قاہرہ کے ایک محلہ منشیہ میں یکم اکتوبر 1886ء کو احمد امین کی ولادت ہوئی۔اس کے والد ابراہیم حافظ قرآن اور ازہر کے فارغ التحصیل تھے۔فراغت کے بعد وہیں مدرس رکھ لیے گئے تھے۔اسی کے ساتھ وہ مسجد امام شافعی میں امام و مدرس اور مطبعہ امیریہ بولاق میں پروف ریڈنگ کے کام پر فائز تھے۔وہ ایک اچھے کاتب بھی تھے اور مخطوطات کی شکل میں موجود بہت سی کتابوں کی نقل اپنے ہاتھ سے تیار کرلیتے تھے۔اس طرح انہوں نے جامع ازہر کی نصابی کتابوں کے علاوہ شرعی علوم،
احمد امین کی بسم اللہ گھر پر ہی ان کے والد نے کرائی۔پھر وہ محلہ منشیہ کی مسجد الرماح میں داخل ہوا اور 1891 ء سے لے کر آئندہ پانچ سالوں تک یکے بعد دیگر چار مکتبوں میں منتقل ہوکر قرآن کریم کا حفظ کیا اور لکھنا پڑھنا سیکھا۔پھر وہ عباس اول کی والدہ کے ابتدائی مدرسہ میں داخل ہوا جو اپنی شاندار اور خوبصورت عمارتوں کی وجہ سے ایک مثالی مدرسہ تھا۔اس مدرسہ میں وہ چار سال تک پڑھتا رہا اور فارغ اوقات میں اپنے والد سے خصوصی استفادہ کی وجہ سے عربی زبان اور حساب میں اپنے ساتھیوں پر فائق رہا البتہ فرانسیسی زبان میں الگ سے کسی سے نہ پڑھنے کی وجہ سے وہ کمزور رہا۔
1900ء میں پھر چودہ سال کی عمر میں وہ ازہر میں داخل ہوا لیکن وہاں کے طریقہء تدریس اور تعلیمی نظام کو وہ پسند نہ کرتا تھا۔چنانچہ اس کے والد نے اس کے لئے مختلف علوم وفنون جیسے تفسیر وحدیث،
اس کے والد ازہر کے ممتاز اساتذہ میں سے تھے وہ طلبہ کو متن کے حواشی اور اس کی تقاریر میں الجھانے کے قائل نہ تھے چنانچہ انہوں نے احمد امین کے لیے فن نحو کی مطبوعہ کتابیں اختیار کیں جن پر حواشی نہ تھے اور بالترتیب اسے شیخ خالد کی شرح الآجر وفیۃ ابن ہشام کی قطر الندی وشذور الذھب اور ابن عقیل کی شرح ألفیۃ ابن مالک پڑھائی۔اس کے علاوہ انہوں نے ثعالبی کی فقہ اللغۃ،
1907 ء میں عدالت کے لئے جج تیار کرنے کے لیے سعد زغلول کی زیر نگرانی مدرسۃ القضاء الشرعی کا قیام عمل میں آیا۔خوش قسمتی سے اسی سال احمد امین کو اس مدرسہ میں داخلہ مل گیا۔یہ مدرسہ اپنے دقیق تعلیمی نظام،
1932 ء میں ہالینڈ کے شہر لیڈن میں اور 1938ء میں بلجیکا کی راجدھانی بروکسل (Bruxelles) میں منعقد ہونے والی مستشرقین کی کانفرنسوں میں شریک ہوا۔اول الذکر میں اس کا موضوع ’’نشأۃ المعتزلۃ‘‘ اور دوسری میں ’’ابوحیان التوحیدی وکتابہ الامتاع والمؤانسۃ‘‘ تھا۔1937 ء میں حجاز مقدس کا سفر کیا اور فریضئہ حج کی ادائیگی کی۔1939 ء میں کلیۃ الآداب کا پرنسپل بنایا گیا لیکن دوسال بعد اس منصب سے مستعفی ہوگیا۔وہ زندگی بھر ’’لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر‘‘ کا رئیس رہا اور اس کے کاموں کی نگرانی کرتا رہا۔علمی وتحقیقی اور ترجمہ شدہ کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے اس لجنہ کی خدمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔وہ ملک کے مختلف جرائد ومجلات کو اپنا قلمی تعاون دیتا رہا جیسے اللواء،
