شیخ الجامعہ کے منصب پر فائز ہونے کے سبب پورے ہندوستان میں ان کی ذات محترم و مکرم بن چکی تھی،وہ بہت نحیف اور دبلے پتلے تھے مگر ان کی آواز اور ان کی شخصیت میں بلا کا رعب و دبدبہ اور کشش تھی،شیخ الجامعہ جب اپنے مخصوص لباس کو زیب تن کرتے اور اس پر شاندار صدری پہنتے تو ان کی با وقار شخصیت سے جو منظر سامنے آتا تھا اور جو رمق،چمک اور رونق اس لباس سے چھن کر باہر آتی تھی وہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے ؎

چمن در چمن وہ رمق اب کہاں

وہ شعلے شفق تا شفق اب کہاں

( ناصر کاظمی )

شیخ صلاح حفظہ اللہ نے شیخ الجامعہ کا قلمی خاکہ پیش کرتے ہوئے مرثیہ کی زبان میں ایک مخصوص اور اچھوتا انداز اختیار کیا ہے،جب تصور کیجیے تو شیخ الجامعہ کا پورا سراپا آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتا ہے ؎

آشنائے لذت گفتار اپنی سامعہ

منتظر اب تک اسی لے کو ہے نفس طامعہ

آسمان “ سلفیہ “ کا تھا وہ شمس لامعہ

جامعہ باقی تو باقی نام “ شيخ الجامعہ “

خوش کلامی،خوش مزاجی،خوش لباسی،خوش نوید

ان عناصر سے بنا ہے حلیۂ عبد الوحيد

مولانا محمد یونس مدنی حفظہ الله کے الفاظ میں:

’’ الله تعالى نے آپ کو کئی خوبیوں سے نوازا تھا،آپ شیریں زباں تھے،نفیس و سلیس اردو بولتے تھے،زبان و بیان دونوں میں ملکۂ تامہ حاصل تھا،بڑے بڑے علماء،ڈاکٹر،پروفیسر زبان و بیان میں ان کی مہارت کے معترف تھے۔کسی موضوع پر جب تقریر شروع کرتے تو اس انداز سے بیان کرتے کہ سامعین بڑے غور سے سنتے،مجمع پرسکون ہوجاتا ماحول کا بڑا خیال رکھتے،باتیں سب بیان کر جاتے لیکن مخالف کو احساس تک نہ ہو پاتا۔“(تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٨٥ )

ترجمانی درس میں ہوتی تھی ان کی صاف صاف

اس میں نہ تھا ذکر عنقا اور نہ ذکر کوہ قاف

تھے نہ ا ستاذ گرامی عادی لاف و گزاف

گر کہیں رکتے تو کر لیتے تھے خود ہی اعتراف

ان میں حلم و بردباری بھی تعجب خیز تھی

گفتگو پر کیف بھی تھی اور تبسم ریز تھی

شیخ الجامعہ مولانا عبد الوحيد رحمانی رحمۃ الله عليہ سے ہم لوگوں نے چار کتابیں پڑھی ہیں،شروع میں “كليلۃ و دمنۃ اور دیوان الحماسۃ پھر “ تاریخ الادب العربى “ اور آخر میں “ حجۃ الله البالغۃ “۔شیخ الجامعہ کی تدریس کا انداز بہت نرالا تھا وہ درس کیا دیتے تھے کانوں میں رس گھولتے تھے،چونکہ ان کی زبان بہت سلیس اور نفیس تھی،اس لیے ان کا درس سننے میں لطف آتا تھا اور عبارت کی ترجمانی اچھی طرح واضح اور صاف کرتے تھے،لغت اور ادب پر بہت زیادہ زور دیتے تھے،اردو اور عربی دونوں زبانوں کے وہ ادیب تھے اس لیے ان کے درس میں ادب کی چاشنی بھر پور ہوتی تھی،وہ اکثر و بیشتر ادب کی کتابیں ہی پڑھاتے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ ان کو فطری طور پر ادب سے لگاؤ بھی ہے اس لیے کہ وہ اپنے دروس میں اکثر مولانا ابو الكلام آزاد اور مولانا عبد المجيد حريری رحمهما الله کا ذکر خیر بڑے ہی والہانہ اور شاندار انداز میں کرتے رہتے تھے۔

مولانا محمد یونس مدنی بنارسی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:

“ آپ نے ہمیشہ ادب و حدیث کا درس دینا پسند فرمایا اس لیے کہ ادب و حدیث سے آپ کو خاص شغف تھا اگر چہ بعض اور فنون کو بھی آپ نے پڑھایا،جب جامعہ سلفیہ ( مرکزی دار العلوم ) بنارس میں 1966ء سے تعلیم شروع ہوئی تو آپ وہاں مدرس مقرر ہوئے،اور 1970ء میں شیخ الجامعہ کے منصب پر فائز ہوئے اس وقت بھی آپ نے ادب و حدیث کو پڑھانا پسند فرمایا،مجھے بھی مولانا کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہے،میں نے مولانا سے ادب میں کلیلہ و دمنہ،حماسہ،مختارات،تاریخ الادب العربى للزيات اور حدیث میں صحیح مسلم اور اسرار الشريعہ میں حجۃاللہ البالغہ پڑھی ہے،مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ادب کی کتاب پڑھاتے تو لفظی ترجمہ سے گریز کرتے ہوئے با محاوہ ترجمہ کراتے اور ادبی شہ پاروں کے محاسن میں کھو جاتے،اگر نثر پڑھاتے تو اردو یا عربی کا محاورہ پیش کرتے اور نظم پڑھاتے تو عربی اشعار کی مناسبت سے اردو یا فارسی کے اشعار پیش کرتے،مولانا کو عربی،اردو اور فارسی کے بے شمار اشعار یاد تھے اور ان اشعار کو بر محل پیش کرنے میں آپ کو بڑی قدرت حاصل تھی،حدیث پڑھاتے وقت مولانا رواة کے بارے میں بڑی معلومات فراہم کرتے تھے،آپ نے اخیر زندگی 1997ء میں ثانویہ اولی کے طلباء کو حدیث کی کتاب “ بلوغ المرام “ پڑھائی ہے،قدرت کی طرف سے آپ کی زبان میں شہد گھول دیا گیا تھا،زبان میں چاشنی اور شیرینی اس قدر تھی کہ بس طبیعت چاہتی تھی کہ ہر وقت آپ کا درس سنتے رہیں۔“( تراجم علمائے حدیث بنارس ص ٢٨١/٢٨٢ )

میں نے ابھی اوپر ذکر کیا ہے کہ مولانا کو ادب سے خاص شغف تھا اور اپنے درس میں اکثر و بیشتر مولانا آزاد اور مولانا حریری صاحبان رحمهما الله کا ذکر جمیل چھیڑ رہتے تھے جی چاہتا ہے کہ یہاں پر شیخ الجامعہ کے تعلق سے دو لطیفے سنا دوں تو بہتر ہو گا۔

ایک مولانا عبد المجيد حریری رحمۃ الله عليہ کے ادیب ہونے کے تعلق سے ہے دوسرا شیخ الجامعہ کے حلم و بردباری سے متعلق ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ شیخ الجامعہ اکثر مولانا حریری کے ادب اور ادیب ہونے کی تعریفیں کرتے رہتے تھے۔ایک دن ہم ساتھیوں کو شرارت سوجھی کہ شیخ الجامعہ کو چھیڑا جائے،پھر دوسرے دن دوران درس شیخ الجامعہ نے حریری صاحب کے کسی مقالے کی کوئی عبارت پڑھی،اور کہنے لگے کہ دیکھیے حریری صاحب کتنے بڑے ادیب تھے ان کی عبارت سنیے اور سر دھنیے،ہم دو ساتھی ساتھ میں بول پڑے کہ اس میں ادب کی تو کوئی بات ہی نہیں،کہنے لگے اچھا؟ اچھا اب تم لوگ دوسری عبارت سنو،پھر دوسری عبارت پڑھنے لگے،ہم لوگ پھر بول پڑے،اس میں بھی تو کوئی ادب کی بات نہیں ہے،نہ ہی کسی ادیب کا کلام لگتا ہے،بس شیخ الجامعہ بپھر گئے اور زیر تبسم کہنے لگے اچھا میں کل حریری صاحب کے اور مضامین و مقالے لاؤں گا اور تم سب کو دکھاؤں گا،پھر تم لوگ اعتراف کرو گے کہ حریری صاحب کتنے بڑے ادیب تھے،شیخ الجامعہ جب کلاس سے نکل گئے تو ہم سب لوگوں نے خوب قہقہے لگائے،کہ شیخ الجامعہ اب حریری صاحب کو ادیب تسلیم کروانے میں پورا زور لگائے ہوئے ہیں۔

آئیےاب ان کے حلم و بردباری کا قصہ سناتے ہیں،شیخ الجامعہ کی طبیعت میں بڑی پاکیزگی تھی،انکساری،تواضع اور سادگی تھی،اس لیے وہ بچوں کے حق میں ایک شفیق باپ کی طرح تھے،اور بچوں کے ساتھ باپ کا سا برتاؤ بھی کرتے تھے،واقعہ کچھ یوں ہے:

شیخ الجامعہ “ حجۃ الله البالغۃ“ پڑھا رہے تھے،دوران درس ان کی نظر کسی طالب علم کے سر کے بال پر پڑ گئی،دیکھا تو بال بڑے بڑے تھے،کہنے لگے جن کے بال بڑے بڑے ہیں،وہ کل چھوٹا کروا کر اور کٹوا کر آئیں گے ورنہ میں سارے ہی لوگوں کے سر چھلوا دوں گا،شیخ الجامعہ کی بات ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ درمیان سے ایک طالب علم بول پڑا،

“ سر کٹوا سکتے ہیں مگر سر چھلوا سکتے نہیں “ ( ابتسامہ )

یہ آواز شیخ الجامعہ کے کان میں جوں ہی پڑی،قدرے غصہ ہوگئے،اور مسکرانے بھی لگے،پھر کہنے لگے اب سبق نہیں پڑھاؤں گا،کل تم لوگوں کے عزائم کو دیکھ لوں گا،دوسرے دن جب کلاس میں آئے،تو درس دیا،اور گزری ہوئی بات کا کوئی ذکر نہیں کیا،“رات گئی بات گئی “ وہ بھولے نہیں تھے،بات کو نظر انداز کردیا،یہ ان کی بچوں پر شفقت و محبت تھی،اور بچے بھی بال کٹوا کر ہی آئے تھے اس لیے کہ شیخ الجامعہ کی بات کوئی کاٹ نہیں سکتا تھا۔

