اتوار، 25 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آہ! وہ مرد رشید و مرد حق، مرد جلیلاستاذ گرامی مولانا محمد عابد حسن رحمانی رحمہ الله

تحریر: شیخ عبدالرزاق عبدالغفار سلفی25 اکتوبر، 20261,597قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آہ! وہ مرد رشید و مرد حق، مرد جلیل
فل اسکرین دیکھیں

استاذ گرامی مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ الله کی جب یاد آتی ہے تو فی الواقع بہت ساری باتیں یاد آنے لگتی ہیں،ان کی سادگی،ان کا بے تکلف رہن سہن،اپنی ہی دنیا میں مست رہنا،بے فکر رہنا،رنج و غم کو قریب نہ پھٹکنے دینا،ان کی سخاوت اور جود و کرم،ان کی محبت و شفقت،ان کی ضرب المثل مہمان نوازی،باتوں باتوں میں مسکرا دینا،اور پھر ان کا تکیۂ کلام ( جون ہے کہ تون ) دیہاتی زبان میں سبحان الله،کیا لطف دیتا تھا،پوری مجلس جھوم اٹھتی تھی۔درس میں اور غیر درس میں ان سے بات کرتے ہوئے خوب مزہ اور لطف آتا تھا،جس طرح ان کی زبان پر بے تکلف باتیں ہوتی تھیں ویسے ان کا دل بھی صاف و شفاف تھا۔ان کے دل میں کسی کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی بغض،حسد،کینہ کپٹ نہ تھا،ولا أزكى على الله احدا،دل آئینہ کی طرح صاف تھا اور ان کی شخصیت سب کے لیے آئینہ تھی،رحمہ الله رحمة واسعة ؎

بہت شفاف تھا عالی تھا دلکش تھا نرالا تھا

عجب تھا صاف دل،اس میں کہیں بھی کچھ نہ کالا تھا

زباں پر ان کے ہوتا تھا،جو دل میں ہونے والا تھا

اگر تھا ہاتھ میں مالا تو دیگر میں نہ بھالا تھا

بہت پر لطف تھی ان کی جو تکیہ کلامی تھی

ادائی میں بہت دلچسپ تھی گو کہ عوامی تھی

ایک طالب علم کی روایت ہے جو ان سے بہت قریب رہتا تھا کہ جب وہ جامعہ سراج العلوم بونڈھیار میں مدرس تھے تو ایک بار کہنے لگے آج تم لوگوں کو عربی میں درس دوں گا،راوی کا کہنا تھا کہ مولانا نے جوں ہی بولنا شروع کیا،ابھی چند ہی جملے بولے تھے کہ اپنا تکیۂ کلام بیچ ہی میں لے آئے ( جون ہے کہ تون ) پھر کیا تھا سارے طالب علم ہنس پڑے اور ہنستے رہے،پھر مولانا نے اس کے بعد عربی میں کبھی درس نہیں دیا،مولانا نے ہم لوگوں کو کچھ دنوں تک “ جلالین “پڑھائی اور میراث کی کتاب “سراجی “ بھی پڑھائی تھی،ان کے درس دینے کا انداز بھی جداگانہ تھا،بچے درس بھی لیتے تھے اور ان کی باتوں سے لطف بھی اٹھاتے تھے،ان کے درس میں کبھی بھی اکتاہٹ نہیں لگتی تھی،ہمیشہ ان کے درس میں تمام طالب علموں کے چہروں پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی ؎

رہی اس عابد و زاہد میں گونا گوں خصوصیت

تھا ان کا چہرہ مہرہ ہر طرح پابند سلفیت

ہے ان میں فلسفہ منطق رہین دار حنفیت

تھی ان میں مسلکی غیرت بھی،مسلک سے بھی انسیت

طبیعت میں بہت ہی سادگی سنجیدگی دیکھی

نہیں چہرے پہ ان کے درس میں رنجیدگی دیکھی

استاذ گرامی مولانا عابد حسن رحمانی کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ بہت ہی حاضر جواب تھے،پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ بھی وہ ہنس کر حل کر دیتے تھے۔

استاذ محترم مولانا عبد المعيد مدنى ( علی گڑھ) حفظہ الله کے الفاظ میں:

