وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ،
سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ماہ رمضان المبارک موافق 21 جون 2017 کو جب جواں رعنا شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کو ولی عہد نامزد کیا تو لوگوں کی ان تمام قیاس آرائیوں پہ یکبارگی بریک سا لگ گیا جو 2015 سے مسلسل چلی آرہی تھیں۔گو کہ اعلان بہت مختصر اور دوٹوک تھا لیکن اس کے عواقب متعدد اور گوناگوں تھے۔
محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو ریاض کے شاہی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ سعود یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری حاصل کی اور کم عمری میں ہی انھیں کئی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں جو انھوں نے بخوبی نبھائیں۔عملی زندگی کی شروعات وزیر دفاع کے طور پر کی۔بھر پور اعتماد اور عزم مصمم کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا تاخیر سعودی و یمن بارڈر پر شرانگیز ایران نواز حوثی ملیشیا کی سرکوبی کے لیے"عاصفۃ الحزم" نامی مہم کا آغاز کردیا جو اب تک ایک کامیاب آپریشن سمجھا جاتا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کی فکر ونظر عام نوجوانوں سے بالکل مختلف ہے۔انھوں نے بڑی ہی دور اندیشی اور گہری سوچ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کسی بھی ملک کی کامیابی کی ضمانت اس کا وژن ہوتا ہے اور وہ وژن اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہاں کی مخفی قوتوں کا ادراک کرکے انھیں بروئے کار لایا جائے۔چنانچہ محمد بن سلمان نے ملک کی معاشی اور سماجی تبدیلیوں کا بیڑا اٹھایا اور پوری تندہی سے 30 مئی 2016 کو سعودی وژن 2030 متعارف کرایا۔محمد بن سلمان کے درونِ خانہ میں سعودیہ کی ایک ایسی روشن تصویر جاگزیں تھی جو صرف سعودیہ کا ہی خاصہ ہے۔سعودی عرب جو حرمین شریفین کا موطن اور ایک ارب سے زائد مسلمانوں کا قبلہ ہے بلا شک دنیا کا سب سے مقدس بقعۂ ارض ہے۔انھیں قوی امید ہے کہ ان کے ملک کا یہ اسلامی اور عربی رشتہ ان کی کامیابی کا خشت اوّل ثابت ہوگا۔
سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے بے پایاں امکانات ہیں،
اسی طرح سعودیہ کا جغرافیائی محل وقوع بڑا اسٹریٹیجک ہے۔تین براعظموں سے باہمی ربط کے ناطے وہ دنیا کا نہایت اہم گیٹ وے اور اس کا بڑا رقبہ بیشتر اہمیت کی حامل آبی گزرگاہوں پہ محیط ہے۔اس طرح یہ کامیابی کا تیسرا عنصر ہے۔
مختصرا یوں کہا جاسکتا ہے کہ جن اصولوں پر سعودی وژن کی بنیاد رکھی گئی وہ یہی تین عناصر ہیں؛
پہلا ملک کے اسلامی اور عربی تعلق کی گہرائی
دوسرا پایونیرنگ سرمایہ کاری کی قوت
تیسرا تین براعظموں کے رابطے کا محور
یہی وہ تین عناصر ہیں جن پر سعودی وژن کی نیو رکھی گئی ہے اور انہی عوامل پر مبنی خاکوں میں رنگ بھرنے کے لیے محمد بن سلمان دل وجان سے کوشاں ہیں۔
کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی،
ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں جدید سعودیہ کی منزل کا سفر شروع ہوچکا ہے،
آئیے دیکھتے ہیں سعودی وژن ہے کیا!