یکم اکتوبر 1946 ء کو بعمر ساٹھ سال احمد امین ریٹائر ہوا۔یکم جنوری 1947ء کو الجامعۃ الشعبیۃ کے ادارہ ثقافیہ کا مدیر بنائے جانے کے ساتھ ہی ادب وتنقید اور ادب کے طریقۂ تدریس کے موضوع پر لیکچر دینے نیز کتاب ’’الوساطۃ بین المتنبی وخصومہ‘‘ کے دراسہ کا مکلف کیا گیا۔وہ پوری زندگی اس ادارہ سے منسلک رہا تا آنکہ بروز اتوار 27 /رمضان 1373ھ مطابق 30 /مئی 1954ء کو اس دارفانی سے کوچ کرگیا۔
28 / فروری 1948ء کو جامعہ فؤاد اول نے امتیازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی بعد ازاں وہ ’’ڈاکٹر‘‘ احمد امین کے لقب سے ملقب ہوا۔اسی کے ساتھ وہ اپنے علمی انتاج کے اعتراف میں فؤاد اول ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا جس کا مالی رمز ایک ہزار مصری جنیہ تھا۔
اپریل 1916 ء میں احمدا مین کی شادی ہوگئی تھی،
اکثر علماء ازہر علوم دینیہ ولغویہ کے ماہر ہوا کرتے ہیں،
احمد امین نے اپنی مؤلفات،
احمد امین نے اپنے ان معروف تینوں سلسلوں میں اسلامی تہذیب اور اس کے پیچھے کارفرما عقلیت کو تین ابواب میں تفصیل سے بیان کیا ہے پہلا باب سماجی پہلوؤں کونمایاں کرتا ہے،
"فجر الاسلام" میں تینوں ابواب ممزوج ومختلط ہوگئے ہیں کیونکہ اسلامی تمدن کو اس وقت وہ عروج حاصل نہ ہوا تھا جو بعد کے ادوار میں حاصل ہوا۔یہ کتاب پہلی بار 1929ء میں (356) صفحات پر مشتمل لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر (قاہرہ ) سے ڈاکٹر طٰہٰ حسین کے عمدہ مقدمہ کے ساتھ شائع ہوئی۔اس وقت ہمارے سامنے دار التقوی للطبع والنشر والتوزیع (قاہرہ) کی جدید طباعت ہے۔سن طباعت 1439 ھ مطابق 2018ء ہے اور تعداد صفحات (336) ہے۔یہ کتاب صدر اسلام سے لے کر خلافت بنی امیہ کے اواخر تک عقلی زندگی سے بحث کرتی ہے۔ایک جلد کی اس کتاب میں سات اجزاء ہیں اور ہر جزء چند فصلوں کو محیط ہے۔مؤلف نے ہر جزء کے اخیر میں مصادر باب اور کتاب کے اخیر میں زیر بحث دور کے اہم حوادث وواقعات ہجری ومیلادی تاریخ کے ساتھ درج کردیے ہیں جس سے کتاب کی معنویت دوبالا ہوجاتی ہے۔
ساتوں اجزاء کی سرخیاں بالترتیب یہ ہیں:
العرب فی الجاھلیۃ،
دوسری کتاب ’’ضحی الاسلام‘‘ تین جلدوں کو محیط ہے۔جملہ صفحات کی تعداد (959) ہے۔مقدمہ وخاتمہ پر مشتمل اس کتاب کی پہلی جلد میں دو ابواب،
الحیاۃ الاجتماعیۃ فی العصر العباسی الأول،
تیسری کتاب "ظھر الاسلام" (883) صفحات پر مشتمل چار جلدوں میں مطبوع ہے۔اس کتاب سے مؤلف کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیسری صدی ہجری کے نصف اخیر اور چوتھی صدی ہجری کی عقلی تحریک کے وسیع دراسہ کے لیے مقدمہ ہو جو فکری وعقلی اعتبار سے اسلامی تاریخ کا سب سے زریں دور ہے۔اس کتاب کے پہلے جزء کی دو سرخیوں کے تحت چند فصلیں ہیں پہلی سرخی عہد متوکل سے لے کر چوتھی صدی ہجری کی اجتماعی زندگی سے متعلق ہے اور دوسری اس زمانے کی عقلی زندگی کے مراکز سے بحث کرتی ہے۔دوسرے جزء میں چوتھی صدی ہجری کی اجتماعی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے علمی تحریکات کے متعلق تفصیلی معلومات پیش کی گئیں ہیں۔تیسرا جزء اندلس کی عقلی زندگی اور اس کے متعلقات کے لیے خاص کیا گیا ہے۔چوتھے جزء میں دینی فرقوں (معتزلہ،
اس کتاب کے آخری جزء کے اخیر میں (33) صفحات کی تذیلی ہے جس میں چھٹی صدی ہجری سے لیکر عصر جدید تک کی علمی وادبی اور دینی تحریکات کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے علمی میدان میں حدت وابتکار کی قلت کے اسباب بیان کیے گئے ہیں۔
