جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دوسروں کی غلطیاںاور ہمارے نبیﷺ کا معاملہ

تحریر: شہاب الدین کمال5 اکتوبر، 20261,763قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۶ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دوسروں کی غلطیاں
فل اسکرین دیکھیں

اللہ عزوجل نے انسان کی تخلیق فرمائی تو ایسا نہیں بنایا کہ اس سے کبھی کسی لغزش،گناہ اور معصیت کا صدور نہ ہو۔بلکہ اللہ نے انسان کی فطرت میں کمزوری رکھی ہے اور شیطان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ انسان کو مختلف طریقوں سے بہکائے،اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے اور اسے راہِ راست سے ہٹانے کی کوشش کرے۔

شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔اور انسان کی نس نس سے واقف ہوتا ہے۔مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کی سعی کرتا ہے۔اور اکثر کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ نفسِ امارہ بھی انسان کو گناہوں پر ابھارتا ہے۔لہٰذا بشری تقاضے کے تحت اگر انسان سے کوئی لغزش ہو جائے تو ایسا بھی نہیں ہے کہ گناہ کا داغ ہمیشہ اس کے دامن پر باقی رہے۔بلکہ اگر انسان بارگاہِ الٰہی میں اپنے دامن کو پھیلائے،اپنے گناہ کا اعتراف کرے،ندامت کے آنسو بہائے اور سچی توبہ کرے تو سارے داغ دھبے دھل جاتے ہیں۔

”التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ “

گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔(سنن ابن ماجہ)

زندگی دراصل گناہ و ثواب،لغزش و تلافی اور خطا و اصلاح کی کشمکش سے عبارت ہے۔انسان سے گناہ ہو جائے تو اس پر توبہ و استغفار واجب ہے۔اسی طرح اپنی اور دوسروں کی چھپی ہوئی لغزشوں پر پردہ ڈالنا بھی شریعت کا حکم ہے۔

انسان اگر گناہ کے بعد اس کا ڈھنڈورا پیٹے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ہے۔

”كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ“

میری تمام امت کو معافی مل سکتی ہے،سوائے ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کا علانیہ اظہار کرتے ہیں۔(صحیح بخاری)

اس لیے ہر شخص کو اپنے گناہوں کی تشہیر اور دوسروں کی چھپی ہوئی لغزشوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے بچنا چاہیے۔اور گناہوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے کیونکہ اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔

«وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»

جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(صحیح مسلم: 2699)

سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کی خامیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالتے تھے اور کسی کی ایک لغزش کی بنیاد پر اس کی تمام خوبیوں کو فراموش نہیں کرتے تھے۔بلکہ اس کی اچھی صفات کو ہائی لائٹ کیا کرتے تھے۔

فتحِ مکہ کے موقعے پر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔

رسول اللہ ﷺ نہایت رازداری کے ساتھ فتحِ مکہ کی تیاری فرما رہے تھے اور آپ کی خواہش تھی کہ یہ خبر اہلِ مکہ تک نہ پہنچے۔لیکن حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہلِ مکہ کو ایک خط لکھ کر اس تیاری سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے بذریعۂ وحی نبی ﷺ کو اس معاملے سے آگاہ فرما دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی،حضرت زبیر اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہم کو خط لانے کے لیے روانہ فرمایا اور وہ خط حاصل کرکے لے آئے۔حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو بھی حاضر کیا گیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”يَا حَاطِبُ،مَا هَذَا؟“

(اے حاطب! یہ کیا معاملہ ہے؟)

حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے یہ کام کفر کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام سے پھرنے کی وجہ سے،بلکہ میری خواہش یہ تھی کہ اہلِ مکہ پر ایک احسان ہوجائے اور وہ اس کے بدلے میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کی بات سن کر فرمایا:

”صَدَقَ،وَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا“

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

”يَا رَسُولَ اللَّهِ،دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ“

(اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا،وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ،فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ“

(صحیح بخاری: 3007)

دیکھیں نبی ﷺ نے کس طرح حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی ایک بڑی غلطی کو نظر انداز کیا اور ان کی اچھائیوں کو بیان کیا۔

اسی طرح ایک اور صحابی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔وہ شراب نوشی میں مبتلا ہوگئے تھے اور اس جرم کی وجہ سے ان پر حد بھی جاری کی گئی۔ایک مرتبہ جب انھیں حد کے لیے لایا گیا تو حاضرین میں سے کسی شخص نے ان پر لعنت بھیجی۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”لَا تَلْعَنُوهُ،فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“

ان پر لعنت نہ بھیجو۔اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں۔(صحیح بخاری: 6780)

حدیث پر غور کیجیے! ایک طرف آپ ﷺ نے شراب نوشی کے جرم پر شرعی حد جاری فرمائی،لیکن دوسری طرف ایک لغزش کو ان کی پوری شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دیا۔جب کسی نے ان پر لعنت کی تو آپ ﷺ نے ان کی ایک اچھی صفت بیان فرمائی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں۔

نبی ﷺ کا یہ طرزِ عمل ہمیں بھی اپنانا چاہیے۔لوگوں کی لغزشوں کو اچھالنے کے بجائے ان کی چھپی ہوئی خامیوں پر پردہ ڈالنا چاہیے اور ان کی خوبیوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔

البتہ یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رہنا چاہیے کہ ہر عیب پر پردہ ڈالنا بھی درست نہیں ہے۔اگر کسی برائی کو چھپانے سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،کسی مظلوم کا حق متاثر ہورہا ہو،یا کوئی شخص مسلسل لوگوں کو دھوکا دے رہا ہو اور اس کے شر سے دوسروں کو بچانا مقصود ہو،تو ایسے شخص کی برائی بیان کرنا چاہیے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دوسروں کی غلطیاں - دی فری لانسر | دی فری لانسر