سعودی وژن 2030 کے اہم مقاصد
۱-خوشحال معیشت کا قیام:
-نان پیٹرولیم پروڈکٹس کے ایکسپورٹ کو حالیہ 16% سے بڑھا کر 20% تک پہنچانا
-لوجیسٹک سرویسیز کے انڈیکس میں مملکت کو 49ویں مقام سے عالمی پیمانے پر 25ویں درجے اور علاقائی سطح پر نمبر 1 پر لا کھڑا کرنا
-کمپٹیشن پیدا کرکے مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں پرائیویٹ سیکٹر کی مضبوط حصے داری کو 40% سے 65% تک پہنچانا
-فارين ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کو 3.8% سے عالمی شرح 5.7% تک لے جانا
-عالمی کمپیٹیٹو انڈکس میں حالیہ 25ویں مرکز سے ٹاپ 10 میں منتقل کرنا
-پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ایسیٹ کی قیمت کو 600 بلین سے 7 ٹریلین سعودی ریال تک بڑھانا
-تیل اور گیس سیکٹر میں گھریلو مواد کی شرح 40% سے بڑھا کر 75% تک پہنچانا
-معيشت کا پیمانہ بڑھا کر 19ویں مقام سے عالمی سطح پر ٹاپ 15 میں لے جانا
-میدان عمل میں عورتوں کی شراکت 22% سے 30% تک پہنچانا
-جی ڈی پی میں چھوٹے اور متوسط حجم کی صنعتوں کو 20% سے 35% تک فروغ دینا
-بے روزگاری کی شرح کو 11.6% سے گھٹا کر 7% تک لانا
۲-زندہ دل اور وائبرینٹ سماج
-ملک میں متوقع عمر کا تناسب 74 سے آگے 80 سال کرنا
-سماجی راسمال کے انڈکس میں 26 سے اٹھا کر 10ویں مقام پر لانا
-سعودیہ کے تین شہروں کو دنیا کے ٹاپ 100 شہروں کی فہرست میں شامل کرنا
-ہفتے میں کم از کم ایک بار جسمانی ورزش کرنے والوں کا ایوریج 40% کرنا
-مملکت کے اندر ثقافت اور تفریح پر گھریلو اخراجات میں 2.9% سے 6% تک کا اضافہ کرنا
-یونيسکو میں رجسٹرڈ آثار قدیمہ کی تعداد کم از کم دگنی کرنا
-عمرہ کی غرض سے آنے والے اللہ کے مہمانوں کے استقبال کے لیے 8 ملين کے بجائے 30 ملین معتمر کی بساط پیدا کرنا
۳-حوصلہ مند وطن:
-غیر منافع بخش سیکٹر میں ہر سال 1 ملین رضاکار تک رسائی حاصل کرنا
-ملکی گھریلو پیداوار میں غیر منافع بخش سیکٹر کی شراکت 5% تک لے جانا
-ان کی کل آمدنی سے گھریلو بچت کے تناسب کو 6% سے 10% تک بڑھانا
-ای گورنمنٹ کے انڈیکس میں حالیہ 36ویں مقام سے آگے بڑھ کر ٹاپ 5 پوزیشن تک رسائی حاصل کرنا
-حکومتی کارکردگی کے انڈیکس میں 80 سے اٹھ کر 20 تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرنا
-تیل کے علاوہ حکومت کی آمدنی میں سالانہ 1 ٹریلین ریال تک کا اضافہ کرنا
وژن کے مذکورہ بالا مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے متعدد پروگرام بنائے گئے ہیں،
ایک عظیم اسلامی میوزیم کا قیام
تاریخی اعتبار سے سعودی کا شہر مکہ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش ہے۔دوسرا شہر مدینہ منورہ ہے جہاں پہلی باضابطہ اسلامی سوسائٹی کا جنم ہوا اور وہیں سے اسلامی ریاست کا آغاز ہوا۔اس مجوزہ عظیم اسلامی میوزیم کو عالمی پیمانے پر ورلڈ کلاس اثاثے سے لیس کیا جائے گا۔وہاں ایک بڑی لائبریری کے ساتھ اسلامی کلچر اور ہیریٹیج پر مبنی بین الاقوامی ریسرچ سینٹر بھی ہوگا۔وہاں آ کر زائرین اسلامی تاریخ سے استفادہ کے ساتھ ساتھ اسلام کے موروثی اور مختلف ادوار پر مشتمل تہذیب وثقافت کے علاوہ نت نئے پروگراموں سے بھی محظوظ ہوسکیں گے۔اسلامی کلچر اور ہیریٹیج کو تازگی دینے کی راہ میں یہ بے مثال کوشش ہوگی۔
دفاعی سیکٹر
سعودی عرب دنیا کا تیسرا ملک ہے جو دفاعی امور کے لیے بڑا بجٹ رکھتا ہے لیکن قومی دفاعی صنعت کاری میں بہت پیچھے ہے۔تا حال دفاع کے سیکٹر میں اس کے پاس صرف سات کمپنیاں اور دو ریسرچ سینٹرز ہیں۔اس وژن کا ایک ٹارگٹ یہ بھی ہے کہ دفاعی میدان میں قومی سطح پر پروڈکشن کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔دفاعی آلات و اسلحہ سازی کا عمل تیز کیا جائے اور دفاع سے متعلق جو بھی پیداوار ہو اسے ریجنل اور عالمی پیمانے پر ایکسپورٹ بھی کیا جائے۔اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ صنعتی کارخانوں کو فروغ دیا جائے۔