ان تینوں کتابوں کے تعارف میں بطور خلاصہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تینوں کتابیں اسلام کی ابتدائی چار صدیوں کی دینی وسیاسی،
احمد امین کی دیگر مؤلفات
1۔زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث: مقدمہ اور خاتمہ پر مشتمل (349) صفحہ کی یہ کتاب ماضی قریب کے دس مصلحین امت کی سوانح اور ان کے اصلاحی کارناموں کو بیان کرتی ہے۔مؤلف نے اپنا مقصد تالیف ان الفاظ میں بیان کیا ہے ’’مجھے امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے نوجوانوں کی ہمت بڑھے گی،
یہ کتاب مطبعہ لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر (قاہرہ) سے 1368ء = 1949 ء میں شائع ہوئی تھی۔بعد میں دار الکتاب العربی (بیروت) سے بھی شائع ہوئی لیکن یہاں کی طباعت میں سن اشاعت درج نہیں ہے۔جن دس مصلحین کی حیات وخدمات اور ان کے اصلاحی کارناموں کو مؤلف نے موضوع بحث بنایا ہے ان کے اسماء یہ ہیں
(1) محمد بن عبد الوھاب (1791-1703ء)
(2) مدحت پاشا ( 1873-1822ء)
(3) السید جمال الأفغانی (1897-1839ء)
(4) السید أحمد خان (1898-1817ء)
(5) السید أمیر علی (1828-1849ء)
(6) خیر الدین پاشاالتونسی (1879-1810 ء)
(7) علی پاشا مبارک الرومی (1893-1823ء)
(8) عبد اللہ الندیم (1896-1845 ء)
(9) السید عبدالرحمن الکواکبی ( 1902-1848ء)
(10) الشیخ محمد عبدہ (1905-1849ء)۔
2۔کتاب الأخلاق (ص233) اس کتاب میں اخلاقیات کی بابت مختلف افکار و نظریات کو بیان کیا گیا ہے۔مکتبہ النھضۃ المصریۃ سے 1967ء میں نویں بار طبع ہوئی۔یہ کتاب مقدمہ اور تین کتابوں کا جامع ہے۔مقدمہ میں علم الأخلاق کی تعریف،
3۔قاموس العادات والتقالید والتعابیر المصریۃ (مصر کے عادات واطوار،
4۔’’کتاب الشرق والمغرب ‘‘ یہ کتاب مؤلف کی وفات کے بعد طبع ہوئی۔
5۔’’حیاتی‘‘ (ص301) یہ احمد امین کی خود نوشت سوانح ہے جس میں اس نے بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کی یادوں،
6۔’’فیض الخاطر’’ (10 / اجزاء )یہ احمد امین کے ادبی،
(ج/ 1) کیف یرقی الأدب،
(ج/ 2) العربی لایشعر الا فی بیئتہ،
(ج/ 3) الاسلام والاصلاح الاجتماعی،
(ج/ 4)تحیۃ العید،
(ج/ 5)خطرات فی اللغۃ،
(ج/ 6) منطق العقل ومنطق الدنیا،
(ج/ 7) الشرق فی محنۃ،
(ج/ 8) لماذاتغضب المرأۃ؟ آفۃ الشرق التقالید،
(ج/ 9) مادیۃ الغرب وروحانیۃ الشرق،
(ج/ 10) تراثنا القدیم،
7۔’’ یوم الاسلام‘‘ اس کتاب کے شروع میں اسلام کی اصول مبادی پر روشنی ڈالی گئی ہے پھر ازابتدا تا عصر حاضر ان احوال وظروف سے تعرض کیا گیا ہے جو بسااوقات اسلام کے حق میں مفید اور بسا اوقات مضر ثابت ہوئے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام نے اپنے غلبہء اقتدار کے زمانے میں دیگر ادیان ومذاہب والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور جب اس پر کسمپرسی اور آزمائش کا دور آیا تو انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا۔یہ کتاب 1952ء کی ابتدائیں مرتب کی گئی،
مؤلف کی صراحت کے مطابق اس کتاب کی تالیف کا دواہم مقصد یہ ہے:
(1) اسلام کے اصول وجوہر اور اس کی عظمت رفتہ کا بیان۔
