وطن عزیز کے میڈیا میں اس وقت مسلمان عورت کی مظلومیت کی جو داستان چھڑی ہوئی ہے اور کئی ایک مسائل کے حوالے سے جو مکالمہ جاری ہے،
اسلام میں عورتوں کے حقوق پر جتنی تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے،
ایک مسلمان عورت اپنے والد،
اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام سورۃ النساء (۱۱۔۱۴) میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔بعض وضاحتیں احادیث پاک میں ملتی ہیں۔ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن اور حدیث کے ان احکام پر عمل کریں۔عورتوں میں وراثت تقسیم کرنے کی سنت مردہ ہوچکی ہے،
وراثت کے احکام اور مسائل میں مسلمانوں کے درمیان کوئی خاص اختلاف نہیں ہے بلکہ وراثت کے موضوع پر ایک ہی کتاب ’’السراجی‘‘ تمام مکاتب فکر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔وراثت کا تعلق حقوق اور معاملات سے ہے،
ذیل میں بیٹی،
(۱) بیٹی کا وراثت میں حصہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:
یُوصِیْکُمُ اللّہُ فِیْ أَوْلاَدِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیَیْْنِ فَإِن کُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَیْْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ وَإِن کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْف (النساء۴؍۱۱)
’’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔اگر میت کی وارث دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو انھیں ترکہ کا دوتہائی دیا جائے گا اور اگر وارث ایک ہی بیٹی ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔‘‘
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اگرکسی مسلمان مرد یا عورت کا انتقال ہو اور انھوں نے اپنے پیچھے بیٹے اور بیٹیاں دونوں چھوڑی ہیں تو جائیداد اس طرح تقسیم ہوگی کہ دو بیٹیوں کے برابر ایک بیٹے کا حصہ ہوگا۔اس کا بالکل سیدھا طریقہ یہ ہے کہ فرض کریں کسی میت نے دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں تو بیٹوں کو چار سمجھ لیں اور دونوں بیٹیوں کو ان کے ساتھ شامل کرکے تعداد چھ بنالیں اور پوری جائیداد چھ حصوں میں تقسیم کرکے دو دو حصہ بیٹوں کو اور ایک ایک حصہ بیٹیوں کو دے دیں۔لیکن اگر کسی میت نے صرف ایک بیٹی چھوڑی ہے تو ایسی صورت میں بیٹی صرف نصف جائیداد کی وارث ہوگی اور اگر کسی میت نے صرف دو یادو سے زیادہ بیٹیاں چھوڑی ہیں،
(۲) وراثت میں ماں کا حصہ
ماں اپنی اولاد کی وفات کے بعد اس کی جائیداد سے ورثہ پائے گی۔اولاد چاہے بیٹا ہو یا بیٹی،
اللہ کا ارشاد ہے:
وَلأَبَوَیْْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِن کَانَ لَہُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ یَکُن لَّہُ وَلَدٌ وَوَرِثَہُ أَبَوَاہُ فَلأُمِّہِ الثُّلُثُ فَإِن کَانَ لَہُ إِخْوَۃٌ فَلأُمِّہِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصِیْ بِہَا أَوْ دَیْْنٍ آبَآؤُکُمْ وَأَبناؤُکُمْ لاَ تَدْرُونَ أَیُّہُمْ أَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعاً فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّہِ إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیْما حَکِیْما(النساء۴؍۱۱)
’’اگر مرنے والا مرد یا عورت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کوترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے۔اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے جب کہ میت کی کی ہوئی وصیت پوری کردی جائے اور اس پر جو قرض ہو وہ ادا کردیا جائے۔تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے نفع کے لحاظ سے کون تم سے قریب تر ہے۔یہ حصے اللہ نے مقرر کردیے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔‘‘
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والا مرد یا عورت اگر اولاد چھوڑ کر گیا ہے تو ایسی صورت میں ماں کو جائیداد کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر مرنے والے نے اولاد نہیں چھوڑی ہے تو ماں کو جائیداد کا تیسرا حصہ ملے گا لیکن اگر مرنے والے کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں کو صرف جائیداد کا چھٹا حصہ ملے گا۔اس طرح معلوم ہوا کہ ماں کسی بھی صورت میں جائیداد سے محروم نہیں ہے لیکن ہمارے سماج کو دیکھیے کہ وہ ماں کے اس مقام کو سمجھنے اور جائیداد میں اسے حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔برادران وطن نے بیٹی کی سسرال کا پانی حرام کررکھا ہے،
(۳) بیوی کا وراثت میں حصہ
بیوی اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں حصہ پائے گی۔اسے اسلام نے کسی بھی حال میں شوہر کی جائیداد سے محروم نہیں کیا ہے۔چاہے اس نے شوہر کے ساتھ طویل زندگی گزاری ہو یا مختصر۔ہم نے دیکھا ہے کہ شادی کے فوراً بعد اگر کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو سماج ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا کہ اسے اس کے شوہر کی جائیداد میں سے حصہ دیا جائے بلکہ میکہ والے اسے اپنے گھر لے آتے ہیں اور سسرال کے لوگ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ چلو ایک بوجھ ہلکا ہوگیا۔دوسری شادی عورت کرے یا نہ کرے،
وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِن لَّمْ یَکُن لَّکُمْ وَلَدٌ فَإِن کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُم مِّن بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوصُونَ بِہَا أَوْ دَیْْن(النساء۴؍۱۲)
’’اور تمھاری بیویاں تمھارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو،
اس آیت میں قرآن بیوی کی صرف دو حالتیں بیان کرتا ہے۔اس کے شوہر کے کوئی اولاد ہے یا نہیں۔اگر شوہر نے اپنے پیچھے اولاد چھوڑی ہے خواہ وہ دوسری بیوی ہی سے کیوں نہ ہو،
وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد قرآن نے ایک خاص وارننگ دی ہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔اسی سے اس قانون کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنا نازک معاملہ ہے۔اگر اس سلسلے میں کوتاہی ہوئی تو قیامت کے دن کیا ہوگا۔اللہ کی وارننگ سنیں:
تِلْکَ حُدُودُ اللّہِ وَمَن یُطِعِ اللّہَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ وَمَن یَعْصِ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَاراً خَالِداً فِیْہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُّہِیْن(النساء۴؍۱۴)
’’یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرجائے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے۔‘‘
ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے درمیان وراثت کے مسائل بیان کیے جائیں اور اس کی اہمیت بتائی جائے۔اس عذاب سے متنبہ کیا جائے جو وراثت نہ دینے کی وجہ سے قیامت کے دن برداشت کرنا پڑے گا۔جس طرح سے دین کے دیگر معاملہ میں مسلمان حساس ہیں کوئی وجہ نہیں کہ معلومات ہونے پر وہ وراثت کے قانون کو نہ مانیں۔ہماری بعض دینی تنظیمیں کئی ایک موضوعات پر ہفتہ مناتی ہیں اور ملک کے کونے کونے میں اس کے لیے سیمینار اور جلسے منعقد کرتی ہیں،





