حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زندگی پر غور کرنے سے ایسے ہزاروں زاویے کھل کر سامنے آتے ہیں کہ ایک صاحب بصیرت کا ذہن عش عش کر اٹھتا ہے اور بالخصوص جن الفاظ میں اللہ تبارک وتعالی نے قرآن میں ان کا تذکرہ فرمایا ہے وہ سارے Superlative form میں ہیں یعنی مبالغے کے صیغے ہیں،
ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھیں کہ جہاں پر یہ نسبت ہمارے لیے باعث افتخار ہے وہیں کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری بھی ڈالتی ہے اور اس ذمہ داری کو ہر مسلمان کو محسوس کرنا چاہیے۔
ابراھیم علیہ السلام کی پوری زندگی،
تو آئیے ان کی تابناک اور روشن زندگی سے اپنی تاریک اور افلاس زدہ زندگی کے لیے روشنی تلاش کریں اور اس سے بھی پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک عام انسانی دنیا میں وہ کون سے حالات واسباب ہوتے ہیں جن میں بندہ اپنی حقیقت کو بھول بیٹھتا ہے اور شیطان کے مزین کیے ہوئے راستوں پر بے تحاشہ بھاگتا ہوا نظر آتا ہے،
اللہ فرماتا ہے:
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ (الحدید۱۶)
دنیاوی زندگی میں چار بشری کمزوریوں کو کتاب اللہ یہاں مینشن کررہی ہے کہ دنیاوی زندگی محض کھیل کود،
اس دائرہ کے ہر نکتہ میں ہم حیات ابراھیم علیہ السلام کا موازنہ ایک عام انسانی زندگی سے کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی حقیقت اور ابراھیم علیہ السلام کی عظمت سے واقف ہوسکیں۔
کھیل کود:
آج ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ کھیل کود بہت ڈیویلیپ ہورہے ہیں۔قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر کھیل کود کے انتظام وانصرام کے لیے ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ خرچ کیا جارہا ہے۔ہماری یہ دنیا کھیل کود سے حیران کن حدوں تک مزین ہوچکی ہے اور دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے گرد جمع ہوچکا ہے۔کوئی کھیل رہا ہے تو کوئی دیکھ رہا ہے غرضیکہ سب کے پاس اپنی تفریح کا کوئی نہ کوئی سامان ضرور موجود ہے۔
بحیثیت فرد اور معاشرہ کبھی ہم نے یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ لہو و لعب کا انتظام عالمی پیمانے پر کون لوگ کرارہے ہیں۔یہ جان لینے کی سخت ضرورت ہے کہ یہ وہی دشمنان اسلام،
جہاں انسانی دنیا لہو لعب کو ہی زندگی سمجھ رہی تھی وہیں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے دور طفلی میں ہی اپنی قوم کے سامنے شمس و قمر اور ستاروں کی خدائی کا ابطال ثابت کردیا۔اپنی زبردست قوت غور وفکر سے یہ حیرت انگیز کام کر دکھایا۔ایک مومن کو چاہیے کہ وہ آفاق وانفس میں غوروفکر کرتا رہے۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام کی غوروفکر ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ سچ کو تلاش کیا جائے اور جب یہ سچ اور حق ہمیں مل جائے تب اس پر استقامت دکھائی جائے۔یہ زریں اصول حضرت ابراھیم نے دنیا کو عطا کیا رب واحد کی تلاش میں۔
حضرت ابراھیم کا ایک واضح پیغام تھا اپنی قوم کے نام کہ:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الانعام: 79 )
تم اسی کھیل کود میں پڑے رہو میں تمھارے ساتھ یہ غفلت بھری زندگی نہیں گزار سکتا بلکہ اب میں نے غوروفکر سے اپنی منزل کو پالیا ہے اور میں تمھارے معبودان باطلہ سے بری ہوکر اپنے رخ کو پھیرتا ہوں اور خدائے واحد کی طرف یکسو ہوتا ہوں اور میرا شمار مشرکوں میں سے نہیں ہے۔