(2) زوالِ امت کے اسباب متعین کرنے میں زعماء ملت نے بہت زیادہ اپنے آپ کو تھکایا ہے اس کتاب میں اصل اور حقیقی اسباب کی تعیین تاریخ کو حوالے سے کی گئی ہے تاکہ اصلاح احوال کی فکر رکھنے والے اپنی اور قوم کی اصلاح کے لیے صحیح طریقہ ومنہج اختیار کریں۔
حال ہی میں یہ کتاب مؤسسۃ اقراء النشروالتوزیع (قاہرہ) سے شائع ہوئی ہے۔تعداد صفحات (175) ہے۔مؤلف نے اپنی عادت کے مطابق تاریخ اسلام کے اہم واقعات وحوادث کی فہرست میلادی تاریخ کے ساتھ کتاب کے اخیر میں درج کردی ہے۔
8۔احمد امین نے ڈاکٹر زکی نجیب محمود کے اشتراک سے تین کتابیں تالیف کیں۔پہلی کتاب ’’میادی الفلسفۃ‘‘ ہے جس کا اس نے 1918ء میں ترجمہ کیا تھا۔مختصر حجم کی یہ کتاب اپنے باب میں عمدہ ہے۔جس میں نئے انداز سے فلسفہ کے معنی ومفہوم کا خلاصہ اختصار کے ساتھ اس کی مختلف شاخوں کی وضاحت اور فلسفہء یونانی قصہ کا ذکر ہے۔
اس کتاب میں سترہ فصلیں ہیں جن میں فلسفہء یونانی،
یہ کتاب (336) صفحات میں ساتویں بار مطبعہ لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر (قاہرہ) سے 1970ء میں طبع ہوئی۔
دوسری کتاب ’’قصۃ الفلسفۃ الحدیثۃ‘‘ ہے۔سن طباعت 1967ء اور تعداد صفحات (469) ہے۔اس کتاب میں زمانہء قدیم اور عہد وسطیء میں فلسفہ کی بابت کلام کیا گیا ہے اور برٹرانڈرسل Bertrand Russel (1970-1872ء)کی کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے مغربی فلسفہ کے بارے میں گفتگوکی گئی ہے۔کتاب کا ترجمہ زکی نجیب محمود نے اور مراجعہ احمدامین نے کیا ہے۔
تیسری کتاب ’’قصۃ الأدب فی العالم‘‘ چار اجزاء میں ہے۔
یہ کتابیں عقل اسلامی کے فہم میں احمد امین کے لیے معاون ثابت ہوئیں اور یہ اور ان جیسی کتابوں کی بدولت کی بدولت ہی وہ غور وفکر کرنے،
9۔’’الی ولدی‘‘ احمد امین نے 1949 ء اور 1950 ء کے درمیانی عرصے میں مجلہ الھلال میں بارہ مقالے لکھے۔ان مقالات میں اس نے اپنے بیٹے کے نام قیمتی نصیحتیں اور اپنی زندگی کے تجربات کا خلاصہ نچوڑ جمع کیا ہے۔احمد امین کے ایک بیٹے کی تعلیم انگلینڈ میں مکمل ہوئی،
یہ کتاب مکتبہ النھضۃ المصریۃ (قاہرہ) سے (182) صفحات میں چوتھی بار 1976ء میں طبع ہوئی۔
10۔’’النقد الأدبی‘‘ یہ کتاب چوتھی بار 1972ء میں دواجزاء میں شائع ہوئی۔تعداد صفحات (456) ہے۔اس کتاب کے پہلے جزء میں جن امور سے متعلق گفتگو کی گئی ہے وہ یہ ہیں: نقد ادبی اور اس کی تحلیل،
احمد امین کی دیگر مؤلفات یہ ہیں:
(1) حی بن یقظان
(2) ھارون الرشید
(3) الصعلکۃ والفتوۃ فی الاسلام
(4) المھدی والمھدویۃ
احمد امین کی علمی کاوشیں تصنیف وتالیف ہی تک محدود نہ تھیں بلکہ اس نے اہم کتابوں کے ترجمہ میں بھی حصہ لیا جیسے قصۃ الفلسفۃ اور قصۃ الأدب۔اسی طرح ڈاکٹر شوقی ضیف کے اشتراک سے قدیم کتابوں کی تحقیق اور ان کی نشر واشاعت میں بھی اس کی خدمات قابل قدر ہیں مثلا ابوحیان التوحیدی کی ’’الامتاع المؤانسۃ‘‘ ’ابن عبد ربہ کی ’’العقد الفرید‘‘ شرح دیوان الحماسۃ،
.....
(1) أعلام النشر والشعر فی العصر العربی الحدیث ج/ 3ص 94-67 لحمد یوسف کوکن وتاریخ العربیۃ وآدابھا لمحمد الفاروقی ومحمد اسماعیل المجددی ص 165-164واستفادہ از تالیفات احمد آمین.