مولانا محمد يونس مدنى حفظہ الله کے الفاظ میں:

“ مولانا ایک بزرگ عالم دین،تجربہ کار کامیاب مدرس کے ساتھ ساتھ بہت ہی رحم دل اور شفیق مربّی بھی تھے اپنے شاگردوں کو اپنے بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے تھے،ان کے ساتھ ہمدردی اور شفقت و محبت کا برتاؤ کرتے تھے،ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے اور ان کو حل کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے،آپ بلند اخلاق و کردار کے حامل تھے،آپ کا انداز تخاطب بڑا پیارا ہوتا تھا،عزیز طلبہ اور فارغین کا بڑا خیال رکھتے،اور کہتے تھے کہ طالب علم جب اونچی جماعت میں پڑھنے لگے یا فارغ ہوجائے تو صرف اس کا نام نہ پکارو بلکہ اس کے نام کے ساتھ مولوی یا مولانا یا ڈاکٹر بھی لگاؤ اور اس کی عزت کرو،کوئی آپ کے پاس آتا اور وہ ڈاکٹر ہوتا بھلے ہی آپ کا شاگرد ہی کیوں نہ ہوتا آپ اسے ڈاکٹر صاحب ہی کے ساتھ خطاب کرتے،ان باتوں کا بڑا خیال رکھتے اور دوسروں کو بھی نصیحت کرتے،یہی وجہ ہے کہ شاگردوں کو موصوف سے بڑا والہانہ تعلق تھا اور محبت و عقیدت کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی شاگرد کی زبان سے آپ کے متعلق کوئی حرف شکایت سننے میں نہیں آیا،میں ملک اور بیرون ملک کے لوگوں سے ملا اور جب بھی آپ کا ذکر آیا تو لوگوں نے آپ کے تعلق سے خیر کا تذکرہ کیا اور اچھے خیالات کا اظہار فرمایا اور آپ کے حسن اخلاق اور بہترین صفات کا تذکرہ کیا۔“( تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٩١/ ٢٩٢ )

مولانا عبد المتين صاحب میمن جونا گڑھی رحمۃ اللہ عليہ خطیب جامع مسجد بنگلور کے الفاظ میں:

“ ( شیخ الجامعہ ) صالح اور نیک انسان تھے،بڑی خوبیوں کے مالک تھے جس سے ایک بار ملے اسے ہمیشہ کے لیے اپنا گرویدہ بنا لیا،کتنا خلوص،کتنی اپنائیت،اور کس درجہ تواضع کے مناظر دیکھنے میں آئے،الله الله! اب ایسے لوگ کہاں ملیں گے؟ “ ( تراجم علمائے اہل بنارس ص ٢٨٩ )

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

اب شیخ صلاح حفظہ اللہ کے مرثیہ کی زبان دیکھیے:

ساتھ طلبہ کے رویہ حق پناہی کا رہا

لطف و احسان و مروت،خیر خواہی کا رہا

اور حفاظت میں ہمیشہ اک سپاہی کا رہا

غیرت و احساس میں تو والا جاہی کا رہا

گویا وہ پیدا ہوئے تھے خیر خواہی کے لیے

مرکز علم و ہنر کی حق پناہی کے لیے

ڈاکٹر وصی اللہ بن عباس مکی حفظہ اللہ اپنے طالب علمی زمانہ کو یاد کرکے کہتے ہیں:

“ شیخ الجامعہ صاحب جو ہم سب کے استاذ تھے،ایک جید عالم دین،کامیاب استاذ و مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی شفیق مربی بھی تھے،زہد و قناعت،خود داری اور بے نفسی کی زندہ مثال تھے،جو آج ہمارے علماء میں کم یاب ہے،اور اس چیز کی تعلیم اکثر اپنے شاگردوں کو دیا کرتے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم لوگ جامعہ رحمانیہ کی درسگاہوں میں پڑھتے تھے اور باہر سبزی فروش سبزی بیجا کرتے تھے تو مولانا اکثر ہم لوگوں سے کہتے کہ علماء سبزی بیچ کر دین کا کام کریں لیکن اپنی خود داری پر آنچ نہ آنے دیں،شیخ الجامعہ صاحب کا کپڑا جس طرح نتھرا ستھرا رہا کرتا تھا اور جس طرح آپ کا ظاہر پاک و صاف تھا اسی طرح آپ کا باطن بھی تھا ان شاء الله۔“( ماہنامہ محدث بنارس مارچ ١٩٩٨ ء )

اسی طرح ڈاکٹر عبد الوہاب صدیقی مکی رحمہ اللہ عليہ ( جو طالب علمی زمانہ اور فراغت کے بعد بھی شیخ الجامعہ کے خادم خاص تھے) اپنی یاد داشت کو بیان کرتے ہیں:

“ مولانا مرحوم تعلیم و تدریس کے ساتھ سیرت و کردار کے اعلیٰ نمونہ تھے،آپ اتنے عظیم صفات سے متصف تھے جس کی نظیر مشکل سے ملے گی،مجھے مولانا کو بہت قریب سے دیکھنے اور ان کے اخلاق کی بلندی سے سابقہ پڑا ہے،خود داری اور عزت نفس کے ساتھ آپ کے اندر حد درجہ تواضع اور ملنساری تھی،ابتدائی مرحلہ میں جامعہ سلفیہ کے پوربی دکھنی جانب طلباء کے لیے بیت الخلاء بنائے گئے تھے،اور اساتذہ کے لیے پوربی اتری جانب زینہ کے نیچے بنایا گیا تھا،لیکن شیخ الجامعہ صاحب اکثر طلباء کے بیت الخلاء کی طرف جایا کرتے تھے،ایک روز کہنے لگے عبد الوہاب! تم جانتے ہو کہ میں ادھر کیوں جاتا ہوں؟ طلباء اکثر بیت الخلاء گندہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں،میں اس لیے جاتا ہوں کہ اس میں پانی بہا دوں،اللہ اکبر۔

شیخ الجامعہ جیسا نفیس طبیعت کا آدمی اس طرح بھی طلباء کی خدمت کر سکتا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے و فى ذالك ذكرى للذاكرين۔

آپ ہمیشہ حق کے خوگر تھے آپ کو طلباء سے حد درجہ ہمدردی تھی،ان کے مسائل کو سمجھتے تھے اور انھیں حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے،مجھے یاد ہے کہ ان ایام میں جب آپ کی مالی حالت بہت اچھی نہیں تھی،جس دن جامعہ میں تعطیل ہوتی آپ اپنی جمع پونجی لے کر جامعہ آ جاتے تھے کہ ہو سکتا ہے بعض طلباء کا منی آڈر نہ پہنچا ہو یا سفر کے وقت کسی قسم کی مادی ضرورت در پیش ہو تو موصوف اس کا بند و بست فرماتے تھے۔

ایسا بھی ہوا کہ بعض طلباء اپنی معاشی بد حالی کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوئے اور مولانا کو خبر لگی تو آپ نے طالب علم کی ذہانت اور لگن کو دیکھتے ہوئے اس کو تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا اور بعض محسنین سے رابطہ کر کے اس کے گھر کی کفالت کرائی،ان میں سے بعض اخوان آج جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد علم دین کی خدمت کر رہے ہیں۔“( ماہنامہ محدث مارچ ۱۹۹۸ ء ص ۱۳ / ۱۴ )

آج بھی تیری نواؤں سے فضا ہے معمور

ضو فشاں آج بھی ہیں تیرے تکلم کے چراغ

“ جل اٹھے دل کے اندھیروں میں امیدوں کے چراغ “ یہ سطور لکھتے وقت احساس ہو رہا ہے کہ ہم ان کے درس میں بیٹھے ہیں ان کی نفیس گفتگو اور میٹھی میٹھی باتیں سن رہے ہیں،ان کی بات کرنے اور درس دینے کا انداز اب کہاں؟ “ ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے “ ان کی بارگاہ نطق میں خورشید ڈھلتے تھے،انھوں نے آزاد اور حریری کے بزم ادب اور آسمان تخیل کا سیر کیا تھا،ان کی پرواز وہاں تک تھی کہ ان کے اوصاف و محاسن کے بیان کرنے اور ان ایام کی تصویر کھینچنے اور ان میں رنگ بھرنے سے میرا قلم قاصر ہے،مرکزی دارالعلوم بنارس کے میرے ہم سبق ساتھی برادر مکرم شیخ محمد جنید مکی حفظہ اللہ کے مختصر الفاظ میں:

“ ان کی پاکیزہ زندگی عبرت و موعظت کا خزینہ ہے،جو ہمیں اخلاص،خود داری اور سچائی کا راستہ دکھاتی ہے،مرحوم کے شاگردوں کی تعداد کتنی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ہند اور بیرون ہند کے کونے کونے میں پھیلے ہیں،آپ کی شفقت اور تعلیم و تربیت آج بھی خوشبو کی طرح ہمارے گرد رقص کر رہی ہے،اور ہمیں صداقت و عزیمت کا درس دے رہی ہے۔“( ماہنامہ محدث مارچ ۱۹۹۸ ء ص ۱۵ / ۱۶ )

واقعی شیخ الجامعہ کے اتنے شاگرد پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور کسی بھی صورت میں دین حنیف کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں پھر ان کے اور تمام اساتذہ کے لیے دعائے مغفرت کا ذریعہ ہیں ان شاء اللہ،اس بنا پر ان کی روح عالم بالا میں باذن اللہ خوش ہو کر کہہ رہی ہوگی “ ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالاہے “

مولانا خالد حنیف صدیقی رحمۃ الله عليہ کے الفاظ میں:

“ آپ کو جامعہ سے بڑی الفت اور شیفتگی تھی،آپ کی ہمیشہ ہی کوشش رہی کہ جامعہ سر سبز و شاداب اور آباد رہے،دن دونی رات چوگنی ترقی کے مدارج طے کرے،جامعہ کی عظیم لائبریری میں بے شمار کتب ہیں،ان میں کتب کے اضافہ میں آپ کی کوشش شامل حال ہے،تعلیم و تدریس کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا بھی بے پناہ جذبہ و ملکہ تھا،بڑی میٹھی و شیریں زبان میں تقریر کرتے،اپنے تلامذہ کو بھی اس طرح کرنے کی ترغیب دلاتے،آپ نے خطبۂ جمعہ کا فریضہ تا حیات بڑی مستعدی سے انجام دیا،فراغت سے پہلے اور اس کے بعد بھی مسجد نمیا میں خطبہ دیتے رہے،پھر مسجد باگڑ بلی کے مستقل خطیب ہو گئے،آپ شکر تالاب عیدگاہ کے امام عیدین تھے،آپ کا خاص وصف آپ کی پرہیز گاری،خود داری اور استغنا تھا،زہد و قناعت اور بے نفسی کی زندہ مثال تھے،بڑے ہی رحم دل،شفیق و مہربان تھے،سب کے ساتھ ہمدردی،شفقت اور محبت و مروت کا برتاؤ کرتے۔“( تراجم علمائے اہلحدیث ج ا ص ۲۹۱ )

آہ! استاذ گرامی جب پانچ ماہ کے تھے تو ماں کی شفقت و محبت سے محروم ہو گئے تھے،مگر خود جب بڑے ہو کر صاحب منصب ہوئے تو زندگی بھر طلبہ و اساتذہ اور عام لوگوں پر شفقت و محبت کے پھول نچھاور کرتے رہے۔آپ جس طرح عطر کا نفیس ذوق رکھتے تھے،اسی طرح زندگی بھر ہر محفل و مجلس کو عطر بیز بنا کر رکھا،اور اخلاق کی خوشبو سے معطر،جو شخص بھی ایک بار ملا آپ کے اعلیٰ اخلاق کا گرویدہ ہو گیا۔

میں نے شیخ صلاح کے مراثی کو بغور پڑھا ہے اور بار بار پڑھا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچا ہوں،کہ شیخ نے جن شخصیات کی بھی مرثیہ نگاری کی ہے ان کے انہی اوصاف و کردار کو چھوا ہے،چھیڑا ہے اور مرکز نگاہ بنایا ہے جو صفات فی الواقع ان شخصیات میں موجود تھیں،اور جو ان کے حقیقی کردار تھے،یہ شیخ کے ذہن و قلم کا کمال ہے کہ بےجا تعریف و توصیف کرنے سے دامن کو بچاتے ہوئے صاف صاف نکل گئے ہیں،اس میں شک نہیں کہ شیخ الجامعہ کے اندر طلبہ اور عام لوگوں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ و مادہ وافر مقدار میں پایا جاتا تھا،اور غیرت و حمیت اور خودداری بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور طلبہ کو اثنائے درس اس بات کی خوب تلقین بھی کرتے تھے،وہ “ دیوان الحماسۃ “ کا یہ شعر اکثر پڑھا کرتے تھے؎

رائت الناس قد مالوا الى من عنده مال

و من لا عنده مال فعنہ الناس قد مالوا

میں یہاں ان کے لطف و کرم،مروت و خیر خواہی اور ان کی غیرت و حمیت اور خودداری کے تعلق سے ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں،تاکہ بات خوب واضح ہو جائے۔

مولانا محمد یونس مدنی حفظہ الله ان کی غیرت کے تعلق سے ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں:

( مولانا رئیس احمد ) ندوی صاحب کے گاؤں کے مدرسہ میں جس کے مولانا سرپرست بھی تھے،اجلاس عام میں تشریف لے گئے تھے،واپسی میں ٹرین پر ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا اور مسافروں سے سامان جھپٹنا شروع کردیا،اتفاق سے اسی ڈبے میں مولانا ( شیخ الجامعہ ) بھی تھے،مولانا کا سارا سامان،نقد،کلائی گھڑی،چادر وغیرہ سب کچھ لے لیا،کافی نقصان ہوا،بعض اساتذۂ کرام نے ناظم جامعہ سے درخواست کی،کہ مولانا کا بڑا نقصان ہوا ہے،جامعہ سے کچھ تلافی ہونی چاہیے،مولانا عبد الوحيد صاحب سلفی رحمۃ الله عليہ ناظم جامعہ شيخ الجامعہ رحمۃ الله عليہ کے مزاج اور ان کی خودداری سے خوب آشنا تھے،انھوں نے کہا کیا شیخ الجامعہ لینے کو تیار ہوں گے؟ بعد میں جب مولانا کو معلوم ہوا کہ بعض اساتذہ نے میرے لیے ناظم صاحب سے مدد کی درخواست کی ہے تو آپ بگڑ گئے اور کہا کہ کیسے جرات ہوئی کہ آپ لوگوں نے اس قسم کی بات ناظم صاحب سے کہی،جو کام میں نے کبھی نہیں کیا وہ آج کیسے کر سکتا ہوں؟ سبحان الله۔‘‘( تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٩٠ )

شيخ الجامعہ کے لطف و کرم،احسان و مروت اور حق پناہی و خیر خواہی کی کہانی مولانا محمد اسرائیل سلفی کی زبانی سنیے،کیا دل و جگر رہا ہوگا کہ انھوں نے یہ راز فاش کیا،اور شیخ الجامعہ کے عظیم احسان کو عام کرکے اپنی عظیم احسان شناسی اور احسان مندی کا ثبوت دیا ہے،کہانی سنیے اور سر دھنیے،مولانا محمد اسرائیل سلفی حفظہ الله بیان کرتے ہیں:

“ سالانہ امتحان کے بعد تعطیل ہوئی،میرے گاؤں اور آس پاس کے سارے طلبہ چھٹی پر گھر چلے گئے،میں باقی رہا،ایک دن شیخ الجامعہ نے مجھے دیکھا تو دریافت کیا،مولوی اسرائیل گھرکیوں نہیں گئے؟ میں نے بتایا کہ مولانا اگر میں گھر جاؤں گا تو پھر دوبارہ پڑھنے نہیں آ سکتا،اس لیے کہ میں ڈھائی سو روپئے کا مقروض ہوں،یہ سن کر مولانا نے کہا کہ جامعہ میں رہو جس دن کہوں گا اس دن چلے آنا،دوسرے روز مولانا نے ایک اہل خیر سے بات کی اور ان سے تین سو روپئے دلوائے اور یہ بھی پوچھا کہ ہر ماہ کتنے روپئے میں کام چل سکتا ہے؟ میں نے کہا تیس روپئے میں،شیخ الجامعہ نے کہا کہ مہینہ ختم ہونے پر یہاں آ جانا اور مطلوبہ رقم لے لینا،مولوی محمد اسرائیل سلفی کہتے ہیں وہ اہل خیر بھی خوب “ جزاه الله خيرا “

جب تک میں جامعہ میں رہا تب تک مجھے وظیفہ دیتے رہے اور پھر میرا بھائی پڑھنے آیا تو شیخ الجامعہ کی وساطت سے میرے بھائی کو بھی پورے طالب علمی دور میں وظیفہ ملتا رہا،کبھی کبھار کہیں جانا ہوتا تو مزید رقم بھی مل جاتی،بقول مولانا محمد یونس مدنی حفظہ الله بیان مکمل ہونے پر مولانا محمد اسرائیل سلفی کی آنکھیں نم ہوگئیں اور انھوں نے مولانا کو بہت ساری دعائیں دیں۔“( تراجم علمائے اہل حدیث بنارس ص ٢٩٢/ ٢٩٣ )

یہ تھے ہمارے شیخ الجامعہ مولانا عبد الوحيد رحمانی رحمۃ الله عليہ،جامعہ سلفيہ بنارس کی ان عظیم شخصیات میں ان کا شمار ہوتا ہے جنھوں نے جامعہ کو بام عروج تک پہنچانے میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی،جنھوں نے شب و روز محنت کرکے جامعہ کو دنیا کی جامعات میں ایک اعلی مقام دلایا،کہ جامع ازہر جیسے ادارہ میں طلبہ جامعہ سلفیہ کی تاریخ لکھ کر ایم اے اور دکتوراہ کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں فللہ الحمد و المنۃ

شیخ الجامعہ اپنے شاگردوں سے واقعی بہت شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے،١٩٩٠ م کا واقعہ ہے میں کسی کام کے لیے بنارس گیا،اور ایک ہوٹل میں قیام کیا،دوسرے دن شیخ الجامعہ کو فون کیا،خیریت معلوم کی،پوچھنے لگے کہاں ٹھہرے ہو؟ میں نے ہوٹل کا نام لیا تو قدرے خفگی کا اظہار فرمایا اور کہا کیا کوئی اپنا مادر علمی بھول جاتا ہے؟،تم اسی وقت جامعہ جاؤ اور مہمان خانے میں قیام کرو،اور کل میرے ساتھ گھر پر ناشتہ کرو گے ( قریب قریب ان کے الفاظ یہی تھے ) میں جامعہ جا کر مہمان خانے میں ٹھہرا،دوسرے دن گھر گیا اور ساتھ میں ناشتہ کیا،ان دنوں ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی،احوال و کوائف دریافت کرتے رہے اور بتانے پر خوشی کا اظہار فرمایا،نصیحتیں کرتے رہے اور دعائیں دیتے رہے رحمہ الله و غفر لہ