وہ یکسو اور فوکسڈ مسلمان تھے جنھوں نے اپنی عمر کے ہر پڑاو پر پوری توجہ اپنی زندگی کے ہدف کو تلاش کرنے میں لگادی۔ان کی سوچ وفکر،
یہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے دماغ کو سوچنے کی طرف مائل نہیں کررہے۔یہ زندگی کے کھیل تماشے سجانے والے تو خود مشرک،
لہو لعب کی پرکشش محفلوں کو رد کرتے ہوئے ابراھیم علیہ السلام کا اپنے سچے الہ کو تلاش کرنا اور اسے پانے کے بعد اپنے اطراف سے بری ہوکر اس کی طرف یکسو ہوجانا ہمارے لیے ایک عظیم الشان دعوت فکر وعمل ہے۔
زیب وزینت:
اس محاذ پر بھی ہم اپنی اور ان کی زندگی کا ایک تقابلی موازنہ کرتے ہیں جہاں اسوہ ابراہیمی ہمیں ایک روشن اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔حد سے تجاوز کرتی دنیاوی زیب وزینت،
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ
ایک مسلمان بحیثیت انسان کچھ اس طرف بھی دیکھے کہ اس پر کیسے حالات آن پڑے ہیں کہ پوری دنیا کی دولت چند مٹھیوں میں سمٹ چکی ہے۔آرائش وزیبائش کی انڈسٹریز ملین ڈالرز پر مشتمل ہیں۔دنیا کی ایک تہائی آبادی بھوک سے مررہی ہے وہیں اربوں کھربوں کی معیشت فیشن انڈسٹری اور زیب وزینت پر پھونکی جارہی ہے۔بنیادی ضروریات Basic Necessity پر کوئی خرچ نہیں ہورہا البتہ ہر خاص و عام فیشن پروری میں ضرور لگا ہوا ہے۔یہ انسانی زندگی کی سب سے نچلی سطح ہے جس پر ہم سب زندگی گزار رہے ہیں۔آسائش زندگی کو اعلی ترین سطح پر پہنچانے کے لیے جو پیسہ خرچ کیا جارہا ہے،
تفاخر بینکم:
یہ ایک تیسرا محاذ ہے جہاں پر اللہ رب العزت نے انسانی دنیا کو آپس میں فخر کرنے والوں پر نکیر کی ہے اور ان کے فعل کو نہایت اوچھا اور لغو کہا ہے۔قرآن اسے "تفاخربینکم" کا نام دیتا ہے۔
ابراھیم علیہ السلام نے جس ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں وہ ماحول آج کے ماحول سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔جہالت کے وہ گھنگھور اندھیرے تھے کہ ابھرتی ہوئی روشنی کو ہر قدم تیرگی کا سامنا تھا۔ہر اس صدائے حق کا گلا گھونٹ دیا جاتا،
معاشرہ پھٹتا جارہا ہے،
تفاخر بینکم کی زندگی خواہ دیندار طبقہ گزار رہا ہو یا عام طبقہ،
یہ ابراھیم علیہ السلام کا بہت بڑا اسٹینڈ تھا کہ جب ان کی پوری قوم تفاخر بینکم میں پھنسی ہوئی تھی تب آپ نے وقت کے حکمراں کو چیلنج کیا:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (البقرۃ: 258)
کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا؟ جب ابراہیم نے کہا کہ: میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی،
ابراہیم نے کہا: اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے،
بادشاہ وقت کو مخاطب کیا:
ابراھیم علیہ السلام نے اس سے کہا کہ تم یہ کیسا سسٹم چلارہے ہو اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ تم یہ شرک کی مجلسیں لگاتے ہو،
یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ایک دم Simple Logic پر حضرت ابراھیم نے بتوں کی خدائی کا انکار کردیا تھا پھر شمس وقمر اور کواکب پرستی پر بھی نکیر کی یہ کہہ کر کہ ڈوبنے والے اور تغیر پذیر چیزیں خدا نہیں ہوا کرتیں۔یہاں بھی انھوں نے بہت ہی سادہ انداز میں بنیادی پوائنٹ کے ساتھ اپنی بات بادشاہ کے سامنے رکھی کہ اگر تم واقعی خدا ہو تو سورج کو مغرب سے نکال کرلاؤ...