فی الحال سعودی عرب کے پاس نیچرل انرجی کے متعدد ذرائع وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن مستقبل کو دھیان میں رکھتے ہوئے قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) پیدا کرنے کی راہ میں اقدامات ہورہے ہیں اور آنے والے ایام میں اس کو مزید بڑھاوا دیا جائے گا۔
سعودی عرب نے اپنے وژن 2030 میں سعودی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تیل پر انحصار کو ختم کرکے تیل کے شعبوں سے باہر نکل کر بڑا فیصلہ لیا ہے۔اس ضمن میں با مقصد لائحۂ عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے،
نیوم سٹی
یہ پروجیکٹ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خواب ہے جس کی تعبیر وہ جلد از جلد چاہتے ہیں۔نیوم یا Neom سعودی عرب کا ایک کثیر ملکی اور کثیر سرحدی مجوزہ اقتصادی شہر کا نام ہے جس کا رقبہ 10,230 مربع میل (26,500 مربع کلومیٹر) ہے۔یہ شہر مشترکہ طور پر سعودی عرب میں بحر احمر،
مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا نیوم پروجیکٹ مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا تجارتی اور سیاحتی منصوبہ ہوگا۔یوں تو اس منصوبے کے اعلان کے بعد اس کے سیاسی مضمرات کے حوالے سے نہ جانے کیسی کیسی افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ منتظمہ افواہوں پہ دھیان نہ دے کر پروجیکٹ کی تعمیر پہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
نیوم سٹی کا پلان ’Smart City Region‘ پر مشتمل ہے۔اس پلان کے تحت 9 اقتصادی محاذوں پر کام کیا جائے گا جو اس پروجیکٹ کا اہم حصہ ہیں۔ان میں پانی،
نیوم منصوبے کے تحت غیر روایتی خوراک کی تیاری کے لیے کارخانوں کا قیام،
اس منصوبے کو لے کر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے تعلق سے بھی بہت ساری اٹکلیں اور قیاس آرائیاں گشت کر رہی ہیں لیکن تا دم تحریر یہ سب شکوک وشبہات ہی ہیں۔اب تک کسی موثوق ذرائع سے ان سرگرم افواہوں کی تصدیق یا توثیق عمل میں نہیں آئی ہے۔تاہم یہ بات زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے دبئی کے سیاحتی اور اقتصادی منصوبوں کے مد مقابل ایک نئے اور موڈرن شہر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 500 بلین ڈالر بتایا جا رہا ہے۔
اس وژن کے اہداف و مقاصد کو عملی شکل دینے کے لیے جو پروگرام اور منصوبے وضع کیے گئے ہیں ان کے معاینے اور مانیٹرنگ کی غرض سے مختلف سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور ان کمیٹیوں کی کارکردگیوں پر نگاہ رکھنے کے لیے دوسری ذیلی کمیٹیاں بھی ہیں جو ان پر ہر وقت واچ کرتی ہیں۔
یہ سارا منصوبہ اور وژن کسی اور فرد بشر کا نہیں بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ہے جو اس نوجوان کی ولولہ انگیز قیادت کا برملا اعلان ہے۔ذرا غور کریں صرف دو سال کی مختصر مدت میں اس جواں سال ولی عہد کا ستارہ جگمگا اٹھا،
کون نہیں جانتا کہ ایک اچھے قائد کی اہمیت وافادیت کیا ہوتی ہے۔قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے جن پختہ صلاحیتوں اور نمایاں خصوصیات کی حاجت درکار ہوتی ہے ان سے سبھی واقف ہیں۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اب تک اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ زمانہ شناس اور وقت کے تقاضوں سے کما حقہ آگاہ ہیں۔وہ اپنے اندر لیڈرشپ کی بصیرت رکھتے ہیں اور بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اندر لائی گئی کچھ نمایاں تبدیلیوں اور محمد بن سلمان کے عہد ساز اقدامات کی وجہ سے اسلامی دنیا کے کچھ دقیانوس اور بوالہوس قسم کے لوگوں نے بڑا واویلا مچایا،
نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
یہ بے کلاہ ہے سرمایۂ کلہ داری





