جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی اور مولانا ابوالفضل جلال الدین رحمانیایک علمی مناقشہ

تحریر: عبدالرحیم محمد یونس بنارسی10 اکتوبر، 20262,312قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۸ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی اور مولانا ابوالفضل جلال الدین رحمانی
فل اسکرین دیکھیں

مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کا انتقال 7/ اکتوبر 2026ء کو لکھنؤ میں ہوا۔وہ ایک مایہ ناز عالم دین،مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم تھے۔

28/جنوری 2019ء کو مولانا ابوالفضل جلال الدین رحمانی داغ مفارقت دے گئے۔موصوف رحمہ اللہ جامعہ رحمانیہ بنارس کے ایک درخشندہ ستارے تھے۔

دارالہدیٰ یوسف پور ضلع بستی و سدھارتھ نگر قدیم ترین مدارس میں سے ایک ہے جس کا قیام تقریباً ۱۸۵۴ء میں عمل میں آیا۔مولانا جلال الدین رحمانی صاحب سے پیشتر دار الحدیث رحمانیہ دہلی کے اولین متخرجین میں سے مولانا عبدالرحیم رحمانی رحمہ اللہ یوسف پور میں صدر مدرس تھے،انھوں نے آٹھ سال تک حسن و خوبی کے ساتھ صدارت کے فرائض کو انجام دیا،اس کے بعد مستعفی ہو گئے۔

باوثوق ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مولانا موصوف کے مستعفی ہونے کے بعد دارالہدی یوسف پور کے کچھ ذمہ داران مولانا(نذیر احمد) املوی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انھوں نے مولانا املوی سے گزارش کی کہ کوئی ایسا لائق وفائق استاذ دیجیے جو ہمارے ادارہ کو ہمہ جہت ترقی دے سکے۔مولانا املوی نے فرمایا: میری نظر میں جلال الدین سے بہتر کوئی نظر نہیں آتا۔ادھر مولانا جلال الدین رحمانی بدایوں سے گھر آئے ہوئے تھے،انھوں نے کہا موقع اچھا ہے،کسی طرح مولانا عبدالرحیم رحمانی کی جگہ پر انھیں لایا جائے۔ابھی نوجوان ہیں ان شاءاللہ اچھا کام کریں گے جیسا کہ مولانا املوی نے فرمایا ہے۔چنانچہ باہم مشورہ کے بعد مولانا جلال الدین صاحب کو مدرسہ پر مدعو کیا گیا اور مختصر گفت و شنید کے بعد مولانا عبدالرحیم رحمانی کی جگہ تدریسی خدمات کے لیے مقرر ہو گئے۔(محدث،بنارس فروری 2019ء ص:27)

حصول علم کے لیے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ گئے اور دورانِ تعلیم ہی وہاں سے لوٹ آئے۔

ندوہ سے واپس ہونے کے بعد آپ معقولات میں بالخصوص اور دیگر فنون میں بالعموم مہارت تامہ حاصل کرنے کی غرض سے دوبارہ علامہ(نذیر احمد) املوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔کچھ دنوں تک آپ سے اپنی علمی تشنگی بجھاتے رہے۔علامہ املوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ” جلال الدین! جو کچھ اللہ نے مجھ کو علم دیا تھا اس کے وافر حصہ سے تم اپنے دامن مراد کو بھر چکے ہو اب جاؤ درس و تدریس کی زمام سنبھالو،تشنگان علوم دینیہ کو اپنے چشمہ صافی سے سیراب کرو اور دعوت و ارشاد کا فریضہ انجام دو۔“(محدث،بنارس فروری 2019ء ص:24)

ایک علمی مناقشہ

ریکٹر دارالعلوم ششہنیاں،سدھارتھ نگر مولانا مطیع اللہ محمد اسحاق سلفی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

استاد اور شاگرد کے درمیان تحقیقات اور مسائل میں اختلاف عہد قدیم سے چلا آرہا ہے جیسا کہ امام بخاری اور ان کے استاذ امام داخلی کے مابین ہوا۔امام داخلی نے طلبہ کو ایک سند سنائی جس کی ترتیب یوں تھی: سفیان عن ابی الزبیر عن ابراہیم۔امام بخاری نے فوراً ٹوکا اور عرض کیا کہ حضرت ابوالزبیر ابراہیم سے روایت نہیں کرتے ہیں جس پر امام داخلی نے کچھ خفگی کا اظہار فرمایا۔امام بخاری نے استاذ کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضرت اصل کتاب کی طرف رجوع فرمالیں۔امام داخلی نے اپنی اصل کتاب کی طرف مراجعت فرمائی تو امام بخاری کی بات صحیح نکلی۔

امام داخلی نے کہا: اچھا بتاؤ سند کس طرح ہے؟ امام بخاری نے فرمایا: ابراہیم سے روایت کرنے والے زبیر ہیں اور یہ عدی کے بیٹے ہیں،ابوالزبیر نہیں ہیں۔استاذ نے فرمایا:

جو سند تم نے سنایا وہ صحیح ہے۔اس وقت امام بخاری کی عمر گیارہ سال تھی۔ایک منصف مزاج استاذ کا رویہ اسی طرح ہوتا ہے۔ایسا ہی کچھ معاملہ مولانا ڈاکٹر جلال الدین رحمانی اور ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی کے درمیان پیش آیا۔جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کا تقرر عربی ادب کے استاذ کی حیثیت سے ندوہ میں نیا نیا ہوا تھا۔آپ درسگاہ میں تشریف لائے کچھ الفاظ کی تشریح بورڈ پر لکھ دی جس میں ایک لفظ" هوی“ بھی تھا۔اعظمی صاحب نے تحریر کیا هَوَى يَهْوَى باب ضرب اور سمع دونوں سے آتا ہے۔جس کا معنی آرزو،تمنا،مقصد اور خواہش کے ہوتے ہیں۔استاذ گرامی مولانا جلال الدین رحمانی صاحب نے استاذ کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضرت باب سمع اور ضرب دونوں سے آتا ہے لیکن ترجمہ دونوں کا علیحدہ علیحدہ ہے،ایک نہیں ہے۔هَوَى يَهْوِی باب ضرب يضرب سے آئے گا تو اس کا معنی اوپر سے نیچے اترنا،مائل ہونا اور جھکنے کا ہوگا اور جب سمع سے آئے گا تو اس کا معنی آرزو اور خواہش کے ہوگا۔مولانا اعظمی نے اس پر دلیل طلب کیا۔اولاً استاذ محترم نے قرآن مقدس سے دلیل پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ سورہ نجم میں ہے:

﴿ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى ﴾

جو باب ضرب سے ہے اور اس کا ترجمہ اوپر سے نیچے اتر نے کا ہے۔

سورہ ابراہیم میں ہے:

رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ

اس جگہ تَهْوِی باب ضرب سے ہے جو مائل ہونے کے معنی میں ہے۔

سورہ بقرہ میں ہے:

أَفَكَلَّمَا جَاء كُمْ رَسُولٌ بِمَا لا تَهْوَى أَنفُسُكُم

اس جگہ تَهْوَى باب سمع سے ہے جس کے معنی آرزو،خواہش اور چاہت کے ہیں۔

قرآن مقدس میں دوسری جگہ ہے:

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ

(الجاثیہ: ۳۲)

اس جگہ هوی باب سمع کا مصدر ہے جس کے معنی خواہش نفس کے ہیں۔

اسی طرح قرآن مقدس کی دیگر آیات اور حماسہ نیز سبع معلقہ وغیرہ کے اشعار کے ذریعہ دلائل کا انبار لگا دیا۔ڈاکٹر اعظمی نے دلائل کو حد درجہ غور و خوض سے سنا اور آج کے درس کو کل کی تحقیق پر معلق کر دیا۔

دوسرے دن جب آپ درسگاہ میں فروکش ہوئے تو طلبہ کے سامنے بر ملا اس حقیقت کا اظہار کیا کہ جس قدر لغت کی کتابیں دستیاب ہوئیں ان سب کو میں نے کھنگال ڈالا مگر کسی کتاب نے میرا ساتھ نہیں دیا،اگر ساتھ دیا تو جلال الدین کا ساتھ دیا۔ایک منصف مزاج استاذ کا رویہ یہی ہوتا ہے۔ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی حفظہ اللہ عربی زبان وادب کے مشہور صحافی اور قلم کار ہیں،حلیم الطبع اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں۔البعث الاسلامی کے رئیس التحریر ہیں اور اس وقت ندوہ کے مہتم اور انٹگرل ( Integral) یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔

اس علمی مناقشہ نے آپ کے قد کو اس قدر اونچا کر دیا کہ ندوہ میں ہلچل مچ گئی۔طلبہ نے کہا کہ بنارس سے پڑھ کر ایک طالب علم جلال الدین آیا ہے جس نے مولاناسعید الرحمن اعظمی کا ناطقہ بند کر دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی کا شاگرد ہے کیوں کہ ہلالی صاحب عرصہ دراز سے صاحب ہفت زباں علامہ عبدالمجید الحریری کے مہمان رہ چکے تھے۔طلبہ آپ سے کسب فیض کی درخواست کرنے لگے۔اس وقت مولانا مختار احمد ندوی بھی ندوہ میں تخصص کر رہے تھے،وہ بھی مولانا کے پیچھے پڑ گئے کہ جلال الدین اپنے علم کا فیضان کچھ میرے اوپر بھی جاری کر دو۔

ندوۃ العلماء میں آپ کے داخلے کا مقصد صرف اور صرف جامعہ ازہر مصر میں تعلیم حاصل کرنے کا تھا کیونکہ ندوہ کی سند جامعہ ازہر میں تسلیم شدہ تھی۔ابھی آپ کا خواب شرمندہ تعبیر بھی ہونے نہ پایا تھا کہ آپ کے بڑے بھائی الحاج محمد یونس رحمہ اللہ عرف ملاجی ندوہ میں وارد ہوئے۔ندوہ کے ماحول کا ہر طرح سے جائزہ لیا،اس کے بعد فرمایا کہ یہاں کا ماحول بہتر نہیں ہے،بوریا بستر باندھو اور گھر چلو۔اس طرح ڈاکٹر صاحب اپنے وطن واپس آگئے،آپ کی واپسی سے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اساتذہ و طلبہ کو شدید غم لاحق ہوا۔ندوہ ایک حد درجہ محنتی اور ذہین و فطین طالب علم سے محروم ہو گیا جو آگے چل کر ندوہ کے نام کو مزید روشن کر سکتا تھا۔

(محدث،بنارس،فروری ۲۰۱۹ء،ص: ۲۲ تا ۲۴)

أولئك آبائي فجئني بمثلهم
إذا جمعتنا يا جرير المجامع
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی اور مولانا ابوالفضل جلال الدین رحمانی - دی فری لانسر | دی فری لانسر