آپ کے اس سادہ سے جملے پر غور کیا جائے ... حضرت ابراھیم کا غضب کا Common sense , ...Down to earth انکساری اور تواضع پسند رویہ داعیان ملت کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔
آج اللہ کی طرف بلانے والوں کا المیہ ہے کہ وہ قرآن وسنت کے ڈھیروں صفحات کو تو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیتے ہیں لیکن اسوہ ابراھیمی اور اسوہ محمدی کی ہلکی سی عملی تفسیر بھی ان کے ذہن میں نقش نہیں ہوپاتی۔جواب دینے کے اس اسلوب پر غور کیا جائے کہ کس طرح بہت آسانی سے پوری مملکت کے ہر خاص وعام کے سامنےآپ نے کم سے کم لفظوں میں بادشاہ کو لاجواب کردیا۔نہ ہی لچھے دار تقریریں کیں نہ ہی فلسفیانہ موشگافیوں سے کام لیا۔قرآن کریم آپ کے اس دلکش انداز کو کہتا ہے: فبھت الذی کفر.... اور کافر ہکا بکا رہ گیا۔
یہ اسلوب ہر داعی دین کو اپنانا چاہیے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔آمین
مال و اولاد میں مسابقت:
اسوہ ابراھیمی ہمیں آواز دیتا ہے کہ اے ایک اللہ کے ماننے والو! اٹھو اور اس سسٹم کو چیلنج کرو جو لوگوں کو تباہ و برباد کررہا ہے،
قرآن کریم میں اللہ جہاں یہ فرماتا ہے کہ:
الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (الکھف:46)
مال اور بچے دنیاوی زینت ہیں،
وہیں اللہ فرماتا ہے:
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ (الحدید)
خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا،
ابراھیم علیہ السلام کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ہر دور میں اللہ کے ماننے والوں کو اپنے ہر قول و فعل سے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ مال ودولت کا فخر اور اولاد کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے آپسی فخر وغرور کبھی میری زندگی کا مقصد نہیں رہے بلکہ میں نے ہر قدم پر اپنے آپ کو اس سطح سے اونچا اٹھانے کی کوشش کی ہے۔اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ نے انھیں جو رفعت عطا کی وہ Unthinkable اور انسانی سوچ سے پرے ہے۔
جب اللہ نے کہا ابراھیم! میرا گھر ویران پڑا ہے اسے آباد کرو میں تم سے قربانی چاہتا ہوں۔ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا کیسی قربانی کہا کہ اپنی بیوی اور بچے کو اس مقام پر چھوڑ آؤ. لے گئے اور دونوں متاع عزیز کو اللہ کے سپرد کرکے لوٹنے لگے دل بوجھل تھا لیکن اللہ کی خوشنودی مطلوب تھی۔اس قربانی کے بیان کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔کیسے جذبات رہے ہوں گے ایک باپ کے سینے میں۔بیوی اور شیر خوار بچے کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑ کر واپس جارہے ہیں۔انھوں نے سوچا اس درد کے ضبط کی یہی شکل نکلتی ہے کہ رب کے سامنے اپنے آنسووں کو بہادوں کہ وہی مشکل کشا ہے:
رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (37)
کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے گھر کے قریب بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے۔اور اس چھوڑنے کا ایک عظیم الشان مقصد ہے کہ لیقیموا الصلوۃ تاکہ تیری اس زمین پر پھر سے سجدوں کا اعادہ ہوسکے۔مجھے اولاد اپنے مال و زر کی پروٹیکشن کے لیے نہیں بلکہ تیرے گھر کو سجدوں سے سجانے کے لیےچاہیے اس لیے میں اپنی اولاد کو یہاں چھوڑے جارہا ہوں۔
اللہ اکبر کتنی خوبصورت نیت،
کہتے ہیں اللہ میری تجھ سے دو ہی مطالبے ہیں۔میں نے اپنا کام کردیا ہے بس آپ یہ کردیجیے کہ لوگوں کے دلوں کو ان کی جانب موڑ دیجیے۔اللہ انھیں کھانے پینے کے میوے عطاکر تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن کر زندگی گزاریں۔
حرف آخر
ابراھیم علیہ السلام نے عام انسانی زندگی کے حسن کو اس کے مقام و کیفیت کو کامیابی کی جس معراج پر پہنچایا وہ مقام مسلمانوں کو چیلنج کرتا ہے کہ وہی ابراھیم ہیں جنھیں تم اپنا باپ کہتے ہو اور یہ وہی دین ہے جس دین کی طرف تم اپنی نسبت کرتے ہو.. انھوں نے ہر دور میں اپنی زندگی کو ایک مقصد عطا کیا اور زندگی کو بلندی کی طرف گامزن کیا۔
انسان خود پسند اور خوشامد پسند ہوتا ہے۔اس کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ جو بھی کام کرے اسے فورا اس کی جزاء اور اس پر ستائش مل جائے،
انھوں نے اللہ رب العزت سے بڑے ہی عجز کے ساتھ دعا فرمائی:
وَاجْعَلْنِىْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّـةِ النَّعِيْـمِ (الشعراء:85)
اللہ مجھے جنت کے وارثین میں سے بنادے۔
ہم اپنا سچا تجزیہ کریں کہ جس اقل ترین سطح پر ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ سوائے حرص و ھوی کے کچھ نہیں۔اگر اسوہ ابراھیمی کی ادنی سی مثال بھی ہماری زندگی میں شامل ہو تو سمجھو کہ ہماری دنیا کامیاب ہے۔ان کے دیے پیغامات پر عمل کرتے ہیں تو باوقار زندگی اور آخرت کے مالک بن سکتے ہیں۔لیکن اگر اب بھی ہم نے ابراھیم علیہ السلام کے پیغام کو نظر انداز کردیا تو .... جماعتیں تو بہت ہوں گی لیکن صرف تفاخربینکم کے لیے ... کچھ حاصل نہ ہوگا،
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْياوَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (سورۃ اعلی:16/ 17)
تم دنیا کو ترجیح دینے والے ہو جبکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
ُ





