استاذ گرامی شيخ الحديث مولانا شمس الحق سلفی رحمہ اللہ کا شمار ہندوستان کے ممتاز علمائے اہل حدیث میں ہوتا تھا،وہ دار العلوم احمدیہ سلفیہ ( دربھنگہ ) سے 1936 ء میں فارغ ہوئے،اس سال فارغ ہونے والے طلبہ کی تعداد سات تھی،جنھیں ان کی علمی صلاحیت و لیاقت اور قابلیت کی بنا پر آج تک “سبعہ سیارہ “ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔استاذ گرامی کے علاوہ ان کے ساتھیوں میں ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی،مولانا مصلح الدین جیراج پوری،مولانا عبد الخالق راج شاہی،مولانا عبد الودود گیاوی،مولوی محمد زکریا دربھنگوی،قاری عرفان دمکاوی شامل تھے۔آخری تعلیمی سال کے دوران تین ماہ ( مارچ،اپریل،مئی 1936 ء ) دار العلوم میں پڑھنے کے ساتھ پڑھانے کا فریضہ بھی انجام دیا۔“ ( مقالات ص 562) اسی ایک بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ بے حد ذہین و فطین انسان تھے کہ دوران تعلیم ہی تدریس کے فرائض انجام دیا مزید حصول تعلیم کے لیے دہلی کا سفر کیا،پھر واپس آ کر اپنے بڑے بھائی مولانا عین الحق سلفی ( م 1982 ء ) کے ساتھ مل کر اپنے علاقے ترائی نیپال میں چند سالوں تک دعوت و اصلاح معاشرہ کا کام کرتے رہے جس کے بے حد مفید اثرات سامنے آئے اور لوگ شرک و بدعات سے توبہ کر کے توحید پر کار بند ہو گئے،اس کے بعد 1943 ء سے با قاعدہ تدریس کے کام میں لگ گئے اور پھر آخری عمر تک اسی کام میں لگے رہے “ آپ نے پوری عمر درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ میں گزاری،فراغت کے بعد لگ بھگ ۵۰ سال تک بہار،بنگال اور یوپی کے مدارس میں بحیثیت شیخ الحدیث فریضہ انجام دیا،اس طویل عرصہ میں آپ سے ہزاروں طلبہ مستفید ہوئے،اس وقت اکثر اہل لحدیث اداروں میں آپ کے تلامذہ نظر آئیں گے،بلکہ بعض ادارے تو آپ کے تلامذہ سے ہی آباد ہیں۔“ ( تراجم علمائے اہل حدث ج ۱ ص ۱۳۹،ایضا مقالات ص ٥٦١ )
آپ کے تدریسی سفر کی کہانی کچھ اس طرح ہے:
دارالعلوم احمدیہ سلفیہ ( دربھنگہ ) 1943 ء تا 1946 ء
مدرسہ نجم الھدی آم تلہ ( مرشد آباد ) 1947 ء تا 1956ء
مدرسہ اسلامیہ صالح ڈانگہ ( مرشد آباد ) 1956 ء تا 1957 ء
جامعہ فیض عام مئو ( یوپی ) 1957ء تا 1967ء
دار العلوم احمدیہ سلفیہ ( دوسری بار ) 1967ء تا 1969 ء
مدرسہ دار الحدیث ( بیلڈانگہ،مرشد آباد ) 1969 ء تا 1970 ء
جامعہ سلفیہ دار العلوم بنارس (یوپی ) 1970 ء تا 1983 ء
(تراجم علمائے اہل حدیث ج ۱ ص 138،ایضا مقالات ص 563 )
استاذ گرامی شیخ الحدیث مولانا شمس الحق سلفی رحمہ الله کی شخصیت علم و عمل اور زہد و تقوی سے معمور تھی،دوسری طرف آپ کی ذات میں شجاعت و بہادری کے جوہر بھی پائے جاتے تھے آپ نڈر اور بے باک انسان تھے جس بات کو حق سمجھتے اس کے اظہار میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے اور یہ جرأت و بیباکی آپ کے مشہور اساتذہ کی تربیت کی دین تھی۔
خلاف حق کوئی بھی بات ہو اظہار کر دینا
نوائے دیں سے غفلت کیش کو ہوشیار کر دینا
جو ہیں سوئے ہوئے حق کے لیے بیدار کر دینا
کہ جام سنت نبوی سے یوں سرشار کر دینا
ملی ہے خوئے مرد حق مشائخ کی حضوری سے