“ مولانا کے پڑھانے کا انداز نرالا تھا،سب سے پہلے سبق کا زبانی خلاصہ بیان کر دیتے اور مسئلے کو اچھی طرح سمجھا دیتے،اس کے بعد کتاب کی عبارت خوانی ہوتی اورترجمہ و تشریح ہوتی،اصول و قواعد کی کتابوں کی تدریس میں ان کا یہی طریقہ تھا،طلبہ کو یہ طریقہ بڑا پسند آتا اور سبق بڑا ہلکا پھلکا لگتا اور تعلیم کا گھنٹہ پرلطف طور سے گزر جاتا۔“( دی فری لانسر ص ٤،۲۲ مئی ۲۰۲۱ ء )

وہ پیچیدہ مسائل کو بھی ہنس ہنس کر بتا دیتے

بڑی خوبی سے ذہنوں میں انھیں سب کے بسا دیتے

یہ سب انداز ہی فہم و فراست کا پتہ دیتے

وہ اپنی قابلیت بے بتائے ہی جتا دیتے

اگر طلبہ کی جانب سے کوئی بھی تذکرہ ہوتا

عجب انداز میں ان کا بھی اس پر تبصرہ ہوتا

مولانا بے حد حاضر جواب تھے،اور فلسفہ و منطق میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے،ہر بات کو ہنستے ہوئے چٹکیوں میں حل کر دیتے تھے،“مولانا ان بے رس کتابوں ( منطق و فلسفہ ) کو بھی آسان اور دلچسپ بنا دیتے تھے اور عموماً مولانا کو اسی طرح کی کتابیں پڑھانے کو ملتی بھی تھیں “ ( دی فری لانسر )

اگر کچھ فلسفہ منطق کی اپنی نازنینی ہو

اگر طلبہ کو اس کے فہم میں کچھ بے یقینی ہو

رموز فلسفہ کی نکتہ دانی نکتہ بینی ہو

تو ماہر منطق سے ان کی جیسے ہم نشینی ہو

بہت ہی سادگی سے اس کی وہ تفہیم فرماتے

پھر اس کے سامنے سب خم سر تسلیم فرماتے

استاد گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:

“ اتنا ذہین تھے کہ پوری کتاب کا مفہوم ان کے ذہن میں ہوتا تھا،فنون کی جتنی کتابیں ہیں ان کو ازبر تھیں،هدايۃ الحكمہ،اس کی شرح مبتذی،شرح هدايۃ الحكمہ قطبی،شرح العقائد النسفى جیسی مشکل کتابیں ان کے ذہن میں محفوظ تھیں،حدیث کون سی کہاں ہے،یہ بخوبی ان کے ذہن میں تھا،اس لیے طلبہ کو وہ خلاصہ بتاتے تھے اور طلبہ ان سےپوچھتے بھی تھے،هدايۃ الحكمہ مولانا محمد مستقیم پڑھاتے تھے جب وہ ملازمت کےلیے جامعۃ الملك رياض گئے ( ملازمت کے لیے نہیں بلکہ “ تدریب المعلمين “ کے کورس کی پڑھائی کے لیے گئے تھے )،تو یہ کتاب مولانا محمد عابد رحمانی کے ذمہ لگائی گئی۔

اس سال کے طلبہ کہتے ہیں کہ مولانا نے ہم سے صرف ایک بار پوچھا کہ کہاں سے پڑھناہے،پھر سال بھر پڑھایا مگر کتاب ہاتھ میں نہ لیا،ان کا استحضار اتنا عمدہ تھا کہ ان سے اچانک فوری طور پر کسی موضوع کے سلسلے میں اظہار خیال کے لیے کہا جاتا تو فوراًتیار ہو کر کھڑے ہو جاتے،اور قرآن و حدیث کے دلائل سے اپنے کلام کو مزین و مدلل پیش کرتے تھے،ایک مرتبہ ہم لوگوں کی تعلیم کے زمانہ میں جب ڈاکٹر ذاکر حسین کا انتقال ہوا تو ایک تعزیتی محفل اساتذہ و طلبہ کی منعقد ہوئی مختلف اساتذہ نے اپنے اپنے اندازسے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی،مولانا کی باری آئی تو انھوں نے حمد و ثنا کے بعد ایک چھبتا ہوا شعر پڑھا اور محفل کو باغ باغ کر د یا؎