خدمت “سلفیہ “ میں کی وقف اپنی زندگی

والہانہ جامعہ سے تھی انھیں وابستگی

قابل تحسین تھی ماحول میں سنجیدگی

در حقیقت ہے اطاعت اور یہی ہے بندگی

خیر خواہانہ ہر اک اقدام ان کا یاد ہے

اس کے ذکر خیر میں لذت ہے اور دل شاد ہے

ڈھونڈھتی پھرتی مدارس میں ہے اب اپنی نگاہ

ہو گئے کم یاب ایسے حق پناہ و خیر خواہ

اب کہاں استاد و شاگرد کی رسم بے پناہ

اب فقیر بے نوا طالب تو وہ ہے والا جاہ

چل بسا دل بند تو اس کا بدل آتا نہیں

دن گزر جاتا ہے مصلح کوئی کل آتا نہیں

شیخ الجامعہ بہت حساس دل و دماغ کے مالک تھے،اردو اور عربی دونوں زبانوں کے ادیب تھے جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا ہے،اور جس پر ان کے بعض مضامین اور کتاب “ تقويۃ الإيمان “ کی تعریب شاہد ہے جو مولانا سید محمد اسماعیل شہید دہلوی کی تصنیف ہے،جس کا مقابلہ عقائد کی اصلاح و تعمیر میں آج تک کوئی دوسری کتاب نہ کر سکی،ایک ادیب بہت ہی لطیف احساسات کا مالک ہوتا ہے،اس لیے واقعات اور حادثات اس کے دل و دماغ پر بہت جلد اثر انداز ہونے لگتے ہیں،اور زمانہ گزر جاتا ہے مگر وہ ان احساسات سے اپنے کو جدا نہیں کر پاتا ہے اور وقتا فوقتا ان حادثات کا ذکر دبے اور کھلے لفظوں میں کرتا رہتا ہے،شیخ الجامعہ شروع سے کہا کرتے تھے کہ جامعات کو چلانے کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے،بہت ساری باتوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے،بچوں کی تربیت کے لیے بہت ساری باتوں کو دیکھ کر ان دیکھی اور سن کر ان سنی کرنی پڑتی ہے۔مجھے دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ کے اولین شیخ الحدیث اور مہتمم مولانا امیر علی ملیح آبادی رحمۃ اللہ عليہ( تلمیذ رشید حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ عليہ) کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جی چاہتا ہے نقل کر دوں تاکہ ہم سب اس سے سبق سیکھ سکیں،اور معلوم کر سکیں کہ ایک مشفق استاذ کا حسن سلوک اور کردار کیسا ہوتا ہے،اس کی سوچ کا زاویہ کتنا وسیع ہوتا ہے،اس کی نگاہیں کتنی دور تک دیکھ لیتی ہیں،اور وہ حالات کا جائزہ نیز بچوں کے ذہنی اپج کو کس طرح پرکھ لیتا ہے،اور پھر اس کا علاج کرتا ہے،واقعہ کے چشم دید راوی مولانا عبد الرزاق ازہری ملیح آبادی ہیں جو ان دنوں حدیث کا درس لینے کے لیے دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ میں زیر تعلیم تھے وہ اپنے مضمون میں یوں لکھتے ہیں:

“ وہ مدرسے کے مہتمم تھے لڑکوں کی شرارت معلوم و مشہور ہے،خصوصا دار العلوم ندوہ کی حالت اس وقت بہت خراب تھی،مسلسل ہڑتالوں اور شورشوں نے طلبا کو بے لگام کر دیا تھا،مگر مولانا کے اخلاق نے زیادہ سے زیادہ شریر لڑکوں کو مسخر کر لیا تھا،ان کے عہد میں مدرسہ نہایت انتظام اور سکون سے رہا،انھوں نے کبھی کسی لڑکے کو سزا نہیں دی،کسی کو ڈانٹا تک نہیں،اگر کوئی شرارت ہو جاتی تھی تو وہ خطا کار لڑکے کو بلا کر اپنے ساتھ بٹھاتے یا کھڑا کرتے اور پوری شفقت سے نصیحت کرتے تھے،یہ نصیحت بڑی سی بڑی سزا سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوتی تھی،بہت سے لڑکے پڑھنے سے جی چراتے تھے،ہمیشہ کوئی نہ کوئی بیماری انھیں لگی رہتی تھی،جب چھٹی کے لیے ان کی درخواست پیش ہوتی،مولانا انھیں طلب کرتے،نبض دیکھتے پھر مسکراتے،غور سے انھیں دیکھتے اور کہتے “ بے شک بیمار ہو،نبض تیز ہے،جاؤ لیٹ رہو “بہتوں کی عیادت کے لیے ان کے کمروں میں چلے جاتے،وہ بیمار ہوتے تو چار پائی پر نظر آتے،مولانا کو دیکھ کر ڈر جاتے،مگر مولانا انھیں کچھ نہ کہتے،زیادہ سے زیادہ یہ کہتے “ چلو پھرو نہیں،بیماری بڑھ جائے گی “

ایک دن میں نے عرض کیا یہ شریر لڑکے ہیں،روز بہانے کرتے ہیں،آپ نبض دیکھ کر ان کی تصدیق کر دیتے ہیں اور وہ اپنے ساتھیوں میں جا کر قہقہے مارتے ہیں،اس پر مولانا مسکرانے لگے،پھر کہا “ میں جانتا ہوں،یہ بچے ہیں،کبھی کھیلنا بھی چاہتے ہیں،۰۰۰۰۰۰ لیکن ان کے اس برتاؤ نے تھوڑی مدت میں ان سدا بیماروں کو اچھا کر دیا۔“( قافلۂ حدیث ص 24)

اس واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے،کہ ہمارے شیخ الجامعہ مولانا عبد الوحید رحمانی رحمۃ اللہ عليہ بھی انہی صفات سے متصف تھے،طلبہ کے حق میں بے حد شفیق اور رحیم و کریم تھے،ان کی لغزشوں اور خطاؤں پر تادیبی کاروائی ضرور کرتے تھے،مگر اس میں شفقت اور پیار و محبت چھلکتی تھی،وہ ویسے ہی تھے جیسے بچوں کے لیے باپ ہوتا ہے،میں خود اس کی ایک مثال ہوں۔

ایک بار میرے ایک ہم سبق ساتھی کے ساتھ میرا علمی مباحثہ ہوا،موضوع تھا جماعت اسلامی کے امیر مولانا مودودی اور صوفی نذیر احمد کاشمیری کی خدمات،سامنے والا طالب علم جماعت اسلامی اور مولانا مودودی صاحب سے بہت متاثر تھا ان کی خدمات کا اکثر چرچا کرتا رہتا تھا،اور صوفی صاحب کا مذاق اڑاتا تھا،میں شنکر نگر میں صوفی صاحب کی صحبت میں رہ چکا تھا اور جامعہ میں بھی جب وہ تھے تو ان کی خدمت میں وقتا فوقتا حاضر ہوتا رہتا تھا ان کی چند کتابیں بھی میری نظر سے گزر چکی تھیں جن کی بنا پر جماعت اسلامی اور مولانا مودودی صاحب کے افکار و خیالات سے آگاہ ہو چکا تھا اس لیے مودودی ازم کے میں سخت خلاف تھا،ہم دونوں میں تو تو میں میں تک بات پہنچ گئی اور ہم دونوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ہم لوگ کلاس سے فارغ ہو کر غالبا ١٩ نمبر کمرہ کے سامنے تھے ہم لوگوں کی آواز شیخ الجامعہ کے آفس تک پہنچ رہی تھی انھوں نے سنا تو ہم لوگوں کو طلب کیا میں حاضر ہوا مگر خوف کی بنا پر میرا ساتھی نہیں گیا شیخ الجامعہ صاحب نے کہا سامنے کی کر سی پر بیٹھ جاؤ میں لیت و لعل میں پڑ گیا اور توقف کیا پھر شیخ الجامعہ نے کہا کہ “ الأمر فوق الادب “ پھر میں بیٹھ گیا،پاس میں ہی مولانا مصلح الدین اعظمی رحمہ اللہ ( م ٢١ / صفر ١٤٠٢ھ،١٩ / دسمبر ١٩٨١ ء ) گاؤ تکیہ سر کے نیچے رکھے لیٹے ہوئے تھے،جب انھوں نے صوفی صاحب کے بارے میں سنا کہ کوئی طالب علم مولانا مودودی اور صوفی صاحبان کی خدمات کا موازنہ کر رہا ہے تو جوش میں آکر اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ مودودی کی ساری کتابیں صوفی صاحب کی ایک خدمت پر قربان ہو جائیں گی،مودودی صاحب صوفی صاحب کی خدمت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں،١٩٤٧ ء میں جب تقسیم ہند کا درد ناک حادثہ پیش آیا اس موقعہ پر صوفی صاحب نے دہلی میں جو مسلمانوں کی خدمت کی اور جس طرح مسلمانوں کو بلوائیوں سے بچایا تھا اس کی مثال نہیں مل سکتی،ہندو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی سکھ ہے جو مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے اس لیے ان مسلمانوں کو کچھ نہ کہو یہ اتنی عظیم خدمت تھی جس کا کوئی بدل نہیں ہے،اس کے بعد ہم لوگوں کی بات آئی اور چلی گئی،شیخ الجامعہ نے بس اتنا کہا کہ جاؤ اب فضول باتوں میں وقت ضائع نہیں کرنا پڑھنے پر دھیان دو۔ادھر میرے ساتھی مجھے ملامت کر رہے تھے کہ میں شیخ الجامعہ کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا جب میں نے حقیقت بتائی تب خاموش ہوئے،اس شور و ہنگامے پر بھی شیخ الجامعہ نے بڑی نرمی اور ملائمت سے سمجھایا،نصیحت کی اور رخصت کر دیا۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک بار میں اور میرے ایک ہم سبق ساتھی اتوار کے دن بعد نماز عصر چھٹی لینے کے لیے گئے،چھٹی مانگی تو کہنے لگے کیا ضرورت ہے کہاں جاؤ گے؟ ہم لوگوں نے کہا کہ بنارس ہندو یونیورسٹی جائیں گے،کچھ پڑھنا ہے اور ایک مقالہ لکھ رہے ہیں کچھ مصادر و مراجع کی کتابیں دیکھنی ہیں،“کہنے لگے ہمیں بے وقوف بناتے ہو؟ “ ہم لوگ سکتے میں آگئے،مگر فورا کہنے لگے اچھا جاؤ جاؤ “ ہم لوگ جوں ہی وہاں سے چلے قہقہے لگانے لگے،نشانہ کہیں کا بہانا کہیں اور کا،بعد میں خیال آیا اتوار کا دن تھا یونیورسٹی بند تھی،پھر سوچا گیا،شیخ الجامعہ سمجھ گئے تھے،کہ ان بچوں کو کوئی ضرورت ہوگی کہیں جانا چاہتے ہوں گے اس لیے چھٹی دے دو،اور ہم لوگوں کو چھٹی مل بھی گئی،شہر میں گھوم پھر کر واپس آگئے،یہ شیخ الجامعہ کی شفقت ہی تھی اور ہم لوگ خوش بھی تھے رحمہ اللہ و غفرلہ

مرد حق اندیش حق کے لطف سے مغفور ہو

اس کا مرقد کبریا کے نور سے معمور ہو

( علیم ناصری )

عبد الرزاق بن عبد الغفار

٧ / شوال ١٤٤٧ ھ

٢٦ / مارچ ٢٠٢٦ م

دبی،متحدہ عرب امارات

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

چمن در چمن وہ رمق اب کہاں - دی فری لانسر | دی فری لانسر