جناب احمد الله،آروی،جیراج پوری سے
مولانا احمد الله پرتاب گڑھی( وفات ١٣٦٢ھ)،مولانا محمد اسحاق آروی(وفات ١٣٦٩ ھ)،مولانا عبدالغفور جیراج پوری(وفات ١٣٧١ھ)،یہ تینوں حضرات مولانا شمس الحق سلفی رحمہ الله کے جلیل القدر اساتذہ تھے ان حضرات سے آپ نے مختلف علوم و فنون کی تحصیل کی،اور شیخ الحديث کے رتبے تک پہنچے،آپ کے یہ جملہ اساتذہ براہ راست شيخ الكل میاں سید نذیر حسین محدث دھلوی رحمہ اللہ کے شاگرد رشید تھے اور سب ہی اپنے اپنے فن میں ماہر تھے،گویا استاذ گرامی اس سلسلۃ الذهب کی ایک کڑی تھے جس کا تعلق شیخ الكل میاں صاحب دھلوی سے جڑا ہوا ہے اور جامعہ سلفیہ کے ان طلبہ کے لیے یہ بات باعث سعادت و شرف ہے جنھوں نے شیخ الحديث مولانا شمس الحق سلفی سے درس لیا ہے،ہمارے ہم سبق ساتھیوں کی یہ خوش نصیبی تھی کہ استاذ گرامی سے ہم لوگوں نے “ صحیح بخاری “ جلد اوّل پڑھی ہے۔
تلامیذ نذیر دھلوی سے تھے وہ وابستہ
ہراول تھا وہ سلفیان ہندوستان کا دستہ
وہ جوش و جذبۂ سنت میں،حق گوئی میں برجستہ
نہ اس کا دل شکستہ تھا،نہ اس کا حال تھا خستہ
اسی دستے کے وہ اک رکن عالی،نام نامی تھے
وہ عالم تھے وہ خاص الخاص بھی تھے اور عوامی تھے
استاذ گرامی فرائض کے ساتھ ساتھ سنت کے بڑے پابند تھے چہرہ اگرچہ با رعب اور جلالی تھا مگر اس سے خشیت الہی ٹپکتی تھی،آپ چلنے میں میانہ رو اور گفتگو میں اعتدال پسند تھے مگر اپنے اندر شان فاروقی بھی رکھتے تھے سنت کی پائمالی نا قابل برداشت تھی،آپ قیام الليل کے عادی اور شب زندہ دار تھے،ان کے ہونہار فرزند مشہور ادیب اور محقق شیخ محمد عزیر شمس رحمہ الله کے الفاظ میں:
“جب تک صحت مند رہے،ہمیشہ تہجد گزار نظر آئے،ان کی عادت تھی کہ فورا عشاء کے بعد سو جایا کرتے،سحر کے وقت اٹھتے اور ضروریات سے فارغ ہو کر تہجد کی نماز ادا کرتے،اس میں قرأت کے دوران یا دعا کرتے ہوئے ہچکیاں بندھ جایا کرتی تھیں،،کبھی کبھی ہم لوگوں کی آنکھیں اس اثنا میں کھل جاتیں تو ہم یہ منظر دیکھ کر بہت متاثر ہوتے،تہجد سے فارغ ہو کر اگر فجر کی اذان تک کچھ وقت ہوتا تو آرام کرنے کے بجائے کسی کتاب کا مطالعہ کرتے،پھر اذان کے بعد نماز کے لیے لوگوں کو اٹھاتے ہوئے نکلتے،عموماً جہاں بھی رہے،ان ہی کے ذمے امامت بھی رہی،فجر کی نماز میں مفصل کی دو لمبی سورتیں ٹھہر ٹھہر کر بلند آواز میں پڑھتے،رکوع،سجدے اور قیام بھی نسبتا طویل ہوتے،دوسری نمازوں میں بھی قرأت اور دیگر امور میں سنت نبوی کا اتباع کرتے۔“( مقالات ص ٥٦٨)
نہ عالم میں پیدا ہو جذبۂ کار فراوانی
نہ اس میں شان صدیقی نہ فاروقی نہ عثمانی
شجاعت حیدر کرار کی،نہ زہد سلمانی
تو ایسا علم ہے نقصان دہ اور دشمن جانی
کتاب و سنت خیر الورى کی شان جس میں ہو
عالم ہے کہ علم و فضل کا عرفان جس میں ہو
استاذ گرامی مدرس تھے،محدث تھے،مفتی تھے،داعی اور مبلغ تھے اور اس کے ساتھ ہی امام و خطیب بھی تھے۔آپ جہاں بھی رہے امامت کے فرائض انجام دیتے رہے اور خطبۂ جمعہ کا اہتمام کرتے رہے،مدارس میں فتاوی نویسی کا کام بھی انجام دیتے رہے اور ہر میدان میں آپ کامیاب رہے اور بقول شیخ محمد عزیر شمس رحمہ الله:
“ مرحوم جہاں بھی رہے دیگر فنون کے ساتھ حدیث کی اونچی کتابوں کا درس دیتے رہے،صحیح بخاری غالباً انھوں نے چالیس بیالیس بار پڑھائی ہوگی،حدیث کی تدریس کے وقت وہ زیادہ تقریر کے عادی نہ تھے،صرف مشکل مقامات پر تنبیہ فرماتے یا طلباء کے سوالات کا جواب دیتے۔امام بخاری سے انھیں بڑی عقیدت تھی،درس کے دوران مختلف مناسبتوں سے وہ امام بخاری کی فقاہت اور ان کی کتاب کی خصوصیات بیان فرماتے،فتح البارى برابر ان کے زیر مطالعہ ہوتی،عمدةالقاری ( عینی) اور دیگر شروح کی طرف کم رجوع کرتے۔“( مقالات ص ٥٦٦)
مدرس تھے محدث تھے،ہر اک ہم راہ شاہد ہے
وہ داعی اور مبلغ،ان کا حق آگاہ شاہد ہے
خطابت ا ور امامت ان کا عالیجاہ شاہد ہے
وہ منبر سلفیہ کا اور طیب شاہ شاہد ہے
جہاں تھے،مسند شیخ الحديثیت کی زینت تھے
بہت پابند تھے،پامرد تھے اور پاک طینت تھے
استاذ گرامی کی خطابت اور تقریر کے تعلق سے شیخ محمد عزیر شمس رحمہ الله یوں لکھتے ہیں:
“ مولانا مرحوم کی تعظیم و تکریم علماء اور طلباء جتنا ان کی علمی صلاحیت اور تدریسی قابلیت کی وجہ سے کرتے تھے،عوام اس سے زیادہ ان کی وعظ و تقریر سے متاثر تھے ان کی تقریر کا ایک مخصوص انداز ہوتا،شروع میں وہ بہت ہی پست آواز میں ٹھہر ٹھہر کر بولتے،پھر جوں جوں آگے بڑھتے بیان میں روانی اور آواز میں بلندی آتی جاتی،یہاں تک بعض اوقات انتہائی جوش کے عالم میں تھوڑا گرجتے برستے،اس وقت ان کا چہرہ بالکل سرخ ہوجاتا،پھر رخ موڑ لیتے اور کبھی جہنم یا موت یا قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر اس طرح کرتے کہ خود ان پر اور دوسروں پر رقت طاری ہو جاتی،تقریر میں ہنسنا ہنسانا ان کی عادت نہ تھی اور نہ ہی بے سروپا قصے سنانا،ہمیشہ قرآنی آیات،آحادیث اور صحابہ کرام رضى الله عنهم کے مستند واقعات کا سہارا لیتے اور انھیں موثر انداز میں پیش کرتے،تقریر میں کسی فرقے یا شخصیت پر زبان طعن دراز نہ کرتے اور نہ ہی ہمہ دانی کا دعوی کرتے ہوئے دوسروں کی تحقیر و تذلیل کرتے،ایک بات یہ بھی دیکھنے میں برابر آئی کہ کبھی بھی وہ کسی تقریر کے لیے پہلے سے کوئی تیاری نہ کرتے اور کسی بھی موضوع کے لیے جتنا بھی وقت دیا جاتا اس کے اندر ہی اپنی تقریر سمیٹ لیتے،بلکہ اخیر میں ساری گفتگو کا خلاصہ بھی مختصر الفاظ میں بیان کر دیتے۔
جہاں بھی رہے جمعہ کا خطبہ پابندی کے ساتھ کسی نہ کسی مسجد میں دیا کرتے،اس کے علاوہ مختلف جلسوں میں شرکت کے لیے دور دور سے بلائے جاتے،خصوصاً تعلیمی سال کے اخیر میں اتنے مقامات سے طلب آتی کہ ہر جگہ جانا محال ہوتا۔ان کے عقیدت مندوں کی ایک کثیر تعداد بنگال،بہار،یوپی اور دیگر صوبوں میں موجود ہے۔“( مقالات ص ٥٦٧/٦٨ )
استاذ گرامی رحمہ الله کو دعوت و تبلیغ سے بھی فطری لگاؤ تھا،اپنے بڑے بھائی مولانا عین الحق سلفی کے ساتھ مل کر اپنے علاقے کے ترائی ( نیپال ) کے حصے میں دعوت و تبلیغ میں خوب خوب محنت کی جس کے اچھے اثرات اور ثمرات بھی سامنے آئے اور لوگوں کو اپنے اخلاق و عادات اور عقائد کو سدھارنے میں کافی مدد ملی،اور پھر اپنے آبائی رسم و رواج سے توبہ کرکے خالص اسلامی اطوار و عادات اپناتے چلے گئے۔
ان کے تبلیغی دوروں کے تعلق سے شیخ عزیر رحمہ الله کا بیان کچھ یوں ہے:
“ دہلی میں چند ماہ قیام کے بعد وطن واپس آ کر اپنے بڑے بھائی مولانا عین الحق سلفی ( م ١٩٨٢ء ) کے ساتھ مل کر ترائی ( نیپال) کے اس علاقے میں جو آپ کے مولد و منشا سے قریب ہے،دعوتی و اصلاحی کام کرتے رہے،یہ علاقہ اس زمانے میں شعائر اسلام سے بالکل ہی نابلد تھا جہالت کے باعث ہندوانہ رسوم اور مشرکانہ اعمال لوگوں کے اندر رائج تھے،ایک مسلم اور غیر مسلم کے درمیان نام کے علاوہ کوئی ظاہری فرق نہ تھا،ان حالات کے پیش نظر دونوں بھائیوں نے ضروری سمجھا کہ سب سے پہلے اپنے علاقے کی خبر لیں۔
الحمد لله ایک مدت تک ان کی دعوت و تبلیغ کا اثر یہ ہوا کہ وہاں کا نقشہ بدل گیا،جگہ جگہ انھوں نے دینی مدارس قائم کیے،بے شمار مسجدیں تعمیر کرائیں،مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا،اس سلسلے میں انھیں طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں،بہت سے مواقع پر ان کا بائیکاٹ ہوا،کئی مقدمے بھی چلائے گئے،طرح طرح کی دھمکیاں دی گئیں،لیکن دونوں بھائی اپنے مشن پر لگے رہے،بالآخر لوگوں کی عداوتیں دن بدن سرد پڑتی گئیں،اور الله تعالى کے فضل و کرم سے دونوں اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔“( مقالات ص ٥٦٢/٦٣ )
نہیں وہ دیکھ سکتے تھے کبھی سنت کی پامالی
انھیں غمگین کرتی تھی مسلمانوں کی بدحالی
وہ ہمت حوصلہ اور جوش و جذبے سے نہ تھے خالی
بڑھاپے میں بھی ہم نے دیکھی ہے ان میں جواں سالی
گر اپنے ہمسروں سے بھی کوئی سرزد ہو کوتاہی
نہیں آتی انھیں اظہار حق میں کچھ بھی روباہی
“ مولانا جہاں بھی گئے تدریس کے علاوہ ان کے ذمے فتوی نویسی یا فتاوی پر نظر ثانی اور ان کی تصدیق کا کام بھی ساتھ رہا،جامعہ سلفیہ ( بنارس ) میں مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی مرحوم ( م ١٣٩٨ھ/ ١٩٧٨ء) کی وفات تک یہ معمول رہا کہ مولانا آزاد مرحوم عموماً جواب لکھا کرتے اور مولانا شمس الحق سلفی اس پر نظر ثانی اور اس کی تائید و توثیق کرتے یا کبھی کبھی وضاحتی یا اختلافی نوٹ لکھتے،بہت سے فتاوی خود مولانا شمس الحق کے تحریر کردہ بھی ہوتے،ان سب کی نقل جامعہ سلفیہ میں اب تک موجود ہے،دوسرے مدارس میں جہاں مولانا کا قیام رہا،فتاوی کی نقل رکھنے کا دستور نہ تھا،اس لیے ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے،اندازاً یہ سیکڑوں کی تعداد میں ہوں گے۔“( مقالات ص ٥٦٦/٦٧)
وہ شخصیت میں ان کی آن دیکھی بان دیکھی ہے
کہ علم و فضل میں وہ عالمانہ شان دیکھی ہے
انہی میں میں نے جو شیخ الحديثی تان دیکھی ہے
کبھی غیرت کے موقع پر جلالی شان دیکھی ہے
نمایاں ان میں ہر پہلو سے خوئے حق پرستی تھی
جلالی شان میں وہ ہستیوں میں ایک ہستی تھی
مولانا نے جس ادارے میں بھی کام کیا وہاں وہ شیخ الحديث کے رتبے پر فائز ضرور رہے،مولانا کی ایک بہت ہی اچھی صفت یہ تھی کہ وہ کم سخن تھے،گفتگو ہر مقام پر کرتے تھے،مگر اثنائے درس یا درس سے باہر وہ بس اتنی ہی گفتگو کرتے تھے جتنی ضرورت محسوس کرتے تھے ورنہ ان کو ہمیشہ حالت خاموشی میں ہی دیکھا گیا،چونکہ وہ شیخ الحديث تھے اس لیے طلبہ ان سے احتراماً کم ہی قریب ہوتے تھے۔ان کی پوری زندگی سنت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی،ان میں جلالی شان ضرور تھی،مگر وہ غیرت و حمیت کے موقع پر ہی نظر آتی تھی،مولانا ایک مثالی استاذ تھے رحمه الله و غفر له
وہی ہے سر زمیں اپنی وہی بادل برستے ہیں
وہی ہیں درسگاہیں اور وہی طلبہ کے رستے ہیں
وہیں اب بھی معلم،طالبان علم بستے ہیں
مگر مصلح ہم آج ایسے مکینوں کو ترستے ہیں
الہا! ختم ہو اہل مکاتب کی خداوندی
کریں پھر اہل حق اسلاف سی اپنی حنا بندی
استاذ گرامی شیخ الحديث مولانا شمس الحق سلفی رحمہ الله نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں جن سے سات بچیاں اور کل پانچ لڑکے تھے مگر سب سے زیادہ ہونہار اور برومند شیخ محمد عزیر شمس رحمہ الله نکلے؎
ہر نخل برومند ہے یا حضرت باری
پھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری
( انیس)
شیخ عزیر کی علمی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے اور ان کے دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔غضب کا حافظہ تھا،استاذ گرامی اثنائے درس اکثر ان کا تذکرہ کرتے اور کہتے “ ہماری زندگی کا حاصل “ عزیر ہے “ اس میں شک نہیں کہ استاذ گرامی کی زندگی کا حاصل شیخ عزیر رحمہ الله تھے،حافظہ کا عالم یہ تھا بقول علامہ اسحاق بھٹی رحمہ الله
“ان کے حافظے اور کثرت مطالعہ کا عالم یہ ہے کہ ہزاروں نام و نسب،تواریخ اور وفیات ان کے ذہن میں محفوظ ہیں،اس سلسلے میں کتابوں کی طرف مراجعت کی انھیں بحمد الله ضرورت نہیں پڑتی۔“(قافلۂ حدیث ص ٦٤٥)
استاذ گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:
“ مولانا شمس الحق سلفی صاحب پہلوان آدمی تھے،بڑے شعلہ بیان مقرر تھے،آپ کے بیٹے بہت ذہین ہیں،خاص طور پر مولانا عزیز شمس سعودیہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد تصنیف و تعلیق اور تحقیق میں ہی لگے ہیں حافظہ اتنا اچھا ہے کہ ہزاروں اسماء رجال مع سنین ان کے حافظہ میں موجود ہیں انھیں کتاب دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔“( رشحات قلم ص ١٠٥ )
افسوس یہ گوہر نایاب بھی ۱۵ / اکتوبر ۲۰۲۲ء کو دار البقا کے سفر پر روانہ ہو گیا،اگر آپ کو نام و نسب،تواریخ اور وفیات کے تعلق سے ان کی قوت حافظہ،طباعی اور جو دت فکر کا حیرت ناک منظر دیکھنا ہے تو آپ وہ محاضرہ اور تقریری بیان سن لیں جو انھوں نے 14 مارچ 2017 عیسوی کو لائیو کیا تھا۔
شیخ عزیر رحمہ الله کی تالیفات اور تصنیفات کا ایک طویل سلسلہ ہے جن کا ذکر کسی اور موقع پر کیا جائے گا۔ان شاء الله
عزیر شمس،مصروف ادائے حق فرزندی
انھیں تحقیق و بحث و نقد کی حاصل قلاقندی
کریں وہ گلستان شمس کی بہتر چمن بندی
اسی میں عقل و دانش ہے اسی میں ہے برو مندی
رہے یہ خانوادہ زندہ و پائندہ تابندہ
وہ جیسے آج ہے،الله رکھے اس کو آئندہ
آمین یا رب العالمين
نوٹ: یہ اشعار 14/ 10 / 2015 ء کو اس وقت لکھے گئے تھے جب شیخ عزیر شمس رحمہ اللہ حیات تھے،اس کے تقریباً ٹھیک سات سال کے بعد شیخ عزیر بھی 15 / اکتوبر 2022ء کو راہی دار البقاء ہوگئے،رحمہ اللہ و غفرلہ۔
عبد الرزاق بن عبد الغفار
١٢ شوال ١٤٤٧ ھ
٣١ مارچ ۲۰٢٦ م
دبی،متحدہ عرب امارات