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا

اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

آپ کی یاد داشت بہت قوی تھی،کسی بھی مسئلہ میں قرآن و حدیث کا حوالہ ان کےذہن میں ہوتا،خصوصی طور پر صحیحین کی حدیثوں کا حوالہ ضرور دیتے۔“

(رشحات قلم: ص ٩٦ / ٩٧ )

آہ وہ مرد رشید و مرد حق،مرد جلیل

علم میں وہ بے نظیر اور حلم میں وہ بے عدیل

( علیم ناصری )

میں نے ابھی لکھا ہے کہ مولانا بہت حاضر جواب تھے لیکن ایک بار ہمارے ساتھیوں نے ایک ایسا سوال کیا کہ مولانا کو جواب دینے میں بڑی دقّت پیش آئی،اور طلبہ اس جواب سے مطمئن بھی نہ ہو پائے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ مولانا اپنی مونچھوں پر استرا لگواتے تھے یعنی مکمل حلق کرواتے تھے جس طرح سر کے بال چھلواتے تھے اسی طرح مونچھوں کو بھی چھلواتے،ایک بار لڑکوں نے سوال کیا کہ مولانا! مونچھ کٹوانے کا حکم ہے چھلوانے کا نہیں،مولانا نے فوراً جواب دیا کہ پست کرانے کا حکم ہے،لڑکوں نے کہا کہ آپ نے پست کہاں کروایا ہے آپ نے تو چھلوایا ہے جو صریحاً سنت کی خلاف ورزی ہے،مولانا نے پھر جواب دیا کہ “ جون ہے کہ تون “ میں نے مکمل طور پر اس کو پست کر دیا ہے،لڑکوں نے پھر جواب دیا لیکن احادیث میں کٹوانے اور پست کروانے کا ہی حکم ہے،چھلوانے کا نہیں اور کٹوانے اور پست کروانے اور چھلوانے میں بڑا فرق ہے،اگر پست کروانے سے چھلوانا مقصود ہوتا تو پھر محلقین اور مقصرین کی طرح الفاظ آتے،اب مولانا سے جواب نہیں بن پڑ رہا تھا کہنے لگے “ جون ہے کہ تون “ ہم تو ایسے ہی استرے سے اس کو پست کرتے رہیں گے اور ہنستے ہوئے کلاس سے چلے گئے؎

وہ اپنی رائے کو واضح کرتے صراحت سے

وہ اپنے زمرۂ تدریس میں ہوتے لطافت سے

انھیں مطلب نہیں کچھ بھی رہا کرتا سیاست سے

وہ بالکل پاک تھے کبر و تکبر اور نزاکت سے

نہ کوئی آؤ ہوتا تھا نہ کوئی بھاؤ ہوتا تھا

کہ ان کا سارے طلبہ سے عجب برتاؤ ہوتا تھا

استاذ محترم مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ الله بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ان کی ایک بڑی خوبی ان کی سخاوت اور مہمان نوازی تھی۔

مولانا عبد المعيد مدنى ( علی گڑھ) حفظہ الله ان کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:

“ مولانا عابد حسن رحمانی کی یاد آتی ہے،تو ان کی سخاوت،مہمان نوازی،شفقت اور حوصلہ مندی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے،انھیں جب بھی دیکھا ہمیشہ شاداں و فرحاں دیکھا،انھیں کبھی اپنی ذات میں گم نہ دیکھا،نہ حصار مفاد میں محصور،ہمارے استاذ سخی تھے،فیاض تھے،مہمان نواز تھے،ان کی ضیافت سے جامعہ کے اساتذہ اور جامعہ میں آنے والے ضیوف میں کون ہے جو محروم رہا ہو،سخاوت اور کشادہ دستی میں وہ تمام اساتذہ سے ممتاز تھے،کشادہ دستی اور سخاوت میں جامعہ میں ان کا نام ہمیشہ مشہور تھا،مولانا اپنے طلباء پر بڑی شفقت فرماتے تھے اور ان کے مسائل حل کرنے اور ذمہ داروں تک ان کی باتیں پہنچانے اور حل نکالنے میں بڑی مدد فرماتے تھے۔مولانا کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ علاقائیت،ذات برادری کے تعصبات سے یکسر بری تھے۔“( دی فری لانسر ۲۲ مئی ۲۰۲۱ء )

استاد گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ کے الفاظ:

“ میرے بڑے محسن،شفیق اور کرم فرما استاد تھے،انہی کے ایماء پر مجھے جامعہ سلفیہ میں جگہ ملی،اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے آمین،بڑے کشادہ دست،بڑے مہمان نواز،پاکیزہ اوصاف کے مالک تھے،جامعہ کے سارے مہمان ان کےمہمان ہوا کرتے تھے۔“( رشحات قلم ص ٩٦ )

انھیں آتی نہ تھی بالکل کسی کی بھی دل آزاری

نہیں ہوتا تھا لوگوں سے کبھی انداز بازاری

تھی ان میں اپنے گرد و پیش سے بے حد وفاداری

تھی اخلاق اور آداب و شمائل میں رواداری

عجب ان میں کرم جود و سخاوت کی نشانی تھی

زباں زد جامعہ میں ان کی اپنی میز بانی تھی

مولانا مدنی حفظہ الله مزید آگے لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں:

“ مولانا ایک حوصلہ مند انسان تھے اور جہاں بھی رہے حوصلے کے ساتھ رہے اگر انسان حوصلہ مندی سے محروم ہو تو روتے اور حالت کی شکایت کرتے اس کی زندگی کٹ جاتی ہے،مولانا حوصلہ مند تھے اس لیے خوش و خرم رہتے تھے اور حالات پر رونا اور شکایت کرنا نہیں جانتے تھے،وہ جامعہ سلفیہ کے معماروں میں سے تھے اور اس کے لیے سرمایہ فراہم کرتے تھے،اس کی خاطر وہ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے تھے،مولانا کبھی منصب اور عہدے کے بھوکے نہ رہے،الله تعالى نے انھیں جو صلاحیت دی تھی،جہاں رہے اسے بلا شرط لگایا اور اس کا غلط استعمال نہیں کیا،منصب اور عہدہ کی ہوس اس زمانے کی سب سے رزیل شے ہے،معمولی منصب کے لیے انسان اپنا حلیہ بگاڑ لیتا ہے اور اپنی شخصیت بھی تباہ کر لیتا ہے۔

مولانا عابد حسن رحمانی کا دور خیر کا دور تھا،سادگی ان کی پہچان تھی اسی سادگی پر وہ قائم رہے،استاذ کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شریف النفس انسان تھے،اپنی شرافت کے سبب وہ ہر جگہ ہر دلعزیز رہے۔انسان کو اگر یہ خوبی مل جائے تو وہ ہمیشہ دوسروں کا بہی خواہ اور ہمدرد ہوسکتا ہے اور رزائل سے ہمیشہ دور رہے گا،شرافت نفسی جوہر حیات ہے اور اچھی زندگی کا سنہرا عنوان ہے،شرافت کے سبب انسان سلیم الطبع،نرم خو،شائستہ اور مہذب بن جاتا ہے،مولانا عابد حسن رحمانی میں یہ ساری خوبیاں موجود تھیں۔مولانا ایک سچے اہل حدیث عالم تھے اور سچائی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے کوچ کر گئے،ہم جب بھی اپنے صالح اور نیک اساتذہ کو یاد کرتے ہیں تو دل سے دعا نکلتی ہے۔مولانا ایک مستند عالم تھے،استناد اور صالحیت ان کی پہچان تھی،ان کی ذات سے ہر جگہ اور ہمیشہ خیر ہی پھیلا،جہاں جاتے وہاں ان کا فیض جاری رہتا،انسان کے اندر سب سے قیمتی چیز اس کی نیکی،صلاحیت اور اخلاق ہے،ہمارے اساتذہ اور خاص کر مولانا عابد حسن رحمانی صاحب اعلی اخلاق کے نیک اور اچھے لوگ تھے ان کے اندر کسی طرح کا بغض،حسد،کینہ اور فساد نہ تھا،نہ توہمانہ مقابلہ آرائی تھی ہر ایک دوسرے کا قدردان تھا اور باہم لازمی احترام بھی موجود تھا،الله ان سب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے،بسا اوقات ان کے علمی احسانات دیگر سارے احسانات سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔“(ایضاً دی فری لانسر )

آہ! استاذ گرامی مولانا عابد حسن رحمانی کی کیا شخصیت تھی الله تعالى ان کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔آمین ؎

حدیث و فقہ میں ان کو بصیرت تھی بصارت تھی

فقاہت میں انھیں حاصل بہت عمدہ لیاقت تھی

بہت مشہور ان کی سادگی تھی اور صداقت تھی

انھیں ہمدردی ماحول کی حاصل سعادت تھی

خوش و خرم رہا کرتے عجب انداز تھا ان کا

یہی بس سوز تھا ان کا یہی بس ساز تھا ان کا

استاد گرامی مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ اللہ کو اللہ تعالی نے طویل عمر عطا فرمائی۔پوری زندگی انھوں نے دین کے حصول اور اس کو عام کرنے میں گزار دی،اور اس حدیث کے مستحق بنے ان شاء اللہ جس میں کہا گیا ہے کہ “ يا رسول الله ای الناس خير؟ قال: من طال عمره و حسن عملہ " جس نے لمبی عمر پائی اور بہترین عمل کیا۔( ترمذی ح ٢٣٣٠ )

مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ اللہ اس فانی دنیا میں ١٩٢٤ ء میں آئے اور ٢٠٠٩ ء میں سفر آخرت پر چلے گئے،گویا آپ نے اپنی زندگی کی 85 بہاریں دیکھی،آپ کا مولد و مسکن اور مدفن آبائی وطن مشہور گاؤں کنڈؤ بنا،آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز گاؤں کے جامعہ سراج العلوم کنڈو بونڈیہار میں کیا،کچھ دن کانپور کے مشہور مدرسہ جامع العلوم میں رہے،پھر دار الحدیث رحمانیہ دہلی کا رخ کیا،متوسطہ تک وہاں تعلیم حاصل کی،اس بے مثال ادارے میں تعلیم کی تکمیل کی خواہش ادھوری رہ گئی اس لیے کہ اس سے قبل ہی ١٩٤٧ ء میں تقسیم ہند کا المناک حادثہ پیش آگیا اور ہندوستان دو حصوں میں بٹ گیا،اس حادثہ میں یہ بے مثال ہرا بھرا چمن اجڑ گیا اور پھر آپ مجبوراً اپنے گاؤں کی طرف لوٹ آئے،ایک سال گاؤں کے مدرسے میں گزارا،اس کے بعد ١٩٤٨ ء میں لکھنؤ کا رخ کیا اور دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا مگر وہاں کا علمی ماحول ان کو راس نہیں آیا اور دیوبند چلے گئے،وہاں منطق و فلسفہ اور فقہ کی تعلیم ضرور حاصل کی،اچھی استعداد بھی پیدا کر لی مگر اطمینان قلب حاصل نہیں ہو رہا تھا اس لیے بنارس کا جامعہ رحمانیہ تکمیل تعلیم کی آخری منزل ٹھہرا اور وہاں سے سند فراغت حاصل کی اور اپنے نام کے ساتھ رحمانی لکھنے لگے۔

مولانا نے حصول علم کے بعد بہت سارے اہل حدیث اداروں میں بے حد خلوص و تندہی کے ساتھ دعوت و تبلیغ اور تدریس کے فرائض انجام دیے،اڑیسہ،جھاڑ کھنڈ،بنگال اور اترپردیش کے تقریباً درجن بھر مدارس میں مسند تدریس پر فائز رہے اور ایک کامیاب مدرس کی حیثیت سے جانے اور مانے گئے،خاص کر جامعہ سراج العلوم بونڈیہار اور جامعہ سلفیہ بنارس میں زندگی کے بیشتر سال گزارے جس کی بنا پر ان کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوگئی،مولانا کو تصنیف و تالیف سے کچھ لگاؤ نہ تھا مگر ہزاروں کی تعداد میں جو انھوں نے شاگرد تیار کیے وہی ان کی تالیفات اور تصنیفات ہیں،یقیناً وہ سارے شاگرد مولانا کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں،مولانا ایک بے حد خوددار انسان تھے،انھوں نے اپنے ضمیر کے خلاف کبھی کوئی سودا نہیں کیا،زندگی میں ہر انسان کے ساتھ بےشمار مسائل ہوتے ہیں،وہ مسائل مولانا کے ساتھ بھی تھے،مگر مولانا نے ان کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ ہمت و جرات کےساتھ ان مسائل کا مقابلہ کیا۔

مولانا عبد المعید مدنی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:

“ مسائل حیات ہر ایک کے ساتھ ہوتے ہیں،اور معاشی الجھنوں سے بھی انسان کو نجات نہیں ملتی،لیکن ایک شریف اور صالح انسان ان میں گھر کر اپنی پہچان نہیں کھو دیتا ہے،نہ اپنی انسانیت سے دست بردار ہوتا ہے،آج کے دور کا بڑا کمال یہی مانا جاتا ہے کہ وہ ہرجگہ جی لے اور ماحول کے مطابق اپنا چہرہ بدلتا رہے،کبھی روباہ کبھی گرگ اور کبھی گرگ زادہ اس وقت لوگوں کی یہی کہانی ہے،آخری درجے میں انسان سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا چراغ جلائے رکھے،اپنی شناخت باقی رکھے اور خاموشی سے فتنوں سے بچتے ہوئے اپنا کام کرتا جائے،مگر ارمان دنیا اسے چین کہاں لینے دیتے ہیں،مولانا کے ساتھ بھی مسائل حیات تھے لیکن وہ ان کے اوپر ایسے حاوی نہیں ہو سکے کہ وہ اپنی شناخت کھودیں،اس لیے انھیں اپنے کام کے لیے ہمیشہ انتخاب کا راستہ کھلا رکھنا پڑا،اسی لیےجامعہ سلفیہ میں وہ نہ ٹک سکے۔“(دی فری لانسر ٢٢ مئی ٢٠٢١ ء )

استاد گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی حفظہ اللہ کے الفاظ میں:

“ ١٩٩٢ء میں ( مولانا ) نے جامعہ کی تدریس چھوڑ دی،كليۃ الطيبات ڈومریا گنج میں پڑھانےلگے اس کے بعد کچھ دنوں تک لال گوپال گنج الہ آباد میں پڑھایا،اس کے بعد گھر بیٹھ گئے۔“( رشحات قلم ص ٩٧ )

جامعہ سلفیہ مرکزی دار العلوم بنارس میں تعلیم کا آغاز ۲۱ / ۲۲ مارچ ١٩٦٦ء سے ہوتا ہے اور مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ اللہ اسی سال مدرس بن کر جامعہ میں آ جاتے ہیں،اور وہ ١٩٩٢ء تک تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں،مسلسل 26 سال تک اتنے بڑے ادارہ میں مسند درس پر جلوہ افروز رہے،صرف تدریسی خدمات ہی انجام نہیں دیتے ر ہے،بلکہ بقول مولانا عبد المعید مدنی حفظہ اللہ“ وہ جامعہ سلفیہ کے معماروں میں سے تھے اور اس کے لیے سرمایہ فراہم کرتے تھے،اس کی خاطر وہ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے تھے “ ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت جامعہ کے لیے تج دیا ہو اور اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ وہاں پر ہی گزارا ہو اور اس کی ترقی کے لیے دل و جان سے قربان رہا ہو،عمر کے آخری حصہ میں جب اس کو کسی مجبوری کی بنا پر اپنے اس محبوب ادارہ سے جدا ہونا پڑے تو اس کے دل و دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے یہ وہی شخص بتا سکتا ہے جس پر ایسے حالات گزرے ہوں،جامعہ سے جدائی کے بعد مولانا تقریباً سترہ ( ١٧ ) سال تک با حیات رہے مگر یہ راز کھل نہ سکا کہ مولانا جامعہ سے کیوں الگ ہوئے تھے،وہ راز اپنے سینے میں ہی لے کر چلے گئے،اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔آمین

ہمارے مدارس اور جامعات میں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جس شخص نے اپنی جوانی کے ایام جس ادارے میں گزارے ہوں،عمر کے آخری پڑاؤ میں اس سے جدائی اختیار کرنی پڑتی ہے،میں نے ندوہ اور دیوبند کے حالات کا جائزہ لیا ہے مگر ان کے یہاں ایسے واقعات شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں،ندوہ میں مفتی ظہور صاحب رحمہ الله اپنی آخری سانس تک خدمت میں لگے رہے،اور ندوہ ان کے اخراجات کو برداشت کرتا رہا،اسی طرح موجودہ مہتمم جناب مولانا سعید الرحمن اعظمی صاحب حفظہ اللہ و شفاه من مرض صاحب فراش ہیں مگر آج تک ان کی تنخواہ جاری ہے،میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آج بھی وہ چار پائی پر بیٹھے بیٹھے ہلتے ہاتھ سے کاغذات پر دستخط کرتے رہتے ہیں،اسی طرح ندوہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد ایک چوتھائی پنشن دینے کا بھی قانون ہے اور اگر اس سے دوا علاج اور دوسرے اخراجات پورے نہیں ہوتے ہیں تو ان کو زکات کے فنڈ سے مزید رقم بھی مل جاتی ہے ( بروایت محمد شمیم ندوی )،دوسرے اداروں کا اپنے اساتذہ اور بہی خواہوں کے ساتھ یہ حسن سلوک ہے،مگر ہمارے یہاں یہ حسن سلوک کیوں مفقود ہے “ اک سوال ہے یاران نکتہ داں کے لیے “ میں نے مولانا عبد السلام رحمانی رحمہ اللہ جو استاد گرامی مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ اللہ کے بھتیجے تھے ان پر ایک مضمون لکھا تھا،جس میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ “ مولانا عبد السلام رحمانی رحمہ اللہ کے آخری ایام بڑے درد ناک گزرے ہیں “ گردش آدمی ہے اور گردش جام اور ہے “ ان کے پاس علاج کے لیے پیسے تک نہ تھے ان کی زندگی کی داستان ان کے گرم آنسوؤں اور ٹھنڈی آہوں میں پوشیدہ تھی ؎

جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے

آپ بندہ نواز کیا جانیں

( داغ )

بہت کم لوگوں نے ان کے گرم آنسوؤں اور ٹھنڈی آہوں کو محسوس کیا اور ان کے علاج کے لیے مقدور بھر کوشش کی،مولانا رحمانی نے اپنی زندگی کے بہترین ایام جس ادارہ کے لیے تج دیا تھا اس ادارہ کے ذمہ داران سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ ان کے علاج کے لیے کچھ کر سکتے۔آج مدارس اسلامیہ میں نہ طاقت ہے نہ ہی کوئی ٹھوس نظام رکھتے ہیں کہ اپنے ان جیالوں کو بڑھاپے کے ایام میں کچھ سہارا دے سکیں۔“

استاد گرامی مولانا عابد رحمانی رحمہ اللہ کے آخری ایام بھی کچھ بہت اچھے نہیں گزرے،ورنہ وہ جامعہ سلفیہ بنارس جیسے عظیم ادارہ جس کی تعمیر و ترقی میں وہ خود شریک تھے اس کو چھوڑ کر ڈومریا گنج اور لال گوپال گنج الہٰ آباد جیسے چھوٹے اداروں میں تدریس کے لیے مجبور نہ ہوتے ؎

طبیعت وہ عجب اللہ کی جانب سے پائی تھی

تھی اس میں دل پذیری دل کشی اور دل نوازی تھی

عجب سی سادگی تھی کچھ نہ اس میں خود نمائی تھی

تھی جو کچھ اس میں اخلاص کی فرما روائی تھی

وہی ارض و سماء کوہ و دمن اور راہ و رستے ہیں

کہاں اس دیس میں اب ایسے عمدہ لوگ بستے ہیں

ایسے مخلص،متواضع،منکسر المزاج،وفا شعار،ہمدرد،مشفق اور رحیم و کریم استاذ کے بارے میں مزید کیا لکھوں؟ ان کو دیکھ کر اسلاف یاد آتے اور اسلاف کی سیرتیں دل و ماغ کے نہاں خانے میں مرتسم ہونے لگتیں۔ان کی پوری زندگی ذیل کے ایک شعر میں ڈھلی رہی اور وہ اس کی سچی جیتی جاگتی تصویر بنے رہے،طلبہ ان کی بے حد تکریم کرتے اور وہ طلبہ پر بے پناہ شفیق رہتے۔رحمہ الله و غفر لہ ؎

وہ سلف کی صورت و سیرت کی زندہ یاد گار

وہ مجسم رفق و شفقت وہ سراپا انکسار

( علیم ناصری )

عبد الرزاق بن عبد الغفار

١٥ / شوال ١٤٤٧ ھ

٣ / اپریل ٢٠٢٦ م

دبی،متحدہ عرب امارات

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آہ! وہ مرد رشید و مرد حق، مرد جلیل - دی فری لانسر | دی فری